تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

اسفندیارولی خان کااے پی سی میں شرکت نہ کرنے کا اصولی فیصلہ

zafar ali shah logoقلم اٹھانے کے لئے روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے واقعات،خطے کی صورتحال،امن و امان کی حالت،عوامی مشکلات،ترقیاتی عمل ، اداروں کا کرداراور اہم قومی،علاقائی اور بین الاقوامی سیاسی و معاشی معاملات سمیت ڈھیر سارے ایشوز ہیں جیسے کہ 13ستمبر کو کرغزستان کے دارالحکومت میں بشلک میں پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات۔۔کیونکہ خطے کی مجموعی صورتحال اور بارڈرز پر دونوں ممالک کے درمیا ن جاری کشیدگی کے تناظر میں اس ملاقات کی اہمیت کو کسی صورت رد نہیں کیاجاسکتا۔کراچی کی صورتحال وہاں جاری موت کا جاری رقص اورآپریشن کا معاملہ،صدر زرداری کی رخصتی اور ملک کے بارہویں صدر کی حیثیت سے ممنون حسین کی صدارتی محل میں آمد،صوبہ ہزارہ کا معاملہ جس نے ایک بارپھر سر اٹھالیاہے اور یہ وفاقی اور خیبرپختونخواہ حکومت کے لئے بہر صورت پریشان کن مرحلہ ہے،میاں صاحب سے وعدہ کہ انہیں کمزور نہیں ہونے دیں گے سابق صدر زرداری کے اس بیان کے پس منظر،رواں حالات اور مستقبل میں اس کے پڑنے والے ممکنہ اثرات کا تجزیہ بھی کیا جاسکتا ہے اور اس پر تبصرہ بھی،مشہورزمانہ شاہ زیب قتل کیس کے حوالے سے بھی لکھا جاسکتا ہے جس میں موصولہ اطلاعات یہ ہیں کہ ورثاء نے قصاص ودیت قانون کے تحت شاہ رخ جتوئی سمیت مقدمے کے تمام ملزمان کو معاف کردیاہے اگرچہ قانون میں معافی کی گنجائش موجود ہے تاہم سوال یہ ضرور اٹھتا ہے کہ کیا سرعام دہشت اوروحشت کے ننگے کھیل کے کھلاڑی یوں آسانی سے آزاد ہوں گے ۔معافی کے لئے تو ورثاء کی مجبوری بھی ہوسکتی ہے لیکن ایسے واقعات کے تدارک کے لئے ریاست کی کیا ذمہ داری ہوگی یہ موضوع بھی زیربحث وتحریر آسکتاہے،دہشت گردی کی صورتحال سے نمٹنے اور طالبان سے مذاکرات کرنے جیسے ایشوپر منعقدہ حالیہ آل پارٹیز کانفرنس اور ڈینگی کی یلغار جس نے پورے سوات کو بری طرح اپنی لپیت میں لے لیا ہے وہاں حملہ آور ڈینگی کے باعث انسانی اموات، طبی سہولیات کی حالت،حکومت اور محکمہ صحت کاکردار اور عوامی مشکلات بھی باربار موضوع تحریر بننے کے متقاضی معاملات ہیں،نومنتخب صدر کا یہ کہنا کہ مسئلہ کشمیر بھارت کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی راہ میں بڑی رکاؤٹ ہے اور پیپلز پارٹی کے رہنماء ممتازقانون دان سینیٹر اعتزاز احسن کے اس بیان کی اہمیت کہ سابق صدر کی استثناء ختم ہوگئی ہے اور نیب دوبارہ مقدمات شروع کرسکتاہے کوبھی تحریر کے ذریعے اجاگر کیا جاسکتا ہے لیکن جس نکتے کو آج میں اپنے کالم کا موضوع بنارہاہوں وہ ہے عوامی نیشنل پارٹی کے سابق مرکزی صدر اسفندیارولی خان کا دہشت گردی کے معاملے سے نمٹنے اور طالبان سے ممکنہ مذاکرات کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کا متفقہ مؤقف سامنے لانے کی غرض سے وفاقی حکومت کی بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں بذات خود شرکت نہ کرنے کا اصولی فیصلہ اور ان کا یہ کہنا کہ چونکہ چند روز قبل ان کی جماعت کی ملک بھر میں موجود اوپر سے نیچے تک کی تمام تنظیمیں تحلیل کردی گئی ہیں اور اس وقت ان کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیں ہے جس کے پیش نظر وہ اے پی سی میں شرکت کرنے سے معذرت کرتے ہیں ۔اگرچہ اے پی سی میں اسفندیار ولی خان کی شرکت نہ کرنا بظاہر اتنی بڑی بات نہیں اور اسے وقتی اور واقعاتی پہلوکے طور پر لیا جاسکتا ہے لیکن اگر بادی النظر میں دیکھا جائے تو اسفندیارولی خان ایک قدآور شخصیت اورسینئر پارلیمنٹیرین ہیں وہ ملکی بالخصوص خیبر پختونخواہ اور قبائلی خطے کی کسکر سیاست اور افغان امور سے خوب واقفیت رکھتے اور اپنی جماعت کی مرکزی قیادت کرنے والے زیرک ،معاملہ فہم اور بڑے سیاسی بصیرت کے حامل سیاستدان ہیں جب کہ خان عبدالغفارخان (باچاخان) کے پوتے اور خان عبدالولی خان کے فرزند ہونے کے ناطے ان کی سیاسی حیثیت اور عوامی نیشنل پارٹی کے اندرونِ خانہ اہمیت کو کسی صورت رد اور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔مخالفین کے الزامات اپنی جگہ اور اس حقیقت کے باوجود کہ ان کی قیادت میں عوامی نیشنل پارٹی گیارہ مئی کے عام انتخابات میں شکست سے دوچار ہوئی جس کی وجوہات اور بھی کئی ساری ہیں قیادت پر انگلی اٹھانے کے سواء اور یہ بھی کہ جمہوری سفر پر گامزن سیاسی جماعتیں عروج و زوال کے ایسے عمل سے گزرتی رہتی ہیں جب کہ عام الیکشن میں اے این پی کی شکست کا رونا رونے اور اسفندیارولی کی قیادت پر انگلی اٹھانے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ 2008کے عام انتخابات میں اے این پی نے اسفندیارولی ہی کی قیادت میں قابل ذکر غیرمعمولی کامیابی حاصل کی تھی لیکن بدقسمتی سے قیادت سے لے عام کارکن تک پارٹی غیرمعمولی دہشت گردی کی زد میں رہتے ہوئے کھل کر کام کرنے اور عوام کے درمیان جانے سے قاصررہی۔بہرحال ذکر ہورہاہے اسفندیارولی خان کے اے پی سی میں شریک نہ ہونے کا تو حقائق پر مبنی ان تمام محرکات کے پیش نظر ان کی شخصیت اے پی سی میں شرکت کرنے کی قابل تھی۔ اور ان کی جماعت اس کے لئے جواز بھی ڈھونڈ سکتی تھی اور یہاں توسیاستدانوں کے غیرآئینی اور غیردستوری اقدامات کی کئی مثالیں موجود ہیں جیسے کہ ملک کے سب سے بڑے آئینی عہدے پر فائزسابق صدر زرداری جو کہ عہدہ صدارت رکھنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے شریک چیئرمین بھی رہے حالانکہ آئینی لحاظ سے ان کے لئے ضروری تھا کہ سیاسی طور پر یکسر غیرجانبداررہتے ۔تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر بھی خیبر پختونخواہ کے حکومتی معاملات میں غیرضروری مداخلت اورسرکاری ا
جلاسوں میں شرکت کرنے کے الزامات ہیں جو کہ ان اصل مینڈیٹ نہیں ہے لیکن چونکہ پارٹی کے چیئرمین ہیں سو کوئی بھی اقدام چاہے آئینی ہو یا غیرآئینی ،دائرہ اختیار میں ہوکہ نہیں اٹھاتے ہوئے آئین وقانون اور دستورومنشور کی کوئی شق ان پر لاگو نہیں ہوتی۔ایسے میں وزیراعظم اور وزیرداخلہ کے باربار اصرار کے باوجود اسفندیارولی خان کی جانب سے اے پی سی میں شرکت کرنے سے یہ کہہ کرمعذرت کرلینا کہ پارٹی کی تنظیمیں تحلیل ہیں اور ان کے پاس پارٹی کا کوئی عہدہ نہیںیہ ایک اصولی فیصلہ اور نہ صرف قابل تعریف بلکہ قابل تقلید اقدام ہے اور اگر سیاسی اداروں میں ایسے اصولی فیصلے اور اقدامات ہوتے رہے تو ہمارا سیاسی اور جمہوری سفر کامیابی سے رواں دواں رہے گا واضح رہے کہ اسفندیار ولی کی جگہ سینیٹرحاجی عدیل اے پی سی اجلاس میں شریک رہے ہیں جنہیں عوامی نیشنل پارٹی کی تنظیمیں تحلیل کرنے کے بعد نئی پارٹی الیکشن کے لئے قائم الیکشن کمیشن کا مرکزی چیئرمین مقرر کیاگیاہے۔

یہ بھی پڑھیں  دھرنے والے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں، اسحاق ڈار

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker