ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

ہم چلے اس جہاں سے دل اٹھ گیا یہا ں سے

بر صغیر ایشیا میں مہدی حسن کا نام اور ان کی آواز کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ بھارتی راجھستان کے ایک موسیقار گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ 18 جولائی 1927 ﴿بعض روایات کے مطابق انیس سو تیس﴾ کو راجستھان کے علاقے لْونا میں پیدا ہوئے ۔ا نہوں نے موسیقی کی تربیت اپنے والد استاد عظیم خان اور اپنے چچا استاد اسماعیل خان سے حاصل کی، جو کلاسیکل موسیقار تھے۔ مہدی حسن آٹھ سال کی عمر میں کلاسیکی موسیقی میں اپنے آپ کو متعارف کروایا پہلی مرتبہ بچپن میں ہی میں دھْرپد میں پرفارم کیا۔ مہدی حسن بیس برس کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آ گئے۔ہجرت کے بعد شدید مالی مشکلات کی وجہ سے کلاسیکی موسیقی کیاس ممتاز گھرانے کے چشم و چراغ کو سائیکل مرمت کرنے کی ایک دکان میں مزدوری کرنا پری۔بعد میں کام سیکھتے سیکھتے مہدی حسن کار مکینک اور ٹریکٹر مکینک بن گئے۔ اسکے باوجود مہدی حسن خا ن نے پہلوانی کا شوق اور سنگیت کی خاندانی روایت کو نہ چھوڑا اور روزانہ ریاض کرتے رہے ۔مہدی حسن نے اس سفر کا باقاعدہ آغاز 1952 میں ریڈیو پاکستان کے کراچی سٹوڈیو سے کیا اس وقت سے لیکرآج تک وہ پچیس ہزار سے زیادہ فلمی غیر فلمی گیت اور غزلیں گا چکے ہیں۔ گویا سرْ کے سفر کی داستان کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ مہدی حسن خان صاحب شریف النفس انسان تھے جو ہمیشہ جونیئر آرٹسٹوں سے محبت کرتے تھے۔ان کے حوالے سے یہ بات بھی نہایت مشہور تھی کہ جس نئے فنکار پر ان کی آوازکی ریکارڈنگ کی جاتی تھی وہ راتوں رات کامیاب فنکاروں کی فہرست میں آکھڑا ہوتا تھا۔ پروڈیوسر مصنف اور موسیقار خورشید انور نے ذاتی فلم کا آغافلم ’’گھونگھٹ‘‘ سے کیاتھا۔ اس کے ہیرو سنتوش کمار تھے۔ خورشید انور کی موسیقی میں جب مہدی حسن نے جو ’’مجھ کو آواز دے کہاں ہے‘‘ گایا تو لوگ سنتوش کمار کے دیوانے ہوگئے اور سنتوش اس فلم سے اتنے مشہور ہوئے کہ راتوں رات انہیں صف اول کا ہیروز شمار کیا جانے لگا۔ جب کامیڈی ہیروز کا دور تھااور رنگیلا ان ہیروز میں سرفہرست تھے چنانچے رنگیلا کو ہی فلم ’’میری زندگی ہے نغمہ‘‘ کے لئے کاسٹ کیا گیا۔ اس فلم کے ایک گیت’’ اک حسن کی دیوی سے تجھے پیار ہوا تھا‘‘ اتنا مشہور ہوا کہ اس گیت کی وجہ سے رنگیلا مکمل ہیرو کی صف میں آکھڑے ہوئے۔ آج بھی یہ مہدی حسن کے سب سے زیادہ مشہور گانوں میں سرفہرست شمار ہوتا ہے۔مہدی حسن کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی، تمغہ امتیازاور ہلال امتیازسے نوازا گیا۔ بھارت میں انہیں سہگل ایوارڈ جبکہ حکومت نیپال نے مہدی حسن کو گورکھا دکشنا بہو کا اعزاز دیا۔بدھ 13 جون 2012 غزل کے بے تاج بادشاہ مہدی حسن خان اب اس جہانِ فانی میں نہیں رہے۔ گزشتہ کئی عرصے سے فالج میں مبتلا رہنے کے بعد وہ پچاسی سال کی عمر میں کراچی کے آغا خان اسپتال میں انتقال کر گئے۔ مہدی حسن کا اس افراتفری اور شور شرابے کی دنیا سے رخصت ہونا دراصل پاک و ہند سے شاعری اور سنگیت کی ایک روایت کے ختم ہونے کے برابر ہے۔ سنگیت کی دنیا میں کئی دہائیوں تک راج کرنے والے آخر کار اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ مہدی حسن کی موت نے اس جہاں سے ان کا جسمانی ناطہ تو توڑ دیا ہے لیکن ان کی گائی ہوئی غزلیں اور گیت انہیں ہمیشہ ان کے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رکھیں گے۔ ان کی آواز کے بارے میں برصغیر کی عظیم گلوکارہ لتا منگیشکر سے بہتر شاید کسی نے کچھ کہا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔بشکریہ ﴿پریس لائن انٹرنیشن

یہ بھی پڑھیں  اسلام آباد ،لاہورسمیت کئی مقامی عدالتوں کا جیو کیخلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker