آصف یٰسین لانگوتازہ ترینکالم

اشرف المخلوقات کی ہی فسادات

asif langoveدنیا کا پہلا انسان حضرت آدم علیہ السلام اور پہلی عورت بی بی حوا ہیں اور کی آج کی زندہ اولاد 7ارب سے تجاوز کر چکی ہے ۔ حضرت آدم علیہ السلام کو دنیا کے پہلا انسان ہونے کے ساتھ ساتھ پہلا پیغمبر کا اعزاز بھی حاصل ہے۔حضرت آدم علیہ السلام کو ابوالانبیاء بھی کہتے ہیں اﷲ کی آخری مقدس کتاب قرآن مجید میں آپکا کئی مقامات پر ذکر ہے۔سورہ بقرہ،سورہ مائدہ، سورہ اعراف، سورہ الحجر، سورہ بنی اسرائیل، سورہ کہف،سورہ طہٰ، سورہ سجدہ،سورہ ص،سورہ رحمٰن،ان مقامات پر آپکا ذکر آتاہے ۔قرآن مجید میں سب سے پہلے آپ کی پیغمبری کا ذکر کیا گیا ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے پروردگار عالم جل جلالہ، نے بڑے احسانات کے ساتھ فرشتوں کی جماعت میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا” اورج ب کہا رب تیرے واسطے فرشتوں کے بیشک میں پیدا کرنیوالا ہوں زمین پر ایک خلیفہ ” جب ملائکہ نے یہ حکم سنا تو معلوم کرلیا کہ آدم علیہ السلام خدا کا بڑا برگزیدہ بندہ ہوگا ۔
نمبر۱: اس کی پیدا ئش سے پہلے ہی منادی کردی گی ،نمبر2: یہ کہ وہ خدا کا نائب ہو کر زمین میں حکومت کریگا۔ مگر جب فرشتوں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کا ضمیر اور مادہ ایسے اجسام مختلف الطبائع سے ہوگا کہ جس کی قوت شہویہ اور غضبیہ بھی لازم ہے کہ جس سے خواہ مخواہ بدکاری وغیرہ فساوات ظہور میں آئیں گے۔ پھر نہایت عاجزی اور انکساری سے سوال کیا کہ پھر اسے خلیفہ بنانے کی کیا حکمت ہے رہی تیری تسبیح وتقدیس کی بات تو اس کے لیئے ہم ملائکہ مو جود ہیں جن میں قوت غضبیہ اور شوویہ کا مادہ ہی نہیں۔
پرور دگار عالم نے فرمایا کہ "جو کچھ مجھے معلوم ہے وہ تم کو معلوم نہیں”
خلیفہ کا یہ مطلب ہے کہ یکے بعد دیگرے تمام انبیاء کرام خلیفہ رہیں گے۔ فرشتو ں نے اتجعل اعتراض اور حسد کے طور پہ نہ کہا تھا ایک تو پہلے جنات کے حالات دیکھ کر کہا تھا کہ جن کا ذکر عنقریب آنے والا ہے۔اور لوگوں سب ہی تو نیک ہوتے بلکہ فسادی بھی ہوتے ہیں اور فرشتے نوری مخلوق ہے۔ان میں حسد بخل وغیرہ کاتو مادہ ہی نہیں۔ باقی ہر مخلوق خون بہانے والی اور فسادی ہوتی ہے اس لئیے فرشتوں نے اتجعل کہا تھا لیکن پروردگار عالم جل جلالہ، نے فرمایا کہ با وجود فسادوں کے جو مصلحتیں ہیں وہ میں ہی جانتا ہوں تمھارا علم وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔ میں جانتا ہوں کہ ان میں انبیاء اورصدیقا اور شہید عابد راہد، اور اولیاء نیکو کار، ابرار اور مقرب بار گاہ الہٰی ہوں گے۔ اور علماء صلحا متقی پر ہیز گار بھی ہوں گے۔
حضرت ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرفاتے ہیں کے پہلے زمین پر جنات کئی ہزار سال حکومت کرتے رہے سب زمین پر قابض تھے حیوانات نباتات سے نفع اٹھاتے اور آسمان پرآجاتے تھے۔ پھر جنوں نے فساد مچایا خون ریزی شروع کی پھر پرور دگار عالم جل جلالہ نے آسمان دنیا کے فرشتوں کو حکم دیا کہ جنوں کو زمین سے دور کرو تاکہ ان کی آلودگی سے زمین پاک ہو جائے پھر فرشتوں نے خدا کے حکم کے مواقع جنوں کو مار مار کر پہاڑوں،جنگلوں، اور جزیروں میں پہنچادیا۔
ابلیس لعین بھی ان ہی میں سے تھا اسکا نام عزازیل تھا۔ علم اور عبادات کے سب سے جنوں سے ممتاز اور الگ تھا اور فرشتوں میں رہتا تھا۔ اور بھی فرشتوں کے ہمراہ آسمان پر گیا اور عزر بنایا کہ میں اور میری اولاد ان دن فسادوں میں شریک نہ تھے۔ حق تعالٰی نے اس کو فرشتوں کی شفارش سے سبب مارنے اور نکالنے سے محفوظ رکھا۔ پھر شیطان کو یہ طمع ہوا کہ سب جنوں کو مار کر نکالا گیا۔ بغیر میرے اب میں ان کی جگر قا بض اور متصرف رہو گا پھر عبادت میں زیادہ کوششیں کرنی شروع کی جب آسمان کی طرف دنیا کے فرشتوں کو ئی حکم الٰہی پہنچتا تو یہ لعین فرشتوں بھی پہلے اس کام کو پہنچتا اور فرشتوں کے ساتھ اس کام کو سر انجام دیتا۔ پھر آسمان میں اسکی قدرو منزلت اور زیادہ ہوگی اور اپنے دل میں اس بات کا امیدوار ہو گیا کہ
اب دنیا کی خلافت مجھے ملے گی۔ جب خدا کا حکم فرشتون کو پہنچا
کہ”اِنی جاعل فی الارضِ خلیفۃً”اس وقت شیطان نے جانا کہ یہ قدرومنزلت فدامجھے نہ دیگاسب بندگی اور عبادت ریاکاری کی تھی اس لیے اسکے دل میں حسد جوش کرگیا۔جنات کئی ہزار سال پہلے حضرت آدم کی پیدائش سے قبل دنیا پرآباد تھے۔پردورگارعالم جلالہ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرناچاہا تو حضر ت جبرائیل کو فرمایا کہ روئے زمین سے ہر رنگ کی مٹی سفید سرخ سیاہ شور شیریں نرم سخت میں سے ایک مشت حال اُٹھا کر لا کہ میں ایک مخلوق پیدا کرتاہوں۔جب حضرت جبرائیل زمین کے پاس گئے اور چاہاکہ ایک مشت خاک اُٹھائے تو زمین نے پوچھا کس واسطے اتنی کم کرتاہے۔ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ حق تعالیٰ اس سے ایک مخلوق پیداکرے گاجو زمین پر رہیں گے نیک اور بد بھی ہونگے۔ عذاب اور ثواب اُن کے واسطے ہوگا۔ پھر زمین نے عرض کیا کہ میں اللہ کی عزت کی پناہ پکڑتی ہوں کہ تو مجھ سے مٹی نہ اُٹھا کیونکہ لوگ نافرمانی کی وجہ سے جہنم میں جلیں گے۔ حضرت جبرائیل زمین کی فریاد سن کر واپس چلے گئے اور عرض کی الہٰی زمین تیری عزت کی پناہ چاہتی ہے ۔میں تیرے نام کی عزت سے مٹی نہ اُٹھانہ سکا۔پھر حق تعالیٰ جل جلالہ نے حضرت میکائیل کو بھیجا وہ بھی واپس آگئے ۔پھر پروردگارِ عالم نے اسرافیل علیہ السلام کو بھیجا وہ بھی اسی طرح خالی ہاتھ واپس آگئے ۔پھر پروردگارِ عالم نے حضرت عزرائیل علیہ السلام کو بھیجا تو عزرائیل علیہ السلام نے زمین کی منت سماجت و زاری نہ سنی اور کہا کہ میں اللہ کے حکم کع تیری منت و زاری پر نہیں چھوڑ سکتا۔میں خداتعالیٰ کا تابعدار ہوں۔ملک الموت فرشتہ مٹی لیکر واپس آگیاپھر اللہ نے روحوں کے قبض کرنے کا کام اسی کے سپرد کیا۔پھر چالیس دن اس پر بارش کرنے کیلئے کعبہ مکرمہ میں رکھنے کا حکم دیا ۔انتالیس دن غم اور ایک دن خوشی کی بار ش برسائی گئی ۔فرشتوں نے خداتعالیٰ کے حکم کے مطابق اسی خاک کا گارابنایا پھر وہ کیچڑ خشک کیاگیا۔جیسا کمہار برتن خشک پر وہ برتن آواز کرتاہے ۔پھر اس گارے کو خداکے حکم سے وادئی لقمان جو مکر اور طائف کے راستے عرفات سے متصل ہے ۔ لے جاکر فرشتوں نے ڈالا ۔پھر اللہ نے اپنے دست قدرت سے اس گارے سے حضرت آدم علیہ السلام کا خوبصورت قالب بنایا پھر فرشتے اس قالب کو دیکھکر حیران ہو گئے اس کے گرد اگرد پھرتے رہے اور ابلیس بھی اس قالب کو دیکھنے آیااور تعجب سے کہا کہ یہ اندر جسم خالی ہے جگہ جگہ خلل ہیں۔یہ بغیر سیر ہونے پر نہ ہوگااورسیر ہوگیاتو پھٹ جائے گااورچلنے پھرنے میں سُست ہوگا۔اور اس سے کوئی کام نہ ہوسکے گا۔مگر جب سینہ بائیں طرف سے دیکھاتوکہنے لگاکہ یہ حجرہ بغیر دروازہ کے ہے۔میں نہیں جانتاکہ اس میں کیاچیز پوشیدہ ہے شاید یہ وہی لطیفہ ربانی ہے کہ جس کے سبب سے خلافت کو استحقاق حاصل کرے ۔بعض روایات میں ہے کہ غالباًچالیس سا ل تک وہاں ہی بے جان پڑا رہا جب پروردگارِعالم نے چاہا تو اس قالب میں روح کو داخل ہونے کا حکم دیا ۔حکم دیا "داخل ہو جا اے روح اس بدن میں”جب روح کے حکم سے سر کی طرف داخل ہوتی ہے تو جہاں جہاں تک روح پہنچتی گئی وہ خاکی بدن جو ٹھیکری کی طرح تھا گوشت پوست ہڈی سے بدلتاگیا جب رو ح ستر تک پہنچی تو حضرت آدم نے اُٹھنے کا ارادہ کیا تو وزمین پر گر گیا ۔پھر اللہ نے فرمایا "پیدا کیا گیا جلد باز انسان "پھر اسی حالت میں آدم علیہ السلام کو چھینک بھی آئی توالہام الہٰی سے آدم علیہ السلام نے کہا کہ "الحمداللہ”اسکے جواب میں اللہ نے فرمایا”یَرحمکُ اللہ”یعنی تیرے پر اللہ رحم کرے ۔ اسکے بعد اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ بہشت سے ایک جوڑا لایا اور آدم علیہ السلام کو خلعت الہٰی سے مشرق و مکرم کیا اور عزت و احترام سے تخت پر جمعہ المبارک کے دن بٹھایا۔
حضرت آدم علیہ اسلام کی اولاد کو اللہ نے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے لیکن اس اشرف المخلوقا ت کی موجودہ اعمال حیرت انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ دل و روح کو تڑپانے والی ہیں ۔ آج اشرف المخلوقات میں اپنی ماں باپ ، بہن ، بھائی، بیوی، دادی و داد ی جیسے مقدس رشتوں کی کوئی قدر نہیں ہے ۔ اپنے ہی خون کا قتل بنا ہوا ہے ۔ اشرف المخلوقات اپنی ہاتھوں سے خود کو معذور کر رہی ہے ۔ ہم اشرف المخلوقات ہیں کم از کم ہمیں اپنے ایسے کاموں سے پرہیز و گرہیز کرنا چاہیے جو اللہ رب العالمین پسند نہیں اور جن اعمالوں کی وجہ سے انسان کی تخلیق ہوئی ہے اور جن اعمالوں کی وجہ سے اللہ ر ب العالمین نے جنات کو زمین سے ہٹایا ہے ۔ اگر اشرف المخلوقات گمراہ ہے تو ہم مسلمان کیوں لاپرواہ ہیں ؟

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button