تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

عرب دُنیا کی شورش

imran farooqہماری قوم نے پرائی جنگوں میں کودنے سے ہونے والے نقصانات سے سبق نہیں سیکھا ۔ ارضِ پاک کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد ہم نے اپنا وزن امریکہ کے پلڑے میں ڈال دیا ۔ جب امریکہ کیطرف سے ملنے والا اسلحہ 1965کی جنگ میں انڈیا کے خلاف استعمال ہوا تو امریکہ بہادر ناراض ہو گیا ۔ بعد ازاں روس کے خلا ف جنگ میں ہماری سر زمین اور افرادی قوت کا بے دریغ استعمال بھی امریکہ اور اُسکے اتحادیوں کو رام نہ کر سکا ۔ حالانکہ اُس جنگ نے ہمارے معاشرہ کی ہئیت ترکیبی کو ہلا کر رکھ دیا ۔ منشیات اور اسلحہ کا استعمال عام ہوا ۔ اسی طرح بعد ازاں القاعدہ کے خلا ف افغانستان میں امریکی جنگ کے نتائج آج بھی ہمارا پیچھا کر رہے ہیں اور امریکہ کی ناراضگی اس کے علاوہ ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے افغانستان کی جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں جبکہ امریکی سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنا فرض مکمل طور پر ادا نہیں کیا حالانکہ ہمیں معاوضہ بھی ادا کیا گیا ہے ۔ اس ساری صورتحال میں ’’پاک امریکہ دوستی ‘‘کا نعرہ کیا معنی رکھتا ہے ؟
عرب دنیا کو مطلق العنان حکمرانوں کا گڑھ سمجھا جا تا ہے ۔ گزشتہ چند برسوں میں عوامی یورش کے دباؤ میں تیونس ، مصر اور عراق کی حکومتیں تبدیل ہو چکی ہیں ۔ شام بھی مسلسل خانہ جنگی کا شکار ہے ۔ اب یہ یورش یمن تک پہنچ چکی ہے ۔ یمن عرب دنیا میں سب سے مشکل ملک ہے ۔ لیکن یمن کی جغرافیائی حیثیت سٹریٹیجک (Strategic) اعتبار سے بہت اہم ہے۔ کیونکہ یہ آبنائے باب المندب پر واقع ہے ۔ جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے ۔ دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے یہی راستہ استعمال کیا جا تا ہے ۔ حوثی باغیوں کا تعلق شمالی یمن سے ہے ۔ حوثی قبائل نے یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا ہے صدر صالح کے بعد اُنکے نائب صدر منصور ہاد ی کی زیر قیادت قائم ہونے والی حکومت نے القاعدہ اور شیعہ حوثی جنگجوؤں کو جزیرہ نما عرب سے دور رکھنے کی بھر پور جدو جہد کی ۔ لیکن صدر ہادی حالات کے پیشِ نظر دارالحکومت صنعاء سے عدن اور بعد ازاں سعودی عرب چلے گئے ۔
تیل کے وسائل اور اقتدار پر قبضہ کی جنگ آہستہ آہستہ شیعہ سُنی جنگ میں تبدیل ہو رہی ہے ۔ اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ حوثی جنگجو ایرانی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں ۔ عراق اور شام کی شیعہ حکومتیں بھی اُنکی مددگار ہیں ۔ حوثی قبائل کو صنعاء سے بے دخل کرنے کے لیے سعودی فضائیہ نے صنعاء پر بمباری کی ہے ۔ اس سے پہلے بحرین میں بھی شیعوں کے خلاف سعودی فوج بر سر پیکار رہ چکی ہے ۔ عرب دنیا کے سنّی ممالک نے حوثی جنگجوؤں کی جارحیت کے خلاف ایک مشترکہ فوج تیا ر کرنے کا عندیہ دیا ہے ۔ سعودی عرب کی درخواست پر پاکستانی حکومت نے حوثی قبائل کے خلاف اپنی فوج بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پاکستانی عوام کی اکثریتی رائے کے مطابق ہماری فوج کو اِس پراکسی وار میں شامل نہیں ہونا چاہیئے ۔ پاکستانی فوج حکمرانوں کی ملکیّت نہیں جو وہ سعودی حکومت کی نوازشات کے صِلہ میں اسے جنگ میں جھونک دے ۔
یمن کے رہائشی سعودی عرب کی فوج کا حصہ ہیں اس جنگ میں شمولیت سے پاکستان میں بھی شیعہ سُنی فسادات شروع ہو سکتے ہیں ۔ جو پاکستان کی اندرونی سیاست کو مزید کمزور کر دینگے ۔ پاکستان واحد اسلامی جوہری ملک ہے ۔ کسی قسم کی خراب داخلی صورتحال ہمارے جو ہری اثاثہ جات کیلئے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے ۔ اس پراکسی وار کا حصّہ بننے کی بجائے پاکستان کو ترکی کے ساتھ مل کر ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیئے ۔ تاکہ عربوں کا ازلی اور ابدی دشمن اسرائیل اپنے ناپاک عزائم سے باز رہ سکے ۔ بصورتِ دیگر عرب سے شروع ہونے والی شیعہ سُنی جنگ پورے عالمِ اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔اور اس کے نتائج انتہائی بھیانک ہو نگے ۔

یہ بھی پڑھیں  تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن ٹیکسلا کی مجرمانہ غفلت، مکین پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

note

 

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker