امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

عورت کامقام 2

imtiazعورت ماں ،بہن،بیٹی ،بیوی ساس اوربہو بھی ہے ۔ان رشتوں میں بدنام ترین رشتہ ہے ساس اور بہوکا۔آخر ایک عورت دوسری عورت پرظلم کیوں کرتی ہے ؟وجہ کیاہے سارے فساد کی ؟میری نظر میں ساس بہو کے رشتے میں تناؤدورجہالت ہی سے چلا آرہاہے۔اپنی بہوپرظلم وہی ساس کرتی ہے جواپنی بیٹی کی پیدائش پر ناخوش ہوتی ہے اور بیٹے کی پیدائش پربہت خوش ہوتی ہے۔جوبیٹی کوکوقابل شرم اور بیٹے کوقابل فخر سمجھتی ہے۔جوبیٹی اور بیٹے کی پرورش کرتے وقت بیٹے کواعلیٰ اور بیٹی کوکم تر سمجھتی ہے۔اور جوماں اپنی بیٹی اوربیٹے کوایک جیسا انسان سمجھتی ہے اور بیٹی سے بھی اتنی ہی محبت کرتی ہے جتنی کہ بیٹے سے وہ ماں کبھی بھی اپنی بہوپرظلم نہیں کرتی۔باقی رہی مقام کی بات تووہ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی کسی کو نہیں دے سکتا۔اسلام سے پہلے جائیداد میں عورت کا کوئی حصہ نہیں تھا۔شعر وشاعری میں محبوبہ(عورت) کانام ننگے الفاظ میں لیا جاتا اور اس گندی حرکت پرفخر کیاجاتا۔بے حیائی اورفسق وفجورکابازار گرم تھا ۔پھر جب اللہ تعالیٰ کے آخری اور محبوب نبی حضرت محمدؐ نے اہل عرب کو اللہ تعالیٰ کا پیغام سنایااور بتایا کہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔اس وقت اہل عرب جوجانوروں کی سی زندگی بسر کیا کرتے تھے اللہ کے نبیؐنے انھیں اسلام کی دعوت دی اور انسانیت کے تقاضے بتائے جس میں عورت کی عزت واحترام لازم کرکے عورت کو ماں، بیٹی،بہن اور بیوی کی حیثیت میں ایسا مقام عطا فرمایا جسے قائم رکھنے اور دشمنوں سے بچاتے ہوئے باپ،بھائی اور خاوند اپنی جان تک قربان کرنے لگے ۔اسلام نے وراثت میں عورت کو حصہ دے کر اسے دنیا میں جینے کا حق اور اصل مقام دیا۔وراثت میں حصہ دینے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ عورت کو معاشرتی برائی بننے سے روکا جاسکے ،تاکہ عورت بے حیائی ،فحاشی ، بدکاری اور جسم فروشی کو اپنا ذریعہ معاش نہ بنائے ۔آج دور جدید میں صرف عورت ہی نہیں پوری انسانیت مشکل میں ہے لیکن میرا آج کا موضوع عورت ہے ۔بے شک عورت اس کائنات کا حسن ہے لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ کیا عورت پر ظلم صرف مرد کرتا ؟میرا جواب ہے نہیں عورت پر ظلم عورت بھی کرتی ہے ۔آج بھی کئی مسلمان خاندانوں میں دور جہالت کی یہ روایت قائم ہے کہ بچی کی پیدائش پر باپ 40دن تک سوگ میں رہتا ہے،اور باپ کی والدہ اوربہن یعنی پیدا ہونے والی بچی کی دادی اور پھوپھی بچی کی ماں کوسالہا سال بلکہ ساری زندگی دل کوچیر دینے والے طعنے دے کر سوگ مناتی ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک عورت دوسری عورت کو تیسری عورت کی پیدائش پرطعنے کیوں دیتی ہے؟میرا خیال ہے کہ مال و دولت کی محبت اور خصوصا دوسروں کے مال پرہاتھ صاف کرنے کی فکر دادی اورپھوپھی کوعورت ہوتے ہوئے بھی اپنی پوتی اور بھتیجی کادشمن بنا دیتی ہے ۔بچی کے پیدا ہوتے ہی والدین کو یہ فکرلاحق ہوجاتی ہے کہ اب بیٹی کی شادی پر اسے ڈھیرساراجہیزدینا پڑے گااور اس کی ساس اور نند کے نازونخرے برداشت کرناپڑیں گے۔پہلی بات یہ کہ جہیز کو اسلام میں لعنت قرار دیا گیا ہے ۔دوسری بات یہ کہ ساس اور نند بھی مرد نہیں بلکہ عورتیں ہیں۔قارائین محترم دور جہالت کی بات تو ہم سب ہی کرتے ہیں کہ دورجہالت میں بیٹیوں کو زندہ دفن کردیا جاتا تھا ۔میں آج اس بات کا ذکر کرنا بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ آج دورجدید میں ہم دور جہالت سے بھی زیادہ ظلم کررہے ہیں ۔جی ہاں دور جہالت میں لوگ بچی کو پیدا ہونے پر زندہ دفن کردیا کرتے تھے لیکن آج ہم بچی کوپیدا ہونے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں ۔آج ڈاکٹر بذریعہ ultrasoundدوران حمل ہی بتا دیتے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں بچی ہے یا بچہ ۔اس طرح جب گھر والوں یعنی دادی اور پھوپھی کو اس بات کا پتا چلتا ہے تودورجدید کے جاہل لوگ ڈاکٹر کو اس ماں کا حمل ضائع کرنے کا کہتے ہیں جس کے پیٹ میں بیٹی پل رہی ہوتی ہے اور ڈاکٹر بھی چند روپوں کی خاطر اتنا بڑا گناہ کرتے وقت ذرا نہیں گھبراتے۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا اور جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچالیا۔ جس معاشرے میں عورت کا مقام صرف ایک جسم ہوگا وہاں عورت ماں ،بہن ،بیٹی اور بیوی کا مقام کس طرح حاصل کرسکتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں  ’’دل میں ہو لا الہ تو کیا خوف،تعلیم ہو گو فرنگیانہ‘‘

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker