تازہ ترینجاوید صدیقیکالم

اے آر وائی نیٹ ورک کے سولہ سال

javidسن انیس سو اٹھانوے اور ننانوے کے دوران جب میں میڈیا میں ڈراموں میں کردار ادا کرتا تھا اسی دوران میرے دوست کے دوست جناب الطاف صاحب سے ملاقات ہوئی، اُن سے تعارف ہوا تو پتہ چلا کہ وہ ایک پروڈکشن ہاؤس ریز میں بحیثیت جنرل منیجر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں ، یہ پروڈکشن ہاؤس جناب سلمان اقبال کا تھا، الطاف صاحب نے بتایا کہ سن دو ہزار میں پاکستان کا سب سے بڑا اور پہلا سٹلائٹ چینل نجی شعبے میں پہلی بار یہی ادارہ لیکر آرہا ہے ، اس کی نشریات برطانیہ کے شہر لندن سے کی جائیگی، یہ جان کر مجھے اور خوشی ہوئی کہ شکر ہے کہ پی ٹی وی کے چکر کاٹتے کاٹتے اور اُس وقت کے فرعون پروڈیوسروں سے مجھ جیسے عام میڈیا میں شوق رکھنے والے محفوظ رہیں گے بحرحال وہ وقت بھی آگیا جب سولہ ستمبر سن دو ہزار کو فلک پر دنیا کے ایک سو چھبیس ممالک میں بیک وقت دیکھا جانے والا پاکستانی نجی سٹلائٹ چینل آن ایئر ہوا یہ چینل اے آر وائی ڈیجیٹل تھا، اے آر وائی ڈیجیٹل میں ہر سیگمنٹ شامل تھا اُس وقت دس بجے خبریں ہوتی تھیں جبکہ میوزک، کرنٹ افیئرز، اسلامک، بچوں کے پروگرامز،میگزین شو، ٹاک شوز، کچن شوز، اسپورٹس شوزسمیت دیگرتمام سیگمنٹ ایک ہی چینل اے آر وائی ڈیجیٹل میں تھے، اُس وقت یہ چینل ایک اسٹوڈیو اور دو نان لینئر ایڈیٹنگ،دو لینئر ایڈیٹنگ، ایک گرافک روم، ایک وڈیو لائبریری، ایک اکاؤنٹ آفس، ایک ای این جی روم اور چند افسران کے دفاتر تھے یہ تمام اُس وقت کراچی کے سائٹ علاقے عائشہ الیکٹرک انڈسٹریز و ملت فین فیکٹری کی دوسری منزل پر ایک چھوٹے سے حصے پر واقعہ تھا، چند ماہ بعد پاکستان کا سب سے بڑا شو اے آر وائی سیف اسٹار گولڈ کے نام سے شروع کیا گیا جسے معروف پاکستانی فلم ایکٹر ندیم اور ژالہ سرحدی کرتے تھے جس کے ذریعے بیشمار گولڈ کے انعامات اپنے ناظرین کو آسان سوالات کے ذریعے پہنچایا جاتا تھا ان تمام پروگرام کو ریکارڈ کرکے بیٹا ٹیپ کے ذریعے لندن بائی ایئر پہنچایا جاتاتھا جبکہ مارننگ شو اور اے آر وائی سیف اسٹار گولڈ براہ راست کراچی اسٹوڈیو کے ذریعے نشر کیا جاتا تھا ۔اے آر وائی کے چیئرمین حاجی عبد الرزاق صاحب مرحوم کی سرپرستی میں وائس چیئرمین حاجی محمد اقبال اور ان کے بیٹےسی ای او و صدر سلمان اقبال کے ساتھ ساتھ حاجی عبد الرؤف صاحب نے شب و روز انتھک محنت کرکے اے آر وائی ڈیجیٹل کو نیٹ ورک بنایا ، سن دو ہزار میں نیوز کا باقائدہ چینل اے آر وائی ون ورلڈ اوراسلامی چینل کیو ٹی وی لاؤنچ کیا پھر وقت کے ساتھ ساتھ فیشن ٹی وی، دی میوزک،اے آر وائی ذوق پھر اے آر وائی زندگی لاؤنچ کیا یاد رکھنے کی بات تو یہ ہے کہ اے آر وائی مڈل ایسٹ، اے آر وائی انڈیا، اے آر وائی امریکہ، اےآر وائی یورپ بھی لاؤنچ کیئے جبکہ ایچ بی او سمیت دیگر یورپ کے چینلز کی فرنچائز بھی لیں ہیں۔۔ میں جاوید صدیقی نے اٹھارہ مارچ سن دو ہزار ایک کو باقائدہ اے آر وائی ڈیجیٹل جوائن کیاتھا اُس وقت وڈیو لائبریری انچارج تھا چند ما ہ ہی میں محنت و لگن کیساتھ پروڈکشن میں بحیثیت ڈائریکٹر اپنی خدمات پیش کرنے لگا مجھے حاجی عبد الرؤف صاحب نے کیو ٹی وی کی پروڈکشن کیلئے مختص کردیا آٹھ سال کیو ٹی وی میں اپنی خدمات پیش کرنے کے بعد اے آر وائی نیوز میں تبادلہ کروایا اور آٹھ سالوں سے اے آر وائی نیوز سے منسلک ہوں۔ اے آر وائی ڈیجیتل سے نیٹ ورک کوئی آسان راستہ نہیں تھا اس بلندی کیلئے جس قدر مالکان نے مکمل توجہ اور اپنے ملازمین کا خیال رکھا وہ شائد کہیں دیکھنے میں آتا ہوں، اے آر وائی نیٹ ورک کے مالکان کا یہ خاصہ رہا ہے کہ انھوں نے اپنے ملازمین کو ہمیشہ اپنی فیملی کا حصہ سمجھا اسی لیئے ان کی ہر جائز مسائل کو ھل کرنے کیلئے فی الفور عمل کیا جاتا رہا ہے ۔۔۔!! مجھے وہ وقت آج بھی یاد ہے جب ہم تقریبا ً کراچی میں چالیس افراد پر مشتمل ملازمین تھے ابتدائی دور تھا میں کراچی میں رہتے ہوئے بھی اپنے گھر کئی ماہ بعد گیا کیونکہ اُن دنوں چینلز کا کام بہت زیادہ تھا یہی سوتے تھے اور کام کرتے تھے، چینل کی جانب سے کینٹین میں کھانا اور چائے مفت ملا کرتی تھی اُن چالیس ملازمین کی کاوشوں کو آج بھی سلمان اقبال یاد رکھتے ہیں اور اپنے سینئر ملازمین کی  تمام ملازمین نہ صرف قدر کرتے ہیں بلکہ انہیں چینل کا اثاثہ بھی سمجھتے ہیں اسی لیئے کوئی افسر اگر اپنی افسری میں بہک جائے اور سینئر ملازمین کو اپنی انا، ضداور اپنی گروہ بندی کے تحت پریشان کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس عمل کی خبر مالکان تک پہنچ جائے تو اُس افسر کی بازپرسی کی جاتی تھی لیکن میڈیا کی منافقت کی بنا پر اب گروہ بند، چاپلوس، غیر پروفیشنلز کا غلبہ بڑھتا جارہا ہے اسی بابت سینئرز اب جونیئرز کے مقابلے میں نہ تو ترقی حاصل کرپارہے ہیں اور نہ ہی دیگر مراعات سے استفادہ کررہے ہیں، یہ عمل چینل کیلئے نا مناسب ہے۔۔!! کسی کا حق تلفی سے کبھی بھی نہ تو معیار بلند ہوتا ہے اور نہ ہی دیرپا مقبولیت قائم رہتی ہے ، ہمارے مالکان نے اب یہ محسوس کرنا شروع کردیا ہے کہ چند ایک ایسے افسر ہیں جو اپنے گروپ اور گروہ بندی بنا کر بیٹھے ہیں جن سے من پسند ملازمین کو بے پناہ نوازا جارہا ہے وہ وقت دور نہیں جب ایسے افسران کا محاسبہ جلد کیا جائیگا اور اس طرح کے ناسور کا انشا اللہ جلد خاتمہ کرکے اس نیٹ ورک کو بہتر سے بہترانداز میں پیش کیا جائیگا ، مخلص ملازمین کی وجہ سے آج اے آر وائی نیٹ ورک اپنے ناظرین میں سب سے زیادہ مقبولیت کا حامی ہے اور میری دُعا ہے کہ اللہ ہماری کوششوں کا زائل ہونے سے بچائے اور مخلص ملازمین کی نہ صرف نوکری قائم و دائم رکھے بلکہ ان کے جائز حقوق ملنے کیلئے غیب سے مدد فرمائے آمین ثما آمین۔ پاکستان کا المیہ ہے کہ یہاں محنتی، قابل، ماہر ملازمین اپنی محنت اور جدوجہد سے اداروں کو بلندی پر پہنچاتے ہیں اور دوسری جانب نا ہل ، چاپلوس قسم کے ملازمین گروہ بندی اور گروپ بنا کر اہل لوگوں کیلئے مشکلات پیدا کرتے ہیں لیکن آخر کار مخلص اور محنتی ملازمین ہی سر خرو ہوتے ہیں کیونکہ اللہ کسی کی محنت اور خلوص کو ضائع نہیں کرتا۔!! میں اپنے سولہ سالہ تجربہ کی بنیاد پر کہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں جتنے بھی چینل آجائیں انشا اللہ اے آر وائی نیٹ ورک کی مقبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑیگا کیونکہ یہ چینل انتہائی محنت، جدوجہداور پروفیشنلزازم کے تحت وجود میں آیا ہے اور اس کی بنیاد بہت مضبوط ہے، وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ اے آر وائی نیٹ ورک نے اپنے سینئر ملازمین کی خدمات سے اس چینل کو بلندیوں پر پہنچادیا ہے اور ممکن ہے اے آر وائی نیٹ ورک کے ناظرین مزید بہتر دیکھیں گے۔اے آر وائی نیٹ ورک کی سب سے اعلیٰ بات یہ ہے کہ وطن عزیز اور قوم کیلئے ہر نقصان برداشت کرتا ہے اور اسلام اور وطن عزیز کی سلامتی و بقا کیلئے اپنا ہمیشہ مثبت کردار ادا کرتا چلا آیا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ اس چینل کے مالکان کی حب الوطنی کا جذبہ ہے جو انہیں دادا پشتی سے حاصل رہا ہے ، اے آر وائی نیٹ ورک کے خاندان نے ہمیشہ وطن اور انسانیت کیلئے کام کیا اسی بابت اس چینل کے پلیٹ فارم سے دکھی انسانیت کی خدمت کا سلسلہ خواجہ غریب نواز ا نٹرنیشنل ٹرسٹ اور احساس نیشنل ٹرسٹ کے ذریعے غریب و غربا کی ہر ممکن اور ہر سطح پر امداد کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔۔!!اللہ ہمارے چینلز سمیت پاکستان کو بلندیوں کی صف میں ہمیشہ قائم و دائم رکھے آمین ثما آمین۔۔۔!! پاکستان زندہ باد، پاکستان پائندہ باد
note
یہ بھی پڑھیں  قومی انڈر 19 كركٹ ٹیم ایشیا كپ میں شركت كے بعد وطن واپس پہنچ گئی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker