شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / ایڈیٹر کے قلم سے / چائلڈ لیبر مجبوری یا ضروری

چائلڈ لیبر مجبوری یا ضروری

گا۔ یہ پڑھتے ہی میرے ذہن میں اپنے اردگرد کے نظارے گردش کرنے لگے اور میں سوچنے لگا کہ جب چائلڈ لیبر پر پابندی ہے تو اس پھر خاتمہ کس چیز ہوگا۔ جس ملک میں بچوں کو مزدوری کرنے کی اجازت نہیں وہ اس دن کوکیا منائے گا ؟
دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی چائلڈلیبر ﴿یعنی بچوں سے محنت مزدوری کرانا﴾پر پابندی ہے ۔ کسی بچے کو کسی قسم کی مزدوری یا کسی بھی فیکٹری میں کام کرنے کی اجازت نہیں۔ کیااس قانون پر بڑی سختی عملدرآمد ہورہا ہے؟ اتفاق سے میرا فیکٹریوں میں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ جب میں ان فیکٹریوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے بڑی شرمندگی ہوتی ہے کہ ویسے تو پاکستان میں چائلڈ لیبر پر پابندی ہے مگر ان فیکٹریوں میں شاید یہ قانون لاگو نہیں ہیں یا پھر یہ فیکٹریاں بڑے بڑے امیر لوگوں کی ہیں اس لیے ان پر کوئی نہیں پوچھتا۔
میں کسی ایک فیکٹری بات نہیں کررہا بلکہ پورے پاکستان کی بات کررہا ہوں جہاں پر چائلڈ لیبر پر پابندی کے باوجود بچوں کو فیکٹریوں میں بھرتی کیا جاتا ہے اور پھر ان کو معاوضہ بھی کم دیا جاتا ہے۔ ایک طرف قوانین کی خلاف ورزی اور دوسری طرف بچوں سے زیادتی ؟ یہ ہے اپنا پاکستان یا امیروں کا پاکستان۔
جولوگ ان بچوںکو ملز یا دوسرے محکموں میں بھرتی کررہے ہیں ان کو نہیں معلوم کہ وہ اپنے ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہیں تو پھر سب سے پہلے تو ان لوگوں کو پوچھنا چاہیے ۔ ان لوگوں کے خلاف ایکشن لینا چاہیے تاکہ کوئی دوبارہ ایسی حرکت نہ کرسکے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں چودہ سال سے کم عمر کے بچے مفلسی کی وجہ سے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے والدین یا تو بے روزگار ہوتے ہیں یا بہت زیادہ غربت کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں کام کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے پڑھنے لکھنے کی عمر میں پڑھائی کا راستہ چھوڑ کر کہیںپر کوڑا کرکٹ صاف کرتے ہوئے‘ کہیں پھول بیچتے ہوئے‘ کہیں قالین بناتے،کسی ہوٹل پر بیرے کا کام کرتے اور ان سب سے بڑھ کر فیکٹریوں میں کم تنخواہ پر کام کرتے ہوئے نظرآئیںگے۔ جس کی وجہ غربت کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے۔ حکومت اور این جی اوز کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ بڑھتی ہوئی آبادی ہے جب کہ جتنی آبادی بڑھ رہی ہے اس سے کہیں زیادہ وسائل اس دنیا میںموجود ہیں ۔ کیا یہی سرمایہ دارانہ نظام کا اصول ہے کہ ان معصوم بچوں سے ان کے ہونٹوں کی ہنسی چھین لیں اور دنیا میں اپنی پہچان بنانے سے پہلے بے نام زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں۔یہ پھولوںجیسے نازک ہاتھ کانٹے اور کوڑا کرکٹ چننے لگیں؟ ایسی ہی ایک حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں آٹھارہ کروڑ بچے کم عمری میں محنت مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ایک پورٹ کے مطابق پچھلے پانچ سالوں میں چودہ سال سے کم عمر کے بچے مجبوراً محنت مزدوری کرکے اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آئی ایل ڈی کی ایک رپورٹ کے مطابق 35 کروڑ سے زائد بچے کئی طریقوں سے مجبوراً محنت مزدوری کرکے اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ چائلڈلیبرکا کام سب سے زیادہ مشقت کاکام ہیں جو پاکستان میں پچاس لاکھ بچے جھیل رہے ہیں اور اس محنت و مزدوری سے وہ اپناپیٹ بھر رہے ہیں ‘ بہت سی جگہوں پرتو بارہ بارہ گھنٹے لگاتار کام کر تے ہیںاور ان کو انتہائی کم معاوضہ دیا جاتاہے اورایک سروے کے مطابق پانچ ہزار سے زائد بچے زلزلے سے متاثر ہوکر چائلڈ لیبر کے طور پر سخت محنت مشقت کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن ہماری حکومت کو ان کے بارے میں ابھی تک خیال ہی نہیں آیا۔ اس لئے مزدوروں کا خون نچوڑنے کے لیے حکمرانوں نے سرمایہ داروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ یہ حال صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے۔  اگر ہم واقعی چائلڈ لیبر کا خاتمہ چاہتے ہیں تو سب سے پہلے بے روزگاری ختم کرنا ہوگی ۔ کام کرنے کے مواقع پیدا کرنے ہونگے ۔ ان کی مزدوری اور تنخواہوں میں مہنگائی کے مطابق اضافہ کرنا ہوگاکیونکہ جس ماں باپ کے چاربچے ہوں اور ان کی انکم صرف چھ سے سات ہزار روپے ہوتو وہ اس مہنگائی کے عالم میں اپنے بچوں کو تعلیم دلوائے یا ان کا پیٹ بھر سکے ۔ اس مجبور ی میں وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کو بھی مزدوری پر لگا دیتا ہے تاکہ اس کا گھریلواخراجات میں وہ اس کا ہاتھ بٹا سکے ۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ ان بے روزگاری کو ختم کرکے ملازمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرے ۔ مزدوراور ملازمین کی تنخواہوں میں جس شرح سے مہنگائی بڑھ رہی ہے اس شرح سے اضافہ کریں۔مہنگائی تو بڑھتی ہر دوسرے دن اور تنخواہوں میں اضافہ سال میں ایک بار آٹے میں نمک کے برابر کیا جاتا ہے۔ان حالات میں غریب والدین اپنے بچوں سے مزدوری نہ کروائے گا تو اورکیا کریں۔ ﴿بشکریہ پی ایل آئی﴾

یہ بھی پڑھیں  کالم نگارمعاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کی نشاندہی اپنے قلم کے ذریعے کریں:ایم اے تبسم