شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / اپنے ملک کو اپنی افواج کو عزت دو

اپنے ملک کو اپنی افواج کو عزت دو

وہی باتیں ایک جیسے تبصرے کسی کو کپتان اچھا نہیں لگتا تو کسی کو زرداری کوئی نواز شریف بدل ہے سیاست کیس رخ جا رہی ہے ایوانوں میں کھڑے ممبر کیس طرح کی باتیں کرتے عوام سوچ رہی ہے کے یہ وہی پاکستان ہے جہاں کبھی نواب زادہ نصر ا للہ جیسے سیاستدان ہوتے تھے جن کی زُبان الفظ موتی بن کر نکلتے تھے گول میز کا نفر نس ہوتی تھی ملک کے بڑے بڑ ے سیا ستدان شامل ہوتے تو کسی کی پگڑی نہیں اچھالی جاتی تھی نہ ہی ایسی باتیں ہوتی تھی جس طرح اب ہو رہی جس طرح کی باتیں آج کل چل رہی ہے اس سے تو نہیں لگتا کہ ہم اپنا ملک بچا رہے ہیں ایسا لگتا ہے ملک مخالف لوگ باتیں کر رہے ہیں افواج پاکستان کو نشانا بنا یا جا رہا ہے اگر احتساب کا عمل شروع ہو تا ہے تو پھر اداروں کے سب خلاف ہو جاتے ہیں ستر سال سے عوام پیس رہی ہے کسی کو خیال ہے بھوک نگ کا اس ملک میں راج ہے مصوم بچوں کی ساتھ زیاتی کر نا پھر جان سے مار دینا کہا کی شرافت ہے اس ملک میں قانون نام کی کوئی چیز ہے ایک طرف حکو متی وزیر ہے کہ جن کو بات تک نہیں کرنا آتی تو دوسری طرف اپوزیشن میں سے بھی نا ز یبا الفظ بولے جاتے ہیں دشمن کو ہم پیغام دے رہے ہیں کہ ہم خود اپنے کے ملک دشمن ہیں اور تمہارے آنے کی ضرورت نہیں ہے اپنے ہی ملک میں کھڑے ہو کر افواج پاکستان پر باتیں کرنے وا لوں جب قربانی کا وقت آتا ہے تو سب سے پہلے سرحدوں پر سیاستدان نہیں جاتا بلکہ ایک فوجی اپنا سینا تان کر کھڑا ہوتا ہے نعرہ لگا کر دشمن کو بتاتا ہے کہ میں ایک مسلمان فوجی ہوں اس قوم کا ایک سپاہی ہوں اور شہد ہونے کو آیا ہوں فوج کے ہر سپاہی کو اُس کی ماں کہتی ہے جاؤں بیٹا اپنے ملک پر قربان ہو جا ؤں آج تک کس سیا ستدان کو اُس کی ماں نے کہا ہو جاؤ اپنے ملک پر قربان ہو جاؤ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں کچھ مفاد پرست ایسے بھی ہیں جن کو تنقید کرنا بھی نہیں آتا میرے کپتان کا نام لیے کر تنقید کرنا اس کو تنقید نہیں کہا جا سکتا بلکہ ذاتی اَ نا کہا جاتا ہے موصوف کو میرے کپتان میں بہت غلظیاں نظر آتی ہیں تو پینتیس سال سے ملک کو چلا نے والوں میں کچھ نظر نہیں آیا اگر ان کہ یاد نا ہو تو کسی سے پوچھ لیے کہ ان کی حکومت میں کچھ نہیں ہوا تین ماہ پنجاب کی حکومت نے پولیس کا پیٹرول بند کیوں کیا تھابڑی گاڑی کو ایک ماہ میں تین سو ساٹھ لیٹر پیٹرول اور موٹر بائیک کو ساٹھ لیٹر پیٹرول ملتا تھا ڈیزل بھی ساتھ دیا جاتا تھا تین ماہ میں پولیس نے پیٹرول کہا سے لیا گیا ہو گا کسی نے سوچھا کیا ا پنی جیب سے ڈالا ہو گا ان سے کیوں نہیں پوچھتے تین ماہ میں چو نتیس ارب سے سستا تندورکا منصوبہ دیا گیا وہ منصوبہ آج کہا تندور کہا ہے پورے پنجاب میں آج ایک بھی تندور نظر نہیں آ رہا اس کا بھی کوئی حساب ہے آپ کے پاس ہمت ہے میرے شہباز شریف کہے کر پوچھنے کی تھو ڑی ہمت کر کے بات تو کرے بات چونتیس ارب کی نہیں ہے پولس نے بھی تو پیٹرول کے لیے کچھ کیا ہو گا تھانوں میں گاڑیاں کھڑی تو نہیں کی ہوگئی کرپشن کا حساب تو کریں غریب کے پیسہ کا کوئی حساب نہیں ہے اگر خادم اعلی بھی بنے تب بھی اعلی کا لقب ساتھ لگایا چلے اگر یہ نہیں پو چھ سکتے آپ تولیپ ٹام تقسم ہوئے اس بات کو تو اتنا عرصہ نہیں ہوا تین یا پھر چار سال پہلے کی بات ہے چین سے بن کر آنے والا لیپ ٹاپ بنا تو سولہ ہزار کا تھا ڈیل کمپنی کے نام سے تین ماہ سے زیادہ نہیں چل سکا لیپ ٹاپ کتنی بے دردی سے غریب عوام کا پیسہ خرچ کیا گیا بادشاہوں جیسی زندگی گزری ہے ان کی اور خرچے بھی باد شاہو ں جیسے تھے سب چھو ٹ ہے ہمیں غریب عوام کا درد ہے جب اقتدار میں تھے تب نہیں تھا اب ان کو غریب عوام نظر آنے لگ گئی ہیں دوسرں پر تنقید کرنے سے پہلے تھوڑی نظر پیچھے بھی ڈال لینی چاہیے کہان سیا ستدانواں عوام کو کیا دیا ہے گلو بٹ کون تھا کس کے اشاروں پر ماڈل ٹاون میں گیا تھا اُس کے پیچھے کون تھا کس کی حکومت تھی اُ س وقت کس کی شوگر مل سے بھارت کے لوگ پکڑے گئے تھے رمضان شوگر مل کس کی ہے جنوبی پنجا ب سے سب سے زیادہ رونیو لیا جاتا تھا ان سے پو چھے جنوبی پنجاب کہ واپس کیا دیا بلکہ نہری پانی سے بھی مہروم کر دیا گیا دس ہزار کیوس پانی اپر پنجاب کو تحفہ دیا گیا جنوبی پنجاب کے حصہ میں فور سکیل کی نوکریاں تک اپر پنجاب کو دی گئی اپنی مرضی سے فنڈ تقسم کیے جاتے تھے کوئی پوچھنے وا لا نہیں تھا اگر تنقید کرنے والے نو ماہ میں ملک میں تبدلی دیکھنا چاہتے ہیں تو ایسا نہیں ہو سکتا تبدلی آ نے میں وقت لگتا ہے سٹاک مارکیٹ ابھی تک ان کے اشاروں پر چل رہی ہے ڈالر کا ریٹ حکومت کی وجہ سے نہیں بلکہ ان کی وجہ سے اُپر گیا ہے پورے ملک میں ان کی جڑیں ہے اب بھی پنجاب میں پولٹری کا ریٹ حمزہ شہباز کے کہنے پر نکلتا ہے کسی میں اتنی ہمت نہیں کے بات کر سکے ہو سکے تو اپنے ملک کو اور بد نام مت کرو دشمن کو اپنی کمزوری نا بتاؤ ہماری ایک ایک بات پر دشمن کی نظر ہے سوشل میڈیاکا دور ہے دشمن ہمارے ملک میں امن نہیں چا ہتا کبھی ہماری افواج کو بدنام کرتا ہے تو کبھی چند شاہر پسندوں اپنے ساتھ شامل کر لیتا ہے دشمن کبھی بھی اپنے عزم میں پورا نہیں اُتر سکتا اگر ہم سب ایک ہو کر افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہو جائے

یہ بھی پڑھیں  حجرہ شاہ مقیم:سجاد ہ نشین حجرہ شاہ مقیم کا جواں سالہ پوتا سپردخاک

error: Content is Protected!!