تازہ ترینعلاقائی

اوکارا:اگربروقت انتخابات نہ ہوئے توپاکستان ٹوٹنےکاخدشہ ہے، عاصمہ جہانگیر

asima jahngirاوکاڑا(محمد مظہر رشید)سابق صدر سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ اگر بروقت انتخابات نہ ہوئے تو پاکستان ٹوٹنے کا خدشہ ہے حکومت میں سدا بہار رہنے والے جی ایچ کیو کی پیداوارہیں عدلیہ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں پاورفل نہیں بنانا چاہتے موجودہ جوڈیشل پالیسی انصاف کا گلہ دبانے کے مترادف ہے عدلیہ کو سیاسی شعور ہونا چاہیے پاکستان کی فارن پالیسی کیا ہے کسی کو علم نہیں دفعہ 62,23بنانے والے سب سے بڑے فرشتے ضیاء الحق نے بنائی تھی ان خیالات کااظہار وہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اوکاڑاکے سالانہ عشائیہ سے خطاب کے دوران کررہی تھیں عشائیہ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اوکاڑا صفدر سلیم شاہد،ڈسٹرکٹ بار کے صدر لالہ جاوید اشرف گجر ،جنرل سیکرٹری میاں طلعت محمود،پنجاب بار کونسل کے ممبر رانا عبدالرحمٰن ،سپریم کورٹ بار کے ممبر میاں افتخار ایڈووکیٹ نے خطاب کیا جبکہ ڈسٹرکٹ کوارڈنیشن آفسیر اوکاڑا سید گلزار حسین شاہ،ڈسٹرکٹ پولیس آفسیر ڈاکٹر حیدر اشرف سمیت ڈسٹرکٹ بار کے ممبران سول سوسائٹی کے ممبران اور صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اس وقت آئندہ انتخابات ملتوی کرانے کی کوشش کی جارہی ہے جمہوری نظام کو نقصان پہنچایا گیا تو وکلاء ملک بھر میں سڑکوں پر نکل آئیں گے اگر انتخابات ملتوی کیے گئے تو بلوچستان تو پہلے ہی الگ ہورہا ہے خیبر پختون خواہ بھی الگ ہوسکتا ہے بروقت انتخابات میں ہی پاکستان کی یونٹی قائم ہے انہوں نے کہا کہ فوجی جرنیل جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو ان کی کٹھ پتلیاں حکومت میں ہوتی ہیں حکومت میں سدابہار رہنے والوں کا بیج جی ایچ کیو میں بویا جاتا ہے ان سدا بہار افراد کا راستہ روکنے کی اشد ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ ہم عدلیہ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں مگر پاورفل نہیں ہونا چاہیے عدلیہ کو سیاسی شعور ہونا چاہیے لیکن سیاستدان نہیں ہونا چاہیے عدلیہ کا احتساب صرف بار کرسکتی ہے عاصمہ جہانگیر نے مزید کہا کہ موجودہ جوڈیشل پالیسی انصاف کا گلہ دبانے کے مترادف ہے جو کسی صورت بھی سائل کے مفاد میں نہیں ہے انہوں نے کہا کہ آئین کی دفعہ 62،63آمر ضیاالحق نے بنائی تھی جو فرشتوں کے بھی فرشتے تھے ملک میں کون فرشتے ہیں ان سے ہماری آشنائی ہے کون ہے جو 62,63سے نکل کر جائے گا اس دفعہ کوآئین کا حصہ نہیں ہونا چاہیے انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے عوام کے لیے امن وامان قائم کرنے بجلی اور گیس کی فراہمی ،معشیت کی مضبوطی اہم ایشو ہیں جبکہ کراچی اور بلوچستان میں آئے روز بم دھماکے ہو رہے ہیں لیکن حکمرانوں کے کانوں تک جوں نہیں رینگ رہی پاکستان اس وقت انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے معشیت تباہ ہو چکی ہے سرمایہ کاری کہیں نظر نہیں آرہی انہوں نے کہا کہ آج تک پاکستان کی فارن پالیسی کا کسی کو علم نہیں ہو سکا امریکہ ہمارا دشمن ہے مگر ہم پیسے امریکہ سے لیتے ہیں عرب ممالک ہمارے دوست ہیں لیکن ہم پٹرول کہیں اور سے لیتے ہیں افغانستان ہمارا دوست ہے مگر ہماری مخالفت میں سب سے آگے ہے ایسی فارن پالیسی سمجھ سے باہر ہے

یہ بھی پڑھیں  رائے ونڈ:محنت کش کی دوبیٹیاں پراسراربیماری میں مبتلا ہونےکےبعد ٹانگوں سےمعذور

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker