تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت پر الزامات مگرثبوت ندارد

zafarعوامی نیشنل پارٹی کے سابق رہنماء سینیٹراعظم خان ہوتی کی جانب سے پارٹی کی قیادت کے خلاف الزامات کا سلسلہ بدستور جاری ہے ، بیانات ،پریس کانفرنسزاور نجی ٹی وی چینلز کے مذاکراتی پروگرامز میں امریکہ سے کروڑوں روپے کے فنڈز لینے ،ان فنڈز کے بدلے میں پختونوں کے خون کا سوداکرنے اورگیارہ مئی کے انتخابات میں اے این پی کی بد ترین شکست کی ذمہ داری عائد کرکے وہ پارٹی کی مرکزی قیادت پر سنگین الزامات عائد کررہے ہیں ۔گوکہ وطن فروش اورسازشی جیسے القابات اور خطابات سے نوازتے ہوئے وہ پارٹی کے سابق صوبائی صدر افراسیاب خٹک کو بھی بخش نہیں رہے ہیں تاہم خدائی خدمت گار تحریک کے بانی خان عبدالغفارخان(باچاخان)کے پوتے اور رہبر تحریک خان عبدالولی خان کے فرزند اسفندیارولی خان اُن کے اصل نشانے پر ہیں۔دوسری جانب اے این پی بھی خاموش تماشائی نہیں بیٹھی ہے گاہے بہ گاہے انہیں جواب دے رہی ہے اور اے این پی کی جانب سے انہیں جواب دینے والا کوئی اور نہیں بلکہ ان کا سگا بیٹا سابق وزیراعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی ہے۔اب یہ واضح نہیں کہ پارٹی سے لگاؤ کے نتیجے میں بیٹا باپ کے مقابلے میں آیا ہے یا یہ واقعی ٹوپی ڈرامہ ہے جس کے بارے میں چہ مگوئیاں عوامی حلقوں میں ہورہی ہیںیا یہ کہ اعظم ہوتی کے الزامات کو زائل کرنے کی خاطر پارٹی کے تھنک ٹینکس نے سوچ سمجھ کر ان کے مقابلے میں ان کے بیٹے حیدرہوتی کو میدان میں اُتاراہے۔حالانکہ عوامی نیشنل پارٹی میں اور بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو پارٹی قیادت پر الزامات کا کسی کو بھی منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔پچھلے ایک ڈیڑھ ماہ سے جاری الزام در الزام کا یہ سلسلہ کہاں جاکررُکے گا یا کافی عرصے تک جاری رہے گا سے متعلق وثوق سے تو نہیں کہا جاسکتا البتہ اس کی سنگینی کا اندازہ ضرور لگایاجا سکتا ہے۔سینیٹر اعظم ہوتی اس معاملے کو یکسر سیاسی قرار دے رہے ہیں تاہم ان کے بیٹے حیدرہوتی کا کہنا یہ ہے کہ ان کے والد گھریلو اور خاندانی معاملے کو سیاسی بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔یہ تو ذکر تھا کچھ ان بیانات اور پریس کانفرنسوں کاجو کچھ عرصہ قبل دیکھنے اور سننے کو ملے تاہم سینیٹراعطم ہوتی کا حالیہ انٹرویو جو انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دیاہے اور اب تک اے این پی کی جانب سے اس کا کوئی جواب نہیں آیاہے۔۔دوران انٹرویو اعظم خان ہوتی کا کہنا یہ تھا کہ ان کا ذہن اس وقت کھلا جب رہبر تحریک خان عبدالولی خان بے ہوشی کی حالت میں دنیا سے چلے گئے بیگم نسیم ولی خان اور فرید طوفان کے خلاف کارروائی کی گئی اور انہیں پارٹی سے نکال دیاگیابیگم نسیم ولی خان کے خلاف کارروائی کی گئی تو گو کہ وہ میری بہن تھی مگر میں بہن کا ساتھ دینے کی بجائے اسفندیارولی خان کا ساتھ پارٹی کی خاطر دیا تاکہ پارٹی متحد رہے اور اسے کوئی نقصان نہ پہنچے۔ان کے مطابق اسفندیارولی خان ان کی وساطت اور ان کے مرہون منت پارٹی میں آئے اور ان کی ہی کوششوں سے انہیں1990کے انتخابات میں ٹکٹ ملاحالانکہ خان عبدالولی خان انہیں پارٹی میں لانے کے حق میں نہیں تھے اور انہوں نے مجھے کہاتھا کہ اسفندیار کو سیاست میں مت لے کر آوٗکیونکہ یہ ایک جھوٹا،منافق اور ڈرپوک آدمی ہے اور کبھی بھی پختونوں کا لیڈر نہیں بن سکتا۔2005میں آپ کا ذہن کھلا اور2013میں آپ نے زباں کھولی اتنا عرصہ انتظارکیوں کیامیزباں کے یہ پوچھنے پر اعظم ہوتی نے کہا کہ وہ کئی مصلحتوں کے شکارتھے اس لئے کچھ بتانے سے قاصر رہے۔ان کے مطابق2005 میں اسفندیارولی ان کی بہن بیگم نسیم ولی کو بغرض علاج سنگاپورلے گئے تھے ان کا چھوٹا بیٹا غزن ہوتی بھی ساتھ تھا وہاں ہوٹل میں اسفندیار کی ملاقات ایک انڈین شخص سے ہوئی اس کے بعد انڈیا نے باچاخان ٹرسٹ کے لئے خطیررقم بھیج دی تھی۔ ان کے مطابق انہوں نے پارٹی بچانے کے لئے ہر موقع پر اسفندیارکا ساتھ دیا مگر انہوں نے ہر جگہ انہیں بدنام کیا۔ان کے مطابق ان پر نوازشریف کی پچھلی حکومت میں موٹروے میں کرپشن کا الزام ہے جس میں انہیں چودہ سال کی سزا ہوئی تھی دو سال قید کاٹی ہے اب ضمانت پر رہا ہیں۔۔اے این پی کے دور حکومت میں آپ کے نام کے ساتھ ایزی لوڈ کیوں منسوب ہوا کہ بابا کو ایزی لوڈ کرومیزباں کے اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا یہ تھا کہ ایزی لوڈ سے انہیں بدنام کیا گیا جب کہ ہیوی لوڈ اسفندیار اینڈ کمپنی کو ہوتارہا۔۔انہوں نے الزام لگایا کہ چارسدہ میں ایک پٹاخہ چلا اور اسفندیار بھاگ گئے جبکہ ایدوائس انہیں بھی کیا گیاتھا کہ کہیں چلے جاؤ مگر وہ نہیں گئے۔ان کے مطابق اسفندیارولی خان اور افراسیاب خٹک کی امریکہ میں ڈیل ہوگئی تھی اوراس کا انہیں الیکشن کے بعد پتہ چلااور یہ بات انہیں اے این پی کے سابق ممبر قومی اسمبلی حاجی نسیم الرحمان نے بتائی تھی۔ان کی ڈیل کس کے ساتھ تھی یہ تو نہیں پتہ البتہ اس ڈیل کے نتیجے میں اے این پی کے اٹھ سو کارکنوں کا خون بہہ گیاہے۔انہوں نے اس الزام کو دہرایاکہ اسفندیارولی کا اسلام آباد میں گھر ،دبئی میں گھر،ملائیشیاء میں گھر اور شاپنگ پلازہ ہیں۔دوسری شادی کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اٹھ سال قبل ہوئی ہے اور چار سال پہلے ان کے بیٹے حیدر ہوتی کو اس کا پتہ چلاتھالاعلمی ظاہرکرکے وہ جھوٹ بول رہاہے۔ ان کے مطابق وہ اپنی تمام جائیداد اپنے بیٹوں کے نام کرنے کوتیارہیں مگر دوسری بیوی کو نہیں چھوڑسکتے آج اگر ان کا سگا بیٹا ان کے خلاف ہے تو اس کا مطلب اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ وہ دوسرے فر
یق کی جانب سے زیادہ کنونس ہے تاہم ان کے بیٹے امیر حیدرخان ہوتی نے شرافت کی تمام حدودپھلانگ دی ہیں اور ان کے خلاف پریس کانفرنس کے بعد ان کے راستے ہمیشہ کے لئے جداہوگئے ہیں۔ان کے مطابق افراسیاب خٹک ایک مائنڈسٹ ہے وہ ایک سازشی آدمی ہے پانچ دفعہ پارٹی میں آیاپانچ دفعہ سازشیں کی جبکہ سینیٹر زاہد خان تو ایک چھوٹا کارندہ ہے۔یہ تو تھیں وہ باتیں جو اعظم خان ہوتی نے نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہی ہیں اور اس کا جواب اے این پی نے تاحال نہیں دیا ہے ممکنہ طورپر اے این پی اس کا جواب دے بھی سکتی ہیں بہرحال دوران انٹرویو اعظم خان ہوتی کی جانب سے دوسری شادی کے اعتراف اور جائیداد کا تذکرہ کرنے سے ان کے بیٹے حیدرہوتی کے اس مؤقف کو تقویت مل جاتی ہے کہ یہ ایک گھریلو ایشوہے جسے ان کے والد سیاسی بنانے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ اعظم ہوتی کی جانب سے اسفندیارولی اور پارٹی کی دیگر قیادت پر لگائے جانے والے الزامات محض مفروضوں پر اس لئے مبنی ہیں کہ وہ تاحال کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے سے قاصر رہے ہیں اگر پارٹی قائدین پر لگائے جانے والے الزامات مبنی برحقیقت ہیں تو اعظم ہوتی کو ٹھوس ثبوت پیش کرنے ہوں گے بصورت دیگرکوئی ان کی بات کا یقین کیونکر کریں۔۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button