شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / اپنوں کوایسے کاٹتے ہیں بھا ئی جی ،،

اپنوں کوایسے کاٹتے ہیں بھا ئی جی ،،

بڑا لکھا ۔ بہت لکھا کہ یو رپ میں یہ یہ اچھا ، ایسا رویا ،یہ وہ اخلا ق ، ایسا ہے بھی ، بہت سی اچھا ئیاں ہیں ، جن کی کمی ہما رے معا شر ے میں پا ئی جا تی ہے ، مگر ،آ ج صر ف ،با ر سلو نا میں سنا ، دیکھا ، اس کا ذکر کر تے چلیں ، شا ہد ، شا ہد نہیں ، یقین کے سا تھ اہل با رسلونا کو برا لگے ، مگر کچھ کو اچھا لگے گا ، شا پ پر کھڑے ایک بند ے کا یہ جملہ ،،،،
اپنوں کو ایسے کا ٹتے ہین بھا ئی جی ،،،،،
پا کستان کے حالا ت ایسے ہیں کہ اچھی خا صی تعلیم حا صل کر نے کے بعد بھی سر کا ری ملا زمت تو دورکی بات تعلیم کی قا بلیت کے مطا بق نو کری نہیں ملتی ، جو لو گ کچھ جمع پو نجی رکھتے ہیں ، وہ سو چتے ہیں کہ یو رپ یا بیر ون ممالک چا نس ما رنے کا سو چتے ہیں، ان کا خیا ل یہ ہو تا ہے کہ یو رپ پہنچ کر ان کی لا ئف آ سا ن ہو جا ئے گی ، ایسے تیسے جب وہ یورپ پہنچتے ہیں ، تو حقیقت میں ان کو بہت سی مشکلا ت کا سامنا کر نا پڑ تا ہے ، ایک صا حب سے با رسلو نا میں ملا قا ت ہو ئی ،شا پ کیپر سے وہ کچھ معلو ما ت رہے تھے کہ یہاں قانونی پیپر ورک کیسے ہو گا اور اس میں کیا اخرا جا ت ہیں ، ہم بھی پا س کھڑ ے ان دو اشخا ص کی با تیں سنیں لگ گے ، شا پ کیپر والے صا حب بتا رہے تھے کہ کو بند اسپین آ تا ہے وہ یہاں کے مقامی ایک آ فس جا تا ہے اپنے پا سپو رٹ کے سا تھ اور آ فس والے اس کی انٹری کر دیتے ہیں، اب وہ بند ہ با رسلو نا تین سا ل تک قانون کی اجا ز ت کے سا تھ رہ سکتا ہے ، مگر جا ب نہیں کر سکتا ، یہ تین سا ل اس کو اس لیے اجا ز ت دی جا تی ہے کہ وہ یہاں کی مقا می زبا ن سیکھے اور قانون یہاں کے سمجھے ، تین سا ل مکمل ہو نے کے بعد وہ جا ب ڈ ھو نڈ ے اور اس جا ب کی بنیا د پریہاں کا پیپر ورک اپلا ئی کر سکتا ہے ، پھر اس کو ویز ہ ٹا ئپ کا رڈ مل جا تا ، اور ہر سا ل اس کو رینو یو کر وانا پڑتا ہے ،سا منے والے بند ے نے شا پ کیپر سے سوال کیا کہ میر ے تین سا ل ہو نے کو ہیں ، زبان کی سند وغیر ہ بھی لے لی مگر اب جا ب نہیں مل رہی ، کو ئی یہاں کا مقامی اسپین کا بز نس مین جا ب نہیں دے رہا ،اور اپنا پا کستانی جاب دینے کے پیپر ورک کے لیے پیسے ما نگ رہا ہے ، اسپین کا تو کو ئی بند ہ جا ب نہیں ایسے دے گا ، وہ کیوں ، وہ اس لیے کہ شروع میں کسی ضر ورت مند کو دیکھ کر یہاں کے مقا می لو گ جا ب دیتے تھے ، مگر پا کستاینوں نے ایسے کا رنا مے کیے کہ اب ایسے کو ئی جا ب نہیں دیتا ، کا رنا مے کیسے ، کا رنا مے یہ تھے کہ ، جب مقامی بند ے کی شاپ یا اس کے کا رو با ر میں کا م کر تے تو کا م کر تے تصو یر یں بنا لیتے تھے اور پھر مقامی آ فس میں جا کر درخو است جمع کر وا دیتے تھے کہ یہ دیکھیں ہم سے کا م کر وا تا ہے اور نہ پیسے دیتا نہ پیپر ورک کے لیے پیپر مکمل کر واتا ہے ، لو جی اب بتا ؤ اس فراڈ کے بعد کون اعتما د کر ئے گا ، کو ئی نہیں کر ئے گا ، اور اپنے پا کستانی بز نس مین یا جن کے کا رو بار وہ بھی پیسے ما نگتے اس پیپر ورک کے لیے ، کتنے پیسے ما نگتے ہیں ، بھا ئی جی آ ج کل ما رکیٹ کا ریٹ چل رہا ہے کہ تقر بیا آ ٹھ ہز ار ، تو آ ٹھ ہزار سب اسپین کی سر کا ر کو جا تا ہے ، ہاں جا تا ہے مگر دو تین ہز ار تک جو کچھ ما ہ تک وہ اس بند ے کا ٹیکس ادا کر تے ہیں ، چلو جا ب تو مل جا ئے گی ،آ ٹھ ہزار دے کر اور پیپر مکمل ہو جا ئیں گے ، ہاں پیپر مکمل ہو جا ئیں گے مگر وہ شاپ یا کار وبا ر والا تم کو جا ب پھر بھی نہیں دے گا ، پھر ، پھر یہ کہ وہ تم کا صر ف چھ ما ہ یا تم کے سا تھ جتنے فکس ما ہ ہو ں گے اتنے کا ٹیکس ادا کیا جا ئے گا ، با قی ، با قی اس کی جیب میں بھا ئی جی ، کیا ، ہاں اپنوں کو ایسے کا ٹتے ہیں بھا ئی جی،،،
یہاں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ یہ جو کا روائی تما م ہو تی اور اتنے ایکسٹرا پیسے لیے جا تے اور وہ اپنوں کی جیب میں جا تے ہیں تو کیا اسپین کی سرکا ر اس با رے معلوما ت رکھتی ہے یا نہیں ، اگر نہیں رکھتی تو ہماری کیمونٹی کے سیا سی سما جی جو تصو یر یں لگا تے نہیں تھکتے ان کو اصل میں کمیو نٹی کے لیے رول ادا کر نا چا ہیے ، کیا ان کو کر نا چا ہیے ، ان کو یہ کر نا چا ہیے کہ تما م پا کستا نی کیمو نٹی کے بزنس مین اور کا ر و با ری حضرا ت کو اکٹھا کر کے ارادہ کیا جا ئے کہ وہ اب کسی ضر ورت مند سے پیپر ورک کے لیے ایکسٹر ا پیسے نہیں لیں گے ،اس قر اداد کے بعد کو ئی با ز نہ آ ئے تو اس کو با رسلو نا کی کیمو نٹی میں اچھا نہ سمجھا جا ئے، 
ہو سکتا جو اس کا لم میں معلو ما ت فر اہم کی گئی وہ کم ہو یا ادھو ری ہو ، اور تما م پا کستانی کیمو نٹی کے لیے تنقید نہیں ، مگر دیکھنے میں یہ آ یا کہ کو ئی ایک فیصد کو ئی کا ر و با ری ہو گا جو پیپر ورک کے لیے ایکسٹرا پیسے نہیں لیتا ہو گا ،، جو لو گ ایکسٹرا پیسے لیتے اور سال میں جب ان کے گا ؤ ں میں کہا جا تا ہو گا کہ حا جی صا حب نے پو رے ایک لا کھ کا بیل دیا ہے تو یقین ما نے اس کا کو ئی ثو اب نہیں ملنے والا ، 
با ر سلونا میں حا فظ عبد الراز ق جیسے اور بھی لو گ ہیں جو اپنی کیمو نٹی کے لیے کو شا ں رہتے ہیں ، مگر خد مت کا مز ہ تب آ نا جب اس طر ح کی لو ٹ ما ر ختم ہو کہ ایک ضر ورت مند کی مجبو ری دیکھتے ہو ئی اس سے فا لتو پیسے لیے جا ئیں ،، 

یہ بھی پڑھیں  قصور:ڈاکٹر ز انسانیت کے مسیحا ہیں، وسیمہ عمر ڈی سی قصور