تازہ ترینکالم

اصغر خاں کیس کے پیپلزپارٹی پر اثرات

اصغر خاں کیس کا تفصیلی فیصلہ آ گیاجو کم و بیش ایک سو پچاس صفحات پر مشتمل ہے۔۔۔ اب حکومت کے پاس سپریم کورت کے احکاما ت کی روشنی میں اس پر عملدرآمد نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں رہی۔حکومت پہلے کہتی رہی ہے کہ تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ہی جنرل اسلم بیگ ،جنرل اسد دورانی اور میاں نواز شریف سمیت تمام متعلقہ افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔۔۔اس فیصلہ کے آنے پر پیپلز پارٹی کے راہنما اور ھکومتی وزرا خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے اور بغلیں بھی بجاتے دکھائی دئیے۔۔۔ان کے تلخ و تند اخباری بیانات کی توپوں کا رخ خصوصی طور پر مسلم لیگ نواز کی قیادت کی جانب ہے۔۔۔جوابی طور پر مسلم لیگ والوں نے میاں شہباز شریف کی حکومت کو گرانے کے لیے آئی بی کے فنڈ سے ستائیس کروڑ روپے نکلوانے کے الزامات کا سامنا پیپلز پارٹی اور حکومت کو کرنا پر رہا ہے ۔۔۔جو اب سپریم کورٹ نے آئی بی کے فنڈ سے ستائیس کروڑ روپے نکلوانے کی خبروں کو پٹیشن میں تبدیل کر دیا ہے اور اس کی سماعت دو ہفتوں بعد رکھی گئی ہے۔۔۔ا صغر خان کیس کا ایک اور پہلو جس پر اپوزیشن کا زور ہے ۔اور کہا جا رہا اہے کہ جنرل اسد دورانی نے بطور سفیر جو خط بینظیر بھٹو کو لکھا تھا اور جو اب اس ک فیصلہ کا حصہ ہے ۔ میں پیپلز پارٹی کے راہنماؤ ں کا ذکر خیر موجود ہے جنہوں نے آئی ایس اائی سے رقوم وصول کی تھیں۔۔۔جن میں سابق نگران وزرائے اعظم ملک معراج خالد اور غلام مصطفی جتوئی کے علاوہ سابق شیر پنجاب ملک غلام مصطفی کھر،عبدالحفیظ پیرزادہ، ارباب غلام رحیم، بیگم عابدہ حسین کے نام قابل ذکر ہیں۔۔۔تجزیہ نگار ہوں یا کالم نگار یا پھر دیگر صحافی دوست ہوں سب ایک تاریخی غلطی کر رہے ہیں جس کی توضیح کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں۔۔۔آئی ایس آئی نے آئی جے آئی بنوائی 1988 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی خصوصا محترمہ بینظیر بھٹو کی کلین سویپ کامیابی روکنے کے لیےآئی جے آئی بنوائی۔۔۔اور وہ اس میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئی۔ ورنہ پیپلزپارٹی کہیں زیادہ نشستیں حاصل کرتی۔۔۔ پیپلز پارٹی کے راستے میں سپیڈ بریکر کوئی پہلی بار تعمیر نہیں کیے گے یہ ہر دور میں ہوا ہے۔۔۔ہاں تو میں بات کر رہا تھا اصغر خاں کیس میں رقم وصول کرنے والے پیپلز پارٹی کے راہنماؤں کی حقیقت کا تو سب سے پہلے ہم غلام مصطفی جتوئی اور غلام مصطفی کھر کا ذکر کرتے ہیں۔تو میرے تجزیہ نگار اور کالم نگار دوست اپنا اپنا ریکارڈ درست کر لیں کہ یہ دونوں صاحبان (غلام مصطفی جتوئی اور غلام مصطفی کھر) لگ بھگ 1984 پیپلز پارٹی سے بغاوت کر گے تھے ۔اور انہوں نے بینظیر بھٹو کے مد مقابل اپنی نیشنل پیپلز پارٹی قائم کی تھی ۔۔۔جو بعد میں مذید دو حصوں ّ ّ نیشنل پیپلز پارٹی جتوئی گروپ اور نیشنل پیپلز پارٹی کھر گروپ میں بٹ گئی ۔۔۔عبدالحفیظ پیرزادہ تو بھٹو کی پھانسی کے فوری بعد پیپلز پارٹی سے الگ ہو گئے تھے اور انہوں نے سندھ بلوچستان پختون فرنٹ بنا لیا تھا ۔جو فیڈریشن کی بجائے کنفنڈ ریشن کی سیاست کا علمبردار تھا۔۔۔اسی طرح ارباب غلام رحیم 1988 کی بینظیر بھٹو حکومت میں وزارت پانی و بجلی کے پارلیمانی سکریٹری تھے ۔۔۔ میں نے خود انہیں بینظیر حکومت کے پہلے سو دن کی تکمیل پر ایک سیمینار میں لاہور میں مدعو کیا تھا جہاں سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ بینظیر بھٹو سے خوش نہیں ہیں۔جس کی بنیاد پر وہ بھی چھ اگست 1990 کے بعد پیپلز پارٹی کو خیر بعد کہہ گے تھے۔۔۔ملک معراج خالد کی قیادت میں بھی ایک چار کا ٹولہ بینظیر کی قیادت کے خلاف متحرک رہا ہے اس ٹولے میں ملک معراج خالد کے علاوہ سابق سینٹر میاں احسان الحق ،افضل سندھو شامل تھے۔۔۔ ملک معراج خالد کے راستے بھی 1990 بینظیر سے الگ ہو گے تھے۔۔۔اگر آئی ایس آئی نے انہیں لاکھوں روپے دئیے تھے تو وہ اسکا مقصد پیپلز پارٹی کی پیٹھ میں چھرا مارنا تھا ۔نہ کہ اسے مضبوط بنانا۔۔۔ جام صادق نے بھی1990 غلام اسحاق خان کے ہاتھ پر بیت کر لی تھی ۔جس کے بدلے انہیں سندھ کا وزیر اعلی بنایا گیا۔ بیگم عابدہ حسین نے 1988 کا الیکشن بھی آئی جے آئی کے ٹکٹ پر لڑا تھا اور 1990کا الیکشن بھی آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے جیتا تھا۔۔۔ ان حقائق سے کسی کو اختلاف ہے تو وہ الیکشن 1988 اور الیکشن 1990 کے اخبارات اٹھا کر دیکھ لے ۔۔۔ایک بات اور وضاخت کا تقاضہ کر رہی ہے وہ یہ کہ کہا جا رہا ہے کہ میاں نواز شریف آئی جے آئی کے صدر یا سربراہ نہیں تھے اس منصب پر تو غلام مصطفی جتوئی فائز تھے ۔۔۔یہ بھی غلط ہے کیونکہ جتوئی مرحوم سی او پی ( C.O P) کمبائیڈ اپوزیشن پا رٹیز کے قائد تھے ۔اور میاں نواز شریف مسلم لیگ پنجاب کے صدر اور وزیر اعلی ہونے کے باوجود آئی جے آئی کے مرکزی سربراہ بنائے گئے ۔۔۔میرے پیش کیے گے حقائق کی روشنی ثابت ہو چکا ہے کہ غلام مصطفی جتوئی سے لیکر ارباب غلام رحیم تک کسی کا بھی پیپلز پارٹی سے تعلق نہ تھا اور نہ ہے ۔۔۔پیپلز پارٹی سے اگر کوئی جہانگیر بدرے اور کسی ذوالفقار مرزے کا نام ہوتا تو تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے راہنماؤں نے پیسے لیے۔۔۔ غلام مصطفی جتوئی اور غلام مصطفی کھر سمیت جن راہنماؤں کو پیسے دئیے گے تھے انہیں اسی لیے دئیے گے تھے کہ وہ پیپلز پارٹی کے تھے ہی نہیں ۔کیونکہ آئی جے آئی کی تشکیل سے لیکر 1990 کے الیکشن سمیت تمام الیکشن میں پیپلز پارٹی کے مخالفین کو ہی سپورٹ کیا گیا ہے۔۔۔پیپلز پارٹی کو تو ہمیشہ سکیورٹی رسک قرار دیا گیا ہے۔اپنے مقصد کے لیے پیپلز پارٹی کے معطون کرنا قرین انصاف نہیں ہے۔۔۔اصغر خان کیس کے فیصلے میں بھی کئی خامیاں موجود ہیں جن کی نشاندہی ہو رہی ہے۔۔۔اس کیس میں یہ تو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ ایوان صدر میں الیکشن سیل قائم کیا گیا تھا ۔ لیکن الیکشن سیل میں فرائض سرانجام دینے والے بیورو کریٹس کا اس فیصلے میں کہیں بھی حقیر سا ذکر خیر موجود نہ ہے ۔۔۔ اس اہم نقطے سے روگردانی سے عام لوگ تو یہیں مطلب اور مراد لیں گے کہ ’’کسی کو بچایا ‘‘ جا رہا ہے۔۔۔ سب بڑی خامی اور کمزور ی اس فیصلے میں یہ ہے ۔کہ حج کیس سے لیکر این آئی ایل سی تک تمام اہم کیسز کی سماعت کے دوران خود سپریم کورٹ ایف آئی اے اور نیب کو نکمے ،فضول ،بیکار قرار دیتی رہی ہے۔۔۔سب سے بڑھ کر اس فیصلہ پر یہ اعتراض ہوگا کہ خود چیف جسٹس صاحب نے اپنے فرزند ارجمند کا کیس ایف آئی اے یا نیب کو دینے کی بجائے ایک کمیشن کے سپرد کرنا پسند کیا ہے مگر قومی اہمیت کے حامل کیس کو ایف آئی اے جیسے کرپٹ ،نکمے اور فضول و بیکار محکمے کے حوالے کر دیا ہے۔۔۔سپریم کورٹ کو چاہئے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرتےئب ہوئے اس کیس کی انکوئیری کے لیے بھی میمو گیٹ طرز کا اعلی عدلیہ کے قابل احترام ججز پر مشتمل اعلی سطح کا کمیشن بنا دیا جائے تاکہ اس اہم کیس کا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔۔۔ایف آئی اے اور حکومت کے لیے کسی قسم کی پریشانی پیدا نہ ہو سکے۔۔۔ میری اس کیس میں ملوث تمام سیاست دانون ،جنرلوں اور دیگر افراد سے گذارش ہے کہ وہ بھی تعاون کریں اسے اپنی انا کا مسلہ نہ بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں  چھوٹی صنعتوں کے فروغ سے صنعتی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker