تازہ ترینکالم

آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد یہ تھا؟

atiqنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ عظیم لیڈر ہیں، جن کو اللہ رب العزت نے انسانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے مبعوث فرمایا۔ پھرآقا علیہ الصلوۃ والسلام  نے اپنی 23سالہ زندگی میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ احکامات پر خود عمل کر کے دیکھایا ۔ ایسے کہ رہتی دنیا تک آپ کی زندگی دین اسلام پر چلنے والوں کے لیے ایک مشعل راہ بن گئی۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو سنت کہا جاتا ہے۔ آج 14سو سال گزر جانے کے باجود بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے تمام پہلو، زندگی و تعلیمات کا ہر گوشہ صحیح سند کے ساتھ موجود ہے۔
آج ہر مسلمان یہ دعویٰ کرتا دکھائی دیتا ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہاء محبت کرتا ہے۔ آپ کسی بھی مفسر قرآن، کسی بھی محدث یا عالم دین کے پاس اس سوال کا جواب تلاش کریں کہ ہمارا کیا عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کہلائے گا۔ تو ان کا جواب یہی ہو گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے  ان کی دی گئی تعلیمات پر عمل ہی سے حُب رسول کے دعوے کو سچ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ دنیاوی محبت کا بھی یہی معیار ہے کہ جس کو جس سے محبت ہو جاتی ہے وہ اپنے آپ کو ایسا بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ جیسا اس کا محبوب چاہتا ہے۔ اپنا ، لباس، اٹھنا بیٹھنا، بول چال۔ مکمل لائف اسٹال وہ اپنے محبوب کی خواہش کے مطابق بنا لیتا ہے۔
مگر اے مسلمانو! اب اپنا جائزہ لو۔ اپنے اردگرد دیکھو! نبی سے محبت و عشق کا دعویٰ تو ہم سب ہی کرتے ہیں۔ مگر اپنے عمل کو دیکھو، پھر اپنے ضمیر سے سوال کرو۔ کیا تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ تمہارے محبت کے دعوے کہیں کھوکھلے تو نہیں۔
دل تو یہی کہ رہا ہے نا ، کہ نہیں ! نہیں! ہم بڑے سچے عاشق رسول ہیں۔ دور نہیں جاو! ابھی جشن عید ِمیلاد النبی  صلی اللہ علیہ وسلم منایا ہے نا اکثر نے؟
بڑے جوش و خروش سے! اپنے ضمیر کو جھنجوڑ کر پوچھو۔ جس موسیقی کو نبی  صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے تھے۔ فرامین نبوی ؐ پر مشتمل واضح احادیث موجود ہیں، جن میں وضاحت کے ساتھ اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے آلات موسیقی(ساز) کو حرام قرار دیا ہے۔ پھر بھی ہم نے نبی کی محبت میں جو نعتیں بنائی ہیں، وہ کسی بھی طور پر گانوں سے مختلف نہیں ۔ ان میں میوزک ، شور وغل اور ہڑبونگ اس قدر زیادہ ہو چکی ہے کہ پاپ سنگر بھی ان کے آگے ، کچھ بھی نہیں محسوس ہوتے۔
خواتین کے متعلق ہدایات، پردے کے اسلامی احکامات، خواتین کو زیب و زینت نہ کرنے کے سارے فرامین ِنبوی ہم کیوں بھول چکے ہیں۔ جب اسلام کی بیٹیاں فُل میک اپ اور شوخ و چنچل لباس پہن کر میلاد مصطفٰی  صلی اللہ علیہ وسلم پرہدیہ نعت پیش کر رہی تھیں۔ کسی خواتین کی باپردہ محفل میں نہیں۔ ٹی وی چینل پر! تو اس وقت نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو ہم کتنی آسانی سے فراموش کر چکے تھے۔
نبی  صلی اللہ علیہ وسلم معاشرے سے تکلفات، بدعات، جہالت، شرک اورشیطان کی اتباع میں کیے جانے والے کاموں کو ختم کرنے آئے تھے۔ اب چھوڑیں ساری دنیا کو۔ پاکستان میں اپنے اردگرد دیکھیں۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ ہم  جشن ِعیدمیلاد النبی ؐ کے نام پر،جو کچھ کر رہے ہیں۔ دور نبوی ؐ، صحابہ کرام ؓ یا دیگر أئمہ کی زندگی سے ہمیں کسی ایسی بات کا ثبوت ملتا ہے ؟
کروڑوں روپے خرچ کر کے عمارتوں پر چراغاں، کئی کئی کلو میٹر طویل اور ٹنوں کے حساب سے وزنی کیک کاٹنے کا عمل۔ پھر ہر سال بڑے سے بڑا کیک کاٹنے کا مقابلہ۔ اس دوڑ میں شریک ہو جانا کہ سب سے بڑا کیک وہ کاٹیں۔ مسلمانو ! یہ تعلیمات ، یہ عمل، یہ جشن کے جدید اسٹائل دائرہ اسلام میں کہاں سے داخل کر لیے آپ نے۔
اس سال تو جشن ولادت بائیک ریلی اورلڑکیوں کے جشن ولادت مارشل آرٹس کے مقابلوں کی خرافات سامنے آئی ہیں، ان ہی پر قیاس کرتے ہوئے، کیابعید کہ  اگلے سال مزید جدت کے ساتھ  ہم جشن ولادت کیٹ واک اور فیشن شو بھی شروع کر دیں۔
اگرآپ جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں۔ اس عظیم ہستی کے پیروکار ہیں؟ ذرا ان کی سیرت پڑھ کر دیکھیں، کہ زندگی ان کی کیسی گزری ہے؟ کس کام میں وہ شب و روز مصروف رہتے تھے۔ تاریخ اسلامی سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس 9تلواریں تھیں۔ آج تلواروں سے جشن ولادت النبیؐ کا کیک کاٹنے والے مسلمان ذرا بتائیں گے ، کہ کیا آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے وہ 9تلواریں کیک کاٹنے کے لیے رکھی ہوئی تھیں؟  سب سے بڑا کیک، سب سے مہنگا کیک کاٹنے، عوامی مقامات پر لے جانے کے مقابلے تو دنیا میں کرسمس کے موقع پر منائے جاتے ہیں۔ تو کیا ہم بھی ایک ’’کرسمس‘‘ ٹائپ تہوار منانے کی شروعات تو نہیں کرنے جا رہے۔ آپ بھلے جتنا مرضی انکار میں سر ہلا لیں۔ اس بات کو یاد رکھیے گا کہ بدعات وخرافات یوں ہی جنم لیتی اور پروان چڑھتی ہیں۔میری باتیں کڑوی ضرور ہیں۔ مگر! اگر آپ کا ضمیر ابھی تک زندہ ہے اور آپ کو مسلمان  ہونے کے ناطے دین اسلام کی بالکل بنیادی تعلیمات کابھی علم ہے تو سوچئیے گا ضرور کہ کیا جو کچھ ہو رہا ہے وہ ٹھیک ہو رہا ہے؟

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button