ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیر ے ہیں

ادب گا ہسیت زیر آسما ن از عرش نا زک تر نفس گم کر دہ می آید جنید و با یز ید ایں جا
میں جس دربا ر کے با رے میں با ت کر رہا ہو ں وہ عرش سے نا زک تر دربا ر ہے ۔ اور وہا ں تو لو گ اپنی سا نس پر بھی پا بندی لگا تے ہیں کہ کہیں سا نس بھی بلند طر یقے سے نہ چلنے پا ئے ۔ حو ر و ملا ئیکہ کے سردار جبرائیل ؑ کی منز ل کا جہا ں اختتام ہو تا ہے وہا ں سے آپ ﷺ کے سفر کا آغاز ہو تا ہے ۔ حدیث مبا رکہ کا مفہوم ہے کہ تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا کہ جب تک میں اسکو اسکے والدین, آل اولاد ، مال اسباب اور ہر شے سے زیا دہ عزیز نہ ہو جا ؤ ں بنی عمر بن عو ف کے ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستا خی کی ۔ اس نے ایک نظم لکھی جس میں آپﷺ کی شان میں گستا خی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ کو پتا چلا تو آپ ﷺ نے فرمایا میرا کو ن سا عا شق ہے جو اس خبیث سے بدلا لے گا ۔ رسول اللہ ﷺ رحمت ہی نہیں بلکہ جان رحمت ہیں ۔ اور رحمت اللعالمین ہیں آپ ﷺ کی طرف سے غصے کا اظہا ر بھی ایک رحمت ہے ۔ چو نکہ ایسے منحوس لو گ اگر معا شرے میں ہو ں تو زمین کے پھٹ جا نے کا خطرہ ہو تا ہے ۔ آ سما ن سے آگ بر سنے کا خطرہ ہو تا ہے ۔ لہذا ان لو گو ں کو واصل جہنم کر نا یہ زمین کو بچا نے کے لیے ضروری ہو تا ہے ۔ اور سو سائٹی کو اللہ تعا لیٰ کی پکٹر سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہو تا ہے ۔ اس واسطے رسول اللہ ﷺ نے رحمت کرتے ہو ئے فرمایا کو ن ہے جو اس خبیث سے میرا بدلہ لے اس نے میری شان میں گستا خی کی ہے ۔ رسول اکرم ﷺ کی طرف سے جب یہ اعلان ہوا ۔ حضرت سالم بن عمیرؓ اٹھے اور اس گستا خ کو جا کر قتل کردیا ۔ ایک ہے مطلقا کا فر ہو نا اور ایک ہے کا فر ہو کر شرارتی ہو نا اور پھر کا فر ہو نکے ساتھ ساتھ گستا خ بھی ہو نا یہ ظلم با لا ئے ظلم ہے اور یہ ایک شخص کا گھناؤنا کردار ہے ۔ حقیقت میں آ ج وہ وقت آگیا ہے جب کھرے اور کھو ٹے کی پہچان ہو گی ، حق و با طل کی تفریق سا منے آئے گی اور اچھے بر ے کا بخو بی اندازہ ہو جا ئے گا ہما ری محبتوں اور عقیدتو ں کے محور اس عظیم ذا ت کو نشانہ بنا یا گیا ہے جن کے دم سے کا ئنا ت کا نظام ایجا د ہو ا ہے ۔ امریکی نثراد یہو دی سام با سل اور ٹیری جو نز نے INNOCENCE OF MUSLIMS تو ہین آمیز مووی بنا کر مسلمانو ں کی غیرت کو للکا را ہے پو ری دنیا کے عیسا ئی اور یہو د و ہنود یہ تما شا دیکھنا چا ہتے ہیں کہ مسلمان اپنے پیغمبر ﷺ سے کتنی محبت رکھتے ہیں اور ان کے قول و فعل میں کیا مطا بقت ہے اور کیا واقع میں ہی یہ اپنی اولا د اپنے ماں با پ اور اپنے ما ل و اسبا ب اور ہر شے سے زیادہ آپ ﷺ سے محبت کر تے ہیں کہ یا محض دعوے دار ہیں ۔ پو ری امت مسلمہ کیلیے لمحہ فکر یہ ہے ہر مسلمان کی غیرت اور ایمان کو جھنجو ڑنے کیلیے اور انہیں خواب غفلت سے جگا نے کیلیے اسرائیلیوں اور امریکن کی یہ ایک حرکت کافی ہے کہا ں گئے وہ طالبا ن جو حق کی خا طر سب کچھ لٹا نے کا جذبہ رکھتے ہیں مسجدو ں ، دربا رو ں اور آستا نو ں کو نشانہ بنا نے والو ں کو یہ امریکی اور یہو دی دہشت گر د اور شریعیت کے دشمن کیو ں دکھا ئی نہیں دیتے ہیں اب خود کش حملے کیو ں نہیں کیے جا رہے ہیں کفا ر و مشرقین کے ان ایوانوں میں جہا ں ہما رے آقا ﷺ اور قرآن پاک کے تقدس کو پا مال کیا جا رہا ہے جہا ں مسلمانو ں کی عزت نفس اور رعب و دبدبے کو پا ؤ ں تلے روندا جا رہا ہے اب وقت ہے حکمرانو ں کے ایمان کا جا ئزہ لینے کا اور اب یہ پتا چلے گا کہ کو ن کتنا مومن ہے کس کے اند ر جذبہ ایمانی زندہ ہے اور کون شراب کے نشے میں دھت ہو کر عیاشی کی زندگی گزار رہا ہے اور اسے خبر ہی نہیں کہ دشمن اسکی سب سے قیمتی شے کو چورا کر لے گیا ہے بڑے بڑے نام نہا د سکالر اور مغربی دنیا کے بجھن گا نے والے کہا ں کھوگئے ہیں امریکہ کی گود میں بیٹھ کر اقتدار کی سواری پر پہنچنے والے کیو نکر ناموس رسالت کے حق میں آواز اٹھا ئیں گے آج اپنے اور پر ائے کا راز افشا ں ہو جا ئے گا اے امت مسلمہ کے نو جوانوں یہ موقع ہے کسی حکمران کے ایمان کے پرکھنے کا کہ کون امریکی خبیثوں کو منہ توڑ جواب دیتا ہے اور کون اپنے آقا ﷺ کی ناموس پر آنے والے حرف کا بدلہ لیتاہے ہما را لیڈر ہما را رہبر وہی ہے جسے اپنی جان و مال اپنی اولاد اور ما ں با پ سب سے زیا دہ عزیز رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے اسی قیا دت کا ساتھ دو جو اس وقت پو ری امت مسلمہ کا بدلہ لے امریکی اور اسرائیلی حکمرانو ں سے، سبز با غ دکھا کر اور قوم کو دھوکا دیکر جو لوگ ایوان اقتدار تک پہنچے ہیں یہ سب امریکی پا لتو ہیں انہیں اپنے ملک و قوم اور اپنے ایمان سے کوئی غرض نہیں ہے مسترد کر دیں ان بہر وپیو ں کو جو مسلمانو ں کا لبا دہ اوڑھ کر غیر و ں کا ساتھ دیتے ہیں جو اہل ایمان کہلا تے ہو ئے بھی اپنی کتا ب اور پیغمبر کی تو ہین برداشت کر لیتے ہیں مسلمانو ں کو اس وقت اس قیا دت کی ضرورت ہے جو کامل ایمان کی حامل ہو جس کے دل میں عشق مصطفیﷺ کی شمع روشن ہو اور جو اپنے پرائے میں تفریق کر نا جا نتی ہو جو اپنے ذاتی مفادات پر ملک و قوم کو مقدم رکھتی ہو جو حلا ل و حرام کا فر ق جا نتی ہو جو حق و باطل کو جد ا کرنا جا نتی ہو جو قرآن و سنت کا درس اپنے سینے میں رکھتی ہو اور جو جہا د کی قوت سے سرشار ہو اور عدل و انصاف کا بول بالا کر نے والی ہو ۔ ہما رے سا رے مسائل کا حل اور ہما رے عروج کا سبب یہی بات ہو گی کہ کوئی ایما ندار اور حق و صداقت پر پہرا دینے والی قیا دت ہمیں میسر آجا ئے جس کے سینے میں عشق مصطفیﷺ کی حرارت مو جود ہو اور رسول اللہ ﷺ کے منصب و مرتبہ کی پہچان رکھتا ہو آئیے آ ج اس دکھ اور آفا ت کی گھڑی میں رب کے ہا ں عہد کریں کہ ایسے شخص کو اپنا قا ئد مانیں گے اور الیکشن میں اسکا ساتھ دیں گے جو دنیا وی تعلیم اور معاملا ت کے ساتھ ساتھ دین کی راہ کا بھی پختہ مسا فر ہو گا ۔ جس کے کردارو افکا ر اسلا
ف کے طریقہ سے مزین ہو ں گے ۔ جس کے دل میں ملک و قوم سے محبت کا جذبہ زندہ و جا وید ہو گا اور جو غیروں کو منہ تو ڑ جواب دینا بھی جا نتا ہو گا آئیے آنے وا لے دور کے لیے دل میں یہ شا عر مشرق درویش صفت انسان کی صدا کو رچا بسا لیں
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہا ں چیز ہے کیا لو ح و قلم تیرے ہیں

یہ بھی پڑھیں  ’’مظالم کا شکار بھارتی مسلمان‘‘

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker