ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

اپنی ملت پر قیا س اقوام مغرب سے نہ کر

تا ریخ گواہ ہے کہ یہو د و نصا ریٰ مسلمانو ں کے کھلے دشمن ہیں جن سے نز ول عیسیٰ ؑ تک جنگ جاری و ساری رہے گی ۔ یہو د و نصا ریٰ ہما رے وہ دشمن ہیں کہ جو ہر دور میں آسمانی دین سے رو گردانی کر کے کفر و شرک کو اپنا تے رہے ہیں ۔ جس کی موجو دہ شکل مغرب ذدہ معا شرے میں ظا ہری طور پر دکھائی دیتی ہے ۔ آزادی اور غلا می دونو ں کا چولی دامن کا ساتھ ہے انہیں بس یو ں سمجھیے کہ ایک دوسرے نے طلا ق دے رکھی ہے ۔ جہا ں آزاد ی کا وجو د ہو وہا ں غلا می نہیں آتی ،غلامی کا مفہو م عام طور پر یہی سمجھا جا تا ہے کہ کسی ایک قوم کو اپنے زیر اثر لا یا جائے ۔ اور اس کی سوچ ، نظریا ت ، فکر ، کردار ، اخلا قیا ت ، روایا ت ، ثقا فت ، اخلا قیا ت ، مذہب اور زندگی کے ہر پہلو کو ایک پنجرے میں قید کر دیا جا ئے جہا ں غلا می کا موسم آتا ہے تو اس جگہ پر ہر سطح پر قحط و رجال برپا ہو جا تا ہے ۔ غلا می کا رنگ ڈھنگ تو ایک ہی ہے لیکن مو جو دہ دور جد دید میں اس کی شکل تبدیل ہو چکی ہے ۔ سیا سی ، ثقا فتی ، سماجی ، فلا حی ، معا شی ، فکری ، نظریا تی اوراقتصا دی سطح پر یہ اس قدر اثر انداز ہو تی ہے کہ انسان اپنی اصل اور بنیاد کو کھو کر غیر فطری اور غیر رسمی دنیا میں گم ہو کر رہ جا تا ہے ۔ غلا می انسانی زندگی میں سوچ اور تد بر کے زاویے کو تبدیل کر کے رکھ دیتی ہے غلا می میں مبتلا ء انسان ایک محدود دائرہ کا ر میں بھسم ہو جا تا ہے اس کی امید اوریقین ختم ہو جا تا ہے اور یہا ں تک کہ انسانی نشو و نما ہر سمت میں پر وان چڑھنا با لکل بند ہو جاتی ہے ۔ جبکہ آزادی سے نکھا ر پیدا ہو تا ہے انسان کا جیون ہر ا بھرا لگتا ہے اس کے ذہن و گمان کیلیے آزادی پختگی اور شا ئستگی کا با عث بنتی ہے اورہر طرف امید ، حقیقی روشن خیالی ، تعمیر و ترقی اورخو شحالی کا سما ں دکھائی دیتا ہے ۔ نجا نے کیو ں آج کا ما دی دنیا میں پلنے والا انسان اپنے مذہب کے ضا بطے ، قا نون ، دستو ر ، نظم و ضبط اور لا ئحہ عمل کو اپنے اوپر پا بندی ، بوجھ اورغلامی کا طوق تصور کرتا ہے ۔ آج مغرب ذدہ معا شرے کو آزادی ، خو شحالی ، روشن خیالی اور جد ت سے تعبیر کیا جا تا ہے ۔ انسانی زندگی تو بندگی سے تعبیر ہے کہ ایک خالق و مالک کی عبادت و ریا ضت اور محبت میں خو د کو اتنا گم کرلیں کے ہمیں کوئی دوسرا دکھائی ہی نہ دے اور پیدا کرنے والے کا پیغام رگ و پے میں سراعیت کر تا ہوا ہما ری جان کے آخری حصے اور ہماری روح تک اتر جا ئے اور اس وا حدہ و لا شریک ذات کے لیے اپنے تمام افکا ر ، اپنے جذبا ت ، اپنی خوا ہشات ، اپنی بصارت ، اپنی سما عت ، اپنی گفتار ، اپنا کردار ، اپنی فصا حت و بلا غت اور اپنی پو ری زندگی گو یا کہ اپنا سب کچھ اپنے خالق و مالک کی رضا کی خا طر قربان کر دیں ہما ری زندگی میں کوئی اور دکھائی ہی نہ دے سو تے ، جا گتے ، چلتے پھرتے ، کھا تے پیتے ، اٹھتے بیٹھتے اور ہر عمل کرتے ہو ئے وہی ایک ذات ہما رے ذہن و گمان میں اتر جا ئے اور کوئی بھی ایسا عمل سر زد نہ ہو جس سے ہما را پیدا کر نے والا رب ہم سے نارا ض اور خفا ہو جائے ۔
ہم جس پہ مر رہے ہیں وہ ہے با ت ہی کچھ اور عالم میں تجھ سے لاکھ سہی تو مگر کہا ں
خالق سے محبت و الفت کا پکا اور سچا رشتہ جوڑ لیں قرآن مجید میں ارشاد با ری تعا لیٰ ہے کہہ دیجیے کہ میری نما ز ، میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت ایک اللہ رب العالمین کیلیے ہے ۔ آج کی جا ہلیت خدا کے بنائے ہو ئے قاعدے اور قانون سے آزادی کا تقاضا کرتی ہو ئی دکھائی دیتی ہے انہیں غلا می سے آزادی نہیں چا ہیے بلکہ انہیں تو بندگی سے آزادی درکا رہے ۔
غلا می میں نہ کام آتی ہیں تد بیریں نہ تقدیر یں جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جا تی ہیں زنجیریں
محبت کے مقدس ،نفیس ،اعلیٰ اور پاک جذبا ت اللہ رب العزت کے لیے خاص کر نے کی بجا ئے عورت ، شہرت ، دولت ، اما رت بلکہ قوم اور رنگ و نسل پر نچھا ور کرتے ہو ئے دکھائی دیتے ہیں ۔
ارشاد با ری تعالیٰ ہے اور جنو ں اور انسانو ں کو میں نے صرف اسی لیے پیدا کیا کہ میری عبا دت کریں۔
آزادی اظہا ر را ئے کو بھی بعض لو گ اسلام کی دین قرار دیتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں سوچا کہ گستا خ رسول کا سر اڑا دینا بھی اسلام کی تعلیم ہے ۔
آزادی نسواں جا ہلیت جدیدہ کی نظر میں عورت آزاد ہے جو چا ہے کرے جس سے چا ہے ملے جس کو چا ہے پسند کرے اور شتر بے مہارکی طرح ہر غیر محرم اور اجنبی کی با ہو ں میں با ہیں ڈالے رنگ رلیا ں مناتی پھرے عورت کی آزادی کو یو ں تعبیر کیا جا تا ہے کہ وہ اپنی مرضی کی خود مالک ہے کوئی بھی اسکا مالک یا سرپرست محافظ نہیں وہ اپنے جسم کی خود مالک ہے چا ہے تو طوا ئف کا پیشہ اختیا ر کرے ، ایک سے زائد مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات بیک وقت قائم رکھے ، عورت ، عورت سے شادی رچا ئے خود ہی اپنے خا وند کو طلا ق دے اور اپنے برہنہ جسم کی نما ئش کھلے عام با زاروں ، گلیو ں ، سینما گھروں اور تھیٹروں میں کرتی پھر ے یہ اس کی آزادی ہے اور اس کی چھوٹ اسے قانون نسواں نے دے رکھی ہے ۔ اسلام تو محض بندگی کا اورحدود کا درس دیتا ہے اس میں تو نا اپنی من مرضی کے لیے مرد آزاد ہے اورنہ ہی عورت وہی اس کی نظر میں بہتر اور اعلیٰ ہے جو اپنی مرضی اور منشاء اور اپنی خواہشات نفس کو اللہ کے سپرد کردے اسلام کا تو یہ قا عدہ قانون ہے کہ فر د اپنے جسم اورقوم اپنے ملک کی خود مالک نہیں ہے بلکہ حقیقی حاکمیت اللہ رب العزت کی ہے اور سب تا بع ہیں اس اقتدار اعلیٰ کے ۔ ہمیں اللہ کی بندگی کرکے ، رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرکے اوراسلام کو اپنے اوپر لا گو کر کے جینا ہو گا یہی ہما ری اساس اور بنیا د ہے اسی میں ساری حکمتیں اور دانائیاں پو شیدہ ہیں اسی میں فلا ح ہے اسی میں بقاء اور اسی میں سا لمیت ہے اسی میں عظمت و رفعت ہے اور اسی میں حتمی کامیا بی و کامرانی ہے ۔ عشق مصطفیٰ ﷺ کی حرارت اور رو شنی سے اپنے بنجر دلو ں کے چراغ روشن کر لیں اور خود کو اپنی ذات میں نہیں بلکہ رب کے محبو ب کی ذات کو سا منے آئینہ اور اسو حسنہ کو اپنی زندگی کا مقصد بنا کر جیون بسر کیا جا ئے پھر نہ تو کوئی پستی رہے گی اور نہ کوئی زوال نہ کوئی فکر رہے گی اور نہ کوئی وبال ۔کیو نکہ انسان دنیا کے قا عدے قانون سے بغا وت کر کے تو زندہ رہ سکتا ہے رب کی مدد سے ،لیکن خدا ئے بزرگ و بر تر کی کرسی اور سلطنت کے دائرہ کار سے فرار ہو کر بچ جا نا یا زندہ رہنا ناممکنا ت میں سے ہے ۔
آئیے ذرا سو چئیے کہ ہمیں کیسی زندگی بسر کرنی ہے رب اور اسکے محبوب کی رضا والی یا اس کے غضب اور نا را ضگی والی ؟
مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مر تبہ چا ہیے کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار بنتا ہے

یہ بھی پڑھیں  ساہیوال:ریجنل پاسپورٹ آفس میں سہولیات کا فقدان، عوام کو پاسپورٹ بنوانے میں دشواریوں کا سامنا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker