تازہ ترینصابرمغلکالم

عسکری سیاسی قیادت ،دہشت گردی اور بھارت

sabir mughalآئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے میڈیا بریفنگ میں سانحہ پشاور سے متعلق بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے ۔انڈیا۔سے جا ملتے ہیں،بلوچستان اور فاٹا میں بدامنی اور طالبان کے پیچھے بھارت کا مکمل ہاتھ ہے،انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس خطرناک کھیل کا انجام ٹھیک نہیں ہو گا ،غیر ملکی امداد کے بغیر دہشت گردی کی تنظیم نہیں چل سکتی ،پاکستان میں ہونے والی تمام دہشت گردی میں انڈیا پوری طرح ملوث ہے،بھارت پاکستان میں مداخلت کے علاوہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال اور جارحانہ فائرنگ کر کے پاکستانی فوج کی توجہ شدت پسندی کے خلاف جاری جنگ سے ہٹانا چاہتا ہے،اس سے قبل سیکرٹری دفاع نے بھی انکشاف کیا تھا کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے امریکی دورہ کے موقع پر پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ناقابل تردید ثبوت پیش کر دئے تھے،پاک فوج کے ترجمان کے اس واضح اور دو ٹوک بیان کے بعداسی رات امریکی صدر باراک اوباما نے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور کہا ۔پاکستان ہمارا اہم اتحادی ہے،دہشت گردی کی جنگ میں اس کی ہر ممکن مدد کریں گے،یہ ٹیلیفونک گفتگو30منٹ تک جاری رہی ،پاک فوج کی جانب سے بھارت کو پیغام اور امریکی صدر کے پاکستانی وزیر اعظم سے رابطے کے دوسرے ہی روز پشاور کو ایک بار پھر خون میں نہلا دیا گیا،امام بارگاہ میں نماز جمعہ کے دوران درندوں نے حملہ کر کے 22نمازیوں کو شہید اور 70کو شدید زخمی کر دیا،ابھی اس قیامت صغریٰ میں شہید ہونے والوں کی تدفین بھی نہیں ہوئی تھی کہ بھارتی انتہا پسند وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور دونوں ۔عالمی رہنماء۔ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے رہے،کرکٹ کے علاوہ خارجہ سیکرٹری کی سطع پر مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہوااس گفتگو میں مودی سرکار نے دوطرفہ تعلقات اور خطے میں امن و امان کی صورتحال پر بھی بات کی ۔یہ کیسا اتفاق ہے جس روز پاک فوج کے ترجمان بھارت کو اس کی ناپاک کاروائیوں سے دنیا کو آگاہ کر رہے تھے اسی رات امریکی صدر ہم سے رابطہ کر تاہے ، دوسرے روز دہشت گردی کی مذموم واردات ہو جاتی ہے اور پاکستان کو کسی بات کا موقع دئیے بغیر بھارتی وزیر اعظم میاں نواز شریف سے گپ شپ میں نظر آتے ہیں،یہ بھی کیسا اتفاق ہے کہ مزید اگلے دن چند روز کے وقفہ کے بعد راولا کوٹ سیکٹر پر بھارتی اشتعال انگیزی کا ایک اور واقعہ پیش آ جاتا ہے جس میں گاؤں یولاس کا 60سالہ محمد اسلم گھاس کاٹتے ہوئے بھارتی فائرنگ کا شکار ہو کر شہید ہو گیا،وزیر اعظم کہتے ہیں دہشت گردی میں غیر ملکی ہاتھ خارج ازامکان نہیں ،دہشت گردوں کی مدد گار تنظیموں کے خلاف آپریشن ہونا چاہئے ،پاکستان میں بھارتی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں وہ دشمن ہے اور دشمن ہی رہے گا،زہریلا اور منافق،اس سے دوستی کے دعوے ،اس کے ساتھ تجارتی تعلقات یہاں تک کہ اسے ۔موسٹ فیورٹ کنٹری ۔تک قرار دینے کی خواہش کی مجبوری کیا ہے؟یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان بھارت کے لئے پہلے ہی دن سے ناقابل برداشت ہے،ان نے تقسیم ہند کا ہر اصول اور ضابطہ پامال کیا، بھارت ہمیشہ بے بنیاد پروپیگنڈہ اور خبروں کے ذریعے پاکستان کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کی کوئی کسر نہیں اٹھا ررکھتا اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ بھارت کو بے نقاب کرنے سے گریز کیا،کراچی میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جوائنٹ انویسٹی گیشن رپورٹ سامنے آنے کے بعد پاکستان میں کسی انسانیت کی بجائے بدنما سیاسی مظاہر دیکھنے میں آیا کسی میں حمیت نہیں کہ وہ 189افراد کی بلاوجہ ہلاکت پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے ( اس سے بڑی دہشت گردی اور کیا ہو سکتی ہے؟)،جے ٹی آئی کی رپورٹ سامنے آنے کے فوراً بعد سیاست میں ایک دوسرے کیلئے دروازے بند کرنے کے دعویدار پل بھر میں ۔ایک ۔ہو گئے،کراچی میں امن و امان کے حوالے سے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں وزیر اعظم کہتے ہیں آپریشن سخت کرنا پڑے گا،سابق صدر آصف زرداری کہتے ہیں ۔ہاتھ ہولا رکھیں۔آرمی چیف کہتے ہیں کراچی پولیس میں سیاسی مداخلت اور سیاسی بھرتیاں امن و امان میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں،کور کمانڈر کراچی کہتے ہیں ۔سندھ حکومت نا اہل ہے،المیہ یہ ہے کہ ایک طرف ہمیں بھارت جیسے ازلی دشمن کی سیاہکاریوں کا سامنا ہے اور دوسری طرف سیاسی مصلحتیں ہمیں جکڑے ہوئے ہیں،بھارت،روس،چین،برازیل اور ساؤتھ افریقہ کے گٹھ جوڑ(BRICS)کے بعد امریکہ بہادر اور یورپی یونین ہم سے خفا ہو جاتی ہے اس عالمی تناظر میں پاکستان کے آرمی چیف کو امریکہ ،برطانیہ چین اور افغانستان کے دورے کرنا پڑتے ہیں ،کیا تمام خارجہ پالیسی کی ذمہ داری کسی جمہوری ریاست کے آرمی چیف پر عائد ہوتی ہے؟ویسے تو گلا پھاڑ پھاڑ کر کہتے ہیں کہ فوج کا کام نہیں کہ وہ اندرون ملک کسی کام مداخلت کرے اس کی ذمہ داریاں صرف جغرافیائی سرحدوں تک ہے،تو وہ جمہورستان اب کہاں ہیں جو جا کر امریکہ بات کریں؟افغانستان سے ان دہشت گردوں کی حوالگی کا مطابل کریں ؟جو آئے روز پاکستان میں داخل ہو کر خون کی کوئی نئی ہولی کھیل جاتے ہیں،پاک فوج نے بلوچستان اور فاٹا سمیت دیگر مقامات پر بھارتی مداخلت کو واضح کیا ہے تو سیاسی حکومت نے کس فورم پر یہ احتجاج کیا ہے؟بھارت کے خلاف ان کا کیا رد عمل سامنے آیا ہے؟اب خارجہ سیکرٹریوں کی سطع پر بات چیت کی کرم فرمائی بھی ہم پر ۔نریندر مودی۔نے کی ہے،ہم اس پر بھی ڈھول کو پیٹنے لگ گئے ہیں،انڈیا کا جب جی چاہتا ہے اور جو جی چاہتا ہے وہ کرتا چلا جاتا ہے آج تک کسی سیاسی جماعت نے انڈیا کے خلاف سخت ردعمل نہیں اپنایا بلکہ ان کے دلوں میں تو نہ جانے کس خوف کی وجہ سے ہمیشہ soft cornr رہاہے،ایک ہفتہ قبل پاکستان نے 117بھارتی ماہی گیروں کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کیا تبھی انکشاف ہوا کہ بحر ہند میں 4 پاکستانی ماہی گیروں کی کشتی کوانڈین کوسٹ گارڈ کے آفیسر کے حکم پراڑا دیا گیاجس پر خواجہ آصف نے کہا ۔بھارت کا مکروہ چہرہ سامنے آ گیا ہے اور وہ خطے میں امن تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے،لگتا ہے خواجہ جی کو اب خواب آیا ہے کہ انڈیا کو چہرہ مکروہ ہے ورنہ اس کی مکروہات کے لئے تو اعداد بھی کام نہیں کرتے ، انڈیا میں ہونے والے کسی معمولی سے واقعہ کا ذمہ دار بھی پاکستان ۔کتنا بے شرم ،منافق ،خطرناک اور گھٹیا خصلت کا مالک ہمارا پڑوسی ہے، بھارت میں اقلیتوں کی زندگی عذاب ناک ہے،انتہا پسند ہندوؤں نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں کا جیناحرام کر رکھا ہے،ہندوستان میں 193کے قریب انتہا پسند تنظیمیں مصروف عمل ہیں کیا ان سب کا ذمہ دار پاکستان ہے؟گذشتہ ما ہ باراک اوباما نے بھارتی دورہ کے موقع پر اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن تک بنوانے کی ہاں کر دی لیکن اس دوران آرمی چیف کے دورہ چین اور چین کے پاکستان کی جانب جھکاؤ جس میں واضح کیا گیا کہ چین سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے لئے بھارت کی حمایت نہیں کرے گا اور وہ اس وقت تک کوئی ایسے اقدام اٹھانے کے لئے تیار نہیں جب تک ۔دہلی ۔پاکستان کے تحفظات دور نہ کرے،یہی بنیادی وجہ تھی کہ اوباما اور مودی پاکستانی وزیر اعظم سے بات کرنے پر مجبور ہو گئے ۔کہ بھارت پاکستان سے متعلق طرز عمل پر نظر ثانی کرے،عالمی سطع پر پاکستانی کی جغرافیائی اہمیت بھارت سے کہیں زیادہ ہے،انڈیا آنے جانے والی درجنوں پروازیں روزانہ پاکستان کے راستے گذرتی ہیں،پاکستان لاجسٹک سہولیات مہیا نہ کرے تو امریکہ کبھی اس خطہ میں کامیاب نہیں ہو سکتا ،Bricsکی بھی پاکستان بنیادی ضرورت ہے ،اگر قیادت بہتر ہو تو اس جغرافیائی اہمیت کے ثمرات تا قیامت جاری رہیں گے ورنہ یہ ہمیں ڈبو بھی سکتی ہے ،دنیا کی نمبر ون فوج کے ہم مالک ہیں اس کے باوجود ہماری سیاسی قیادت کی کپکپی ختم نہیں ہوتی ..ہمیشہ منصفانہ ،غیر جانبدرانہ،غیرت مندانہ ،جرات مندانہ اور تلخ فیصلے ہی دنیا میں سرخرو کرتے ہیں،گیڈر کی سوچ رکھنے پر ۔خون۔کی ہولیاں ختم نہیں کی جا سکتیں.اب امام بارگاہوں پر حملوں سے طاغوتی طاقیں پاکستان کو مزید فرقہ ورایت کی جنگ میں دھکیلنے کی چال چلنے لگی ہیں با غیرت مسلمانوں کو ان مذموم مقاصد کو شکست دینا ہو گی حکمران شاید ایسا نہ کر سکیں…..

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button