پاکستان

1999 ئ کو اصغر خان کیس کی سماعت جنرل ضیائ الدین بٹ کی ایمائ پر کی گئی ،ایک صحافی کا انکشاف

اسلام آباد ﴿بیورو رپورٹ﴾سپریم کورٹ کو مطلع کیا گیا ہے کہ 12 اکتوبر1999 ئ کو اصغر خان کیس کی سماعت ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ضیائ الدین بٹ کی ایمائ پر کی گئی اور اس مقدمے کو دوبارہ کھولنے کا مقصد کارگل آپریشن کی ناکامی کے بعد وزیر اعظم پر دبائو ڈالنا تھا ۔ایک بیان حلفی میں عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ مقدمہ وزیر اعظم کی برطرفی کا واحد ممکنہ طریقہ تھا کیونکہ اسے 217 ارکان اسمبلی میں 151کی حمایت حاصل تھی اور اس کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا ممکن نہیں تھا۔صحافی شاہد اورکزئی نے انکشاف کیا کہ مقدمے کی سماعت سے کچھ دیر قبل اس نے وزیر اعظم کے پولیٹیکل سیکرٹری کرنل مشتاق علی طاہر خیلی کو بذریعہ فون چیف جسٹس کی اس گائیڈڈ کارروائی کی اطلاع دی تھی اور اس کا دعوی ہے کہ وزیراعظم نے12 اکتوبر کو جو جوابی اقدام کیا وہ اس کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ہی کیا کیا ۔صحافی نے کہا کہ12 اکتوبر سے ایک ہفتہ قبل اس نے کرنل طاہر خیلی کو راز داری پر بتایا کہ سول اور فوجی تنائو کے پس منظر میں راولپنڈی میں ان دنوں کیا پک رہا ہے اور وہ چاہیں تو انٹیلی جنس بیورو کے خفیہ ذرائع سے اس کی فراہم کردہ اطلاع کی تصدیق کرا سکتے ہیں۔بیان حلفی میں کہاگیا ہے کہ طیارہ سازش کیس کے دوران سابق وزیر اعظم اس امر کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے فوج کی منصوبہ بندی کی باوثوق اطلاع انہیں اپنے ایک معمد معاون سے ملی تھی اور یہ اشارہ کرنل طاہر خیلی کی طرف تھا ۔وزیر اعظم کو حاصل شدہ دیگر معلومات سے قطع نظریہ بات واضح ہے کہ 12 اکتوبر کو یہ مقدمہ کھلتے ہی وزیر اعظم کو چیف آف آرمی سٹاف کے ارادوں کے بارے کوئی شک وشبہ نہ رہا ۔شاہد اورکزئی نے واضح کیا کہ اس وقت کی سیاسی قیادت کے ساتھ اپنے رابطو ںمیں اس نے کبھی آرمی چیف کی فوری برطرفی کا مشورہ نہیں دیا ۔صحافی نے برملا اعتراف کیا کہ جولائی99ئ کے آخری ہفتے میں اس نے بالواسطہ رابطے پر آرمی چیف کو خبر دار کیا کہ وزیر اعظم اسے برطرف کرنے والے ہیں اور اس کے استفسار پر برطرفی کے تدارک کے لئے کچھ حفاظتی اقدامات بھی تجویز کئے۔آرمی چیف اس سے بالمشافہ بات چیت کے لئے تیار نہ ہوئے اور اصرار کیا کہ میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری انٹیلی جنس سے بات کروں ۔ڈی جی آیم آئی نے موقف اختیار کیا کہ آرمی چیف کے خلاف وزیر اعظم کے ممکنہ اقدام کے تدارک کے لئے فوج جو کچھ بھی کرے گی اس میں سینئر افسران کی شرکت اور آگاہی ضروری ہے اس کے برعکس میں نے خبردار کیا کہ بہت سے افراد کی شرکت سے رازداری کو مستقل خطرہ لاحق رہے گا ۔عدالت کو یاد دلایا گیا کہ اس سے قبل آ رمی چیف نے وزیر اعظم سے مبینہ رابطے پر کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل طارق پرویز کی ملازمت سے برطرف کر دیا تھا لہذا ڈی جی ایم آئی کے ساتھ کسی امر پر اتفاق نہ ہو سکا ۔صحافی نے بتایا کہ 28 نومبر کو آئی ایس آئی کے ایک جونیئر افسر نے یہ خوشخبری سنائی کہ کور کمانڈرز نے وزیر اعظم کی چھٹی کا فیصلہ کر لیا ہے اور اب آئی ایس آئی اس کا مناسب طریقہ کار طے کررہی ہے اس کی خبر ڈس انفارمیشن سہی لیکن چند دن قبل ہونے والی کور کمانڈرز کانفرنس کے باعث اس پر اعتبار کئے بغیر کوئی چارہ نہ تھالہذا مجھے اس افسر کے ہمراہ لاہور جان ا پڑا جہاں ہم نے وزیر اعظم کے مخالفین سے رابطہ کیا اور اس ضمن میں سابق گورنر میاں اظہر تحریک انصاف کے عمران خان اور عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہر القادری کو فوج کے اس فیصلے کی نوید سنائی اور تعاون کی درخواست کی ۔شاہد اورکزئی نے عدالت کو بتایا کہ 408 انٹیلی جنس بٹالین کے کمانڈر نے انہیں پاکستان ایمبیسی واشنگٹن سے آنے والے ایک رپورٹ فراہم کی تھی جس میں وزیر اعلی پنجاب کے دورہ امریکہ کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کو ایک انتباہ کیا گیا تھا کہ وہ جمہوری حکومت کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے باز رہے۔ پاک فوج کو یہ وارننگ بعین ہی ایسی ہے جو گزشتہ سال مئی میں ایڈمرل مولن سے طلب کی گئی اور میمو کمیشن جس کی انکوائری کررہا ہے ۔بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ ایک فوجی جنرل کے ایمائ پر جسٹس سعید الزمان نے فوری کارروائی کر کے ملک کو دس سالہ فوجی آمرت کے گڑھے میں دھکیل دیا اور عدالت کا فرض ہے کہ سابق چیف جسٹس سے پوچھے کہ مذکورہ مقدمہ کھولنے کے بعد وہ اسے یکسر فراموش کس طرح کر بیٹھے ۔بیان میں کہا گیا کہ یہ تمام کارروائی جنرل ضیائ الدین بٹ کی چال تھی کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ وزیر اعظم سے خصوصی تعلق کی بنائ پر آرمی چیف اسے برطرف کرنے والے ہیں لہذا اس نے وزیر اعظم کے خلاف اصغر خان کیس کھلوایا ۔شاہد اورکزئی نے کہا کہ اس نے 31 جنوری2001 ئ کو جنرل ضیائ الدین کے کورٹ مارشل کی تجویز دی تھی لیکن اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی نے بعض خطرات کے پیش نظراس اقدام سے معذرت کی ۔عدالت سے کہا گیا کہ بعض اوقات فوجی افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کمانڈروں کے ذ اتی مفاد کے باعث روک دی گئی جاتی ہے ۔اور اس طرح ڈسپلن کے دوہرے معیار بن جاتے ہیں لیکن اس عدالت کا ایک ہی معیار ہے اور اس کا اطلاق سب سے پہلے سابق چیف جسٹس پر ہونا چاہیے کیونکہ اس عدالت کا ایک جج بھی عدالت کو سیاسی رنگ میں رنگ سکتا ہے ۔مذکورہ مقدمہ ایک سیاسی مقدمہ ہے اور جسٹس سعید الزمان کے بارے کسی واضح فیصلے کے بغیر اس کا کوئی فیصلہ پاکستان کے منقسم عوام کو مطمئن نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں  پاناما لیکس : سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کی تحریک انصاف کی فوری حمایت سے معذرت

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker