تازہ ترینکالممیرافسر امان

عرب بہار اور ہمارے تجزیے!

عرب بہار کی اصطلاح بھی دوسری اصطلاحوں کی طرح ہمارے پاس باہر کی دنیا سے پہنچی اور ہم اسے اپنے تجزیوں میں استعمال کرتے ہیں۔ میں نے ذاتی طور پر اس تبدیلی کو عرب بہار کہنے کے بجائے اپنے مضامین میں’’ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے‘‘ سے تعبیر کیا۔ میں نے تیونس کی تبدیلی کے موقعے پر پہلی دفعہ اس اصطلاح کو استعمال کیا۔ میرے نزدیک اپنے قارئین کو آسان اور اپنی پیدا کی ہوئی اصطلاحوں سے روشناس کرانا چاہیے نہ کہ باہر سے آئی ہوئی اصلاحوں سے۔ہم سب کو معلوم ہے مغرب ؍یہودی پوری دنیا میں میڈیا پرقابض ہے اور ہر بات کے پیچھے اس کے اپنے مفادات ہوتے ہیں یا کم از کم وہ لوگوں کو اپنے پیچھے چلانے پر فخر محسوس کرتا ہے۔اسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کے حوالے سے جسارت کے ایک محترم کالم نگار کے مضامین’’ ہشیار باش‘‘ جو تسلسل سے شائع ہوتے ہیں بڑے غور اور دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ قابل تعریف ہیں جسارت کے ایڈیٹر جنہوں نے اس کو تسلسل سے جاری کیا ہوا ہے اس سے اسلامی دنیا کے بدلتے ہوئے حالات سے آگاہی ملتی ہے ۔محترم کی معلومات اور بیرونی دنیا کے حالات پر گہری گرفت ہے۔ انہیں صلیبیوں کے عزائم سے بھی پوری واقفیت ہے اور اس پر گرفت بھی مکمل اور دلائل سے کرتے ہیں ان کی کتاب ’’جنگوں کے سوداگر‘‘ بھی نظر سے گزری ہیں اس کتاب میں بھی معلومات کا خزانہ ہے اور اس سے امت مسلمہ کے خلاف صلیبیوں کے صف بندی سے بھی آگاہی ملتی ہے۔ ہمارے حلقہ احباب میں ایک اچھی روایت ہے۔ امتِ مسلمہ سے متعلق اخبارات میں لکھے گئے کالموں کو پڑھنے کے لیے ایک دوسرے کو ای میل بھی کرتے ہیں اور اس پر تبصرے بھی ہوتے ہیں۔ نئی لکھی کتابیں ایک دوسرے کو مطالعے کے لیے گفٹ کرتے ہیں تاکہ معلومات کا تبادلہ اور تبصرے کےئے جائیں ۔میں ملنے والے ایسے کالموں میں ہمیشہ اپنے ثاثرات کا اظہار خوشی سے مثبت طور پر کرتا ہوں۔کچھ ہشیار باش کالموں کے بارے میں ذہن میں خلش ہے جس کے لیے یہ کالم تحریر کر رہا ہوں۔اگر کچھ چیز نظر سے اوجھل ہو گئی ہے تو آئندہ سامنے آ جائے۔
ہمیں معلوم ہے اس عرب بہار’’ ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں‘‘ کے پیچھے ایک لمبی جد وجہد ہے ایک تاریخ ہے۔ مصر ہی کو لیں وہاں۸۴ سال سے اخوان المسلمون اسلام کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں ۔مصر میں ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ،ان کو قتل کیا گیا، قید کر دیا گیا، پوری عرب دنیا میں تتربتر کر دیے گئے اور عرب دنیا کے ہر ملک میں وہ اب بھی موجود ہیں اور مسلسل جد وجہد کر رہے ہیں اور کہیں کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔ ۱۹۲۸ ء میں اخوان السلمون کی بنیاد امام حسن البنا شہیدنے مصر میں نے رکھی ان کو ۱۹۴۹ میں شہید کر دیا گیا۔ اس کے لیے دردمندوں نے لاتعداد کتب تصنیف کی ہیں جو مارکیٹ میں موجود ہیں اہل علم اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کے لیے کام کرنے والوں کے پاس برس ہا برس سے زیر مطالعہ بھی ہیں دوسری کتب کے علاوہ ان میں سید قطب شہید ؒ کی تفسیر فی ظلالِ القرآن بھی لوگوں کے زیر مطالعہ ہے شہید ؒ ۱۹۵۴ء میں اخوان ا لمسلمون سے متعارف ہوئے ۱۹۵۴ ء سے ۱۹۶۴ تک جیل میں رہے دوبارہ ۱۹۶۵ ء میں گرفتار کر لیے گئے ایک سال بعد پھانسی دے کر شہید کر دیے گئے۔ پاکستان کے مسلمانوں کو اس جد وجہد کی پوری معلومات ہیں ۔ اسی طرح تیونس میں راشد الغنوشی اسلام کے لیے جدوجہد کر رہے تھے ہجرت پر مجبور ہوئے اب وہاں تبدیلی آئی۔ان کی پارٹی حرکۃالنہضۃہے۔مراکش،الجزائر،سوڈان ، اردن ، شام،
ترکی اور دوسرے اسلامی ملکوں میں اسلام کی سربلندی کے لیے مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں کہیں کامیاب ہو گئے ہیں کہیں جد وجہد جاری ہے۔
مورخہ ۱۱ ستمبر جسارت مضمون ’’کیا مشرق وسطیٰ کا جغرافیہ تبدیل ہونے والا ہے‘‘ لکھتے ہیں اس پوری صورت حال میں ایک اور فیکٹر بھی ہے جس کو بوجہ نظر انداز کیا ہوا ہے ،وہ ہے ترکی۔آہستہ آہستہ اور بتدر یج ترکی کو دوبارہ عالم اسلام کے لیڈر کے منصب پر فائز کیا جا رہا ہے ۔اس مقصد کے لیے ترکی کو مالی طور پر خوشحال کیا گیا ہے… ‘‘ عام قاری کے ذہن میں سوال پیدا ہے کیا تبدیلی کے لیے ترکی کی اسلامی قیادت نے کچھ نہیں کیا؟ وہاں کی تحریک اسلامی کو جدوجہد کا کریڈٹ کیوں نہیں دیا جا رہا؟۔ سب کچھ عالمی سازشی ہی کر رہے ہیں۔اسی طرح مورخہ ۳۰ ستمبر جسارت مضمون’’ عرب بہار کا اگلا نشانہ‘‘ شروع مضمون میں لکھا ہے’’ اردن میں اخوان المسلمون نے ۱۰ اکتوبر سے پورے ملک میں مظاہروں کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے‘‘… مضمون کے آخر میں لکھتے ہیں ’’مگر ایک بات اچھی طرح سمجھ لیجیے کی کہ حزب مخالف کی یہ تحریک چلانے والے بھی ان کے ہی پروردہ ہیں۔اب تحریک شروع ہونے کا انتظار کیجیے،یہ زیادہ دنوں کی بات نہیں ہے۔ اس کے بعد کا انجام بھی دیکھیے گا‘‘۔ کالم نگار کا اشارہ دنیا میں عالمی سازش کاروں کی طرف ہے۔اب غور فرمائیں اخوان المسلمون تحریک شروع کر رہے مر تو اخوان المسلمون رہے ہیں اور دوسر ی طرف اشارہ عالمی شاروں سازش کاروں کی طرف ہے جو تحریک کا کریڈٹ ر لے رہے
ہیں۔ اسی طرح ہمارا تاثر ہے کہ مصر کا ذِکر کرتے ہیں تو ان کے مضامین میں اخوان السلمون کا ذِکر نہیں ہوتاہے تاثر یہ بنتا ہے کہ امریکہ یہ سب کچھ کروا رہا ہے۔ اس میں شک نہیں ہر جگہ شیطان کبیر کا بھی داخل ہی ہوتا ہے یہ تو ہر غالب قوم کی شیطانی چالیں ہوتی ہیں مگر ہم نے تو اپنے لوگوں کی جدو جہد کو اُجاگر کرنا ہوتاہے تاکہ پاکستان کے لوگ ہمت پکڑیں اور تبدیلی کے لیے تحریر چوک بنائیں۔ جب تیونس کی تبدیلی کی بات کرتے ہیں تووہاں کی اسلامی پارٹی حرکۃالنہضۃ اور اس کے لیڈر راشد الغنوشی کا نام تک نہیں لیتے؟ وہاں بھی عالمی سازش کاروں ذِکر فرماتے ہیں جس سے اصل جدوجہد کرنے والے اسلامی عناصراُجاگر نہیں ہوتے۔گو کہ ان کے ا س سلوگن سے اچھا تاثر بنتا ہے کہ جو ہر مضمون کے آخر میں تحریر ہوتا ہے ’’ اس دنیا پر ایک عالمگیر شیطانی حکومت کے قیام کی شیطانی سازشیوں سے خود بھی ہشیار رہیے اور اپنے آس پاس والوں کو بھی خبردار رکھیے‘‘
قارئین!ہمارا کہنا ہے کہ مقامی اسلامی تحریکوں اور اُن کے لیڈروں جو جدوجہد کر رہیں کو اُجاگر کرنا چاہیے تاکہ پاکستان کے لوگوں کے دِلوں میں جذبہ پیدا ہو اور وہ بھی ان شیطان مغرب زدہ حکمرانوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہو اور جہاں بھی عرب ملکوں کی طرح تبدیلی آئے۔ہمارا امریکی فنڈڈ میڈیا تبدیلی کے مثبت اثرات کو اپنی قوم تک نہیں پہنچا رہا ایک تو امریکی حمایت اور دوسرا انہیں خوف ہے کہ مصر کی طرح کا انقلاب اگر پاکستان میں آ گیا تو اُنہیں اسلام کی عائد کردہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جو اب وہ اسلام کی ان عائد کردہ پابندیوں سے اپنے آپ کو آذاد سمجھتے ہیں۔ پاکستان میں اسلامی جماعتیں اور اسلام سے محبت رکھنے والے کالم نگار اس تبدیلی کو اُجاگر کر رہے ہیں یہاں بھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جلدچلیں گے۔انشا اللہ ۔

یہ بھی پڑھیں  کمانڈو کراچی سدھار گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker