تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

تحریک انصاف کی اخلاقی برتری

imran farooqاین اے 125، 122اور 154 کے لیے قائم کردہ الیکشن ٹریبیونلز نے اِن حلقوں میں مئی 2013 ؁ء میں ہونے والے الیکشنز کو کالعدم قرار دے دیا ۔ ان فیصلوں سے پی ۔ٹی ۔آئی کے مؤقف کو تقویت ملی اور اسے اخلاقی برتری حاصل ہو گی ۔ ان تینوں ٹریبیونلز کے ججز رشید محبوبی ، کاظم ملک اور رانا زاہد محمود انتہائی اعلیٰ پیشہ وارانہ شہرت کے حامل ہیں ۔ کاظم ملک صاحب نے تقریباً 30انتخابی عذر داریوں کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے حق میں کیا ہے ۔ لیکن این اے 122 کا فیصلہ پی ۔ٹی ۔آئی کے حق میں آنے سے مسلم لیگ (ن) کے عقاب (Hawks) طیش میں آگئے ۔ اور کاظم ملک پر جھپٹ پڑے ۔ پرویز رشید نے اس فیصلہ کو متعصبانہ اور خود نمائی قرار دیا ۔ رانا ثناء اللہ بھی مونچھوں کو تاؤ دیکر ٹی وی چینلز پر جلوہ افروز ہوئے ۔ اُنہوں نے ملک صاحب کی ذات پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ کاظم ملک صاحب نے بھی ٹی وی چینلز پر آکر ان الزامات کی تردید کی اور ثبوت پیش کرنے پر استعفیٰ دینے کا عندیہ دیا ۔
عدالتوں کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی ماضی کی یادیں کچھ خوشگوار نہیں ۔ پرویز رشید اور راناثناء اللہ نے میاں نواز شریف کی سربراہی میں 1997 ؁ء میں سپریم کورٹ پر ہونے والے حملہ کی یادتازہ کر دی ۔ مسلم لیگی اکابرین بھول گئے کہ کاظم ملک صاحب اُنکے دورِ حکومت میں محکمۂ انسدادِ رشوت ستانی پنجاب کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ اور این اے 122سے پہلے تقریباً 30انتخابی عذرداریوں کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کے حق میں کر چکے ہیں ۔ مسلم لیگی حکومتی رہنماؤں کو اداروں اور عدالتوں پر الزامات کی بجائے سپریم کورٹ میں کاظم ملک پر چارجز (Charges) فریم(Frame) کرنا چاہیئے تھے ۔ اسی طرح دوسری طرف ملک کاظم کو ٹی وی چینلز پر گفتگو کی بجائے توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنا چاہیئے تھا۔
این اے122میں چیئر مین تحریک انصاف کا مقابلہ ایاز صادق سے تھا ۔ عمران خان لاہور یوں کے لیے کرشماتی شخصیت ہیں ۔ دیہی علاقوں میں تھا نہ، کچہری اور پٹوار خانہ کے اُمور سر انجام دینے کیلئے مقامی دھاڑی دار چوہدریوں کو ایم ۔پی ۔اے ، ایم ۔این ۔اے کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ لیکن شہری علاقوں میں پڑھے لکھے لوگوں کو ایم ۔پی ۔اے اور ایم ۔این ۔اے سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ۔ ان حالات میں عمران کو ہرانا ناممکن تھا ۔ ویسے بھی سردار ایاز صادق ایک دور میں پی ۔ٹی ۔آئی کے کارکن تھے ۔ اُنہوں نے ایک دفعہ عمران کو خط لکھا تھا جس کا اُنہیں جواب نہ ملا ۔ اِسی بنا ء پر سردار ایا ز صادق پی ۔ٹی ۔آئی سے الگ ہو گئے ۔
مئی 2013 ؁ ء کے الیکشنز میں این اے 122، 125 اور 154میں کی جانے والی بد انتظامی کا فائدہ مسلم لیگ (ن) کو پہنچا ۔ سیاسی تجربہ کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ دھن ، دھونس کی بناء پر انتخابی کا میابی حاصل کرنے میں آزمودہ کار ہے۔ تھیلے کھولنے کی صورت میں لاہور میں این اے 118،128 اور کچھ صوبائی حلقوں کے مزید فیصلے (ن) لیگ کے خلاف آسکتے ہیں ۔ درحقیقت سابقہ الیکشنز میں حکومت مسلم لیگ (ن) کا ہی مقدر تھی ۔ لیکن پی ۔ٹی۔آئی کی نشستوں کی تعداد تقریباً 65کے لگ بھگ ہونا تھی ۔ جنہیں 34تک محدود رکر دیا گیا ۔ اگر یہ تعداد 65ہوتی تو قومی اسمبلی کی ہیئت ترکیبی یکسر مختلف ہوتی ۔ اب جبکہ خان صاحب نے الیکشن کمیشن کے چار ارکان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ خان صاحب کو سولو فلائٹ کی بجائے دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا چاہیئے ۔ موجودہ حالات میں پی پی پی ، مسلم لیگ (ق) ، عوامی تحریک سمیت جوڈیشل کمیشن میں پیش ہونے والی تمام جماعتوں سے رابطہ کرنا چاہیئے ۔
پی ۔ٹی۔آئی کو ضمنی الیکشنزاور بلدیاتی انتخابات کیلئے نتائج کی پراہ کئیے بغیرمیدان خالی نہیں چھوڑنا چاہیئے۔ کپتان کی جبلت میں غصیلہ پن ہے ۔ وہ ایک فاسٹ بالر رہا ہے ۔ کپتان کو دھیمے مزاج کے مشیران کی اشد ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں چوہدری سرور جیسی معتدل شخصیات کو اہمیت ملنی چاہیئے ۔ضمنی الیکشنز کے بعد الیکشن کمیشن کے خلاف بھر پور تحریک چلائی جا سکتی ہے۔ اس دوران خان صاحب کو کے ۔پی ۔کے کی حکومت کی ناتراشدہ پالیسیوں پر توجہ دینی چاہیئے ۔ پرویز خٹک صاحب کے پاس ساری ریاستی مشینری زنگ آلود ہے ۔ مثلاً ہسپتالوں میں بچوں کیلئے مفت مہیا کی جانے والی مختلف ویکسی نیشنز کی قلت ہے ۔ محکمۂ تعلیم میں اساتذہ اور فنڈز کی کمی کا سامنا ہے ۔ اسی طرح سندھ اور پنجاب میں پارٹی کی تنظیم پر بھر پور توجہ دیں ۔ اندرونِ سندھ اور کراچی کی پچ (Pitch) عمران کیلئے مکمل تیار ہے ۔ صرف میچ شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ میاں صاحبان کی حکومت گرانے پر توجہ دینے کی بجائے مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے سرزد ہونے والی غلطیوں کا نتظار کرنا چاہیئے ۔ احتسابی عمل کی باز گشت لاہو رمیں بھی سُنی جارہی ہے ۔ بڑے بڑے مگر مچھوں کی شامت آنے والی ہے۔ اِس دُنیا کی ریت ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے ۔ اُمیدِ واثق ہے کہ یہ سارا حکومتی نظام بھی صفائی کے عمل سے گذرے گا۔

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:واپڈا ،ٹیلی فون اور سوئی گیس کے بل بر وقت نہ ملنے سے صارفین کو ہزاروں روپے جرمانہ

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker