تازہ ترینکالم

اصلی چہرہ کونسا ہے ؟

foziaآخری روزہ تھا میں اور میرا بیٹا بس سٹاپ پر بس کے انتظار میں کھڑے تھے کہ کب بس
آئے اور ہم جلدی سے گھر پہنچیں انھیں سوچیں میں گم تھی کہ کل عید ہو گی اور پھر
یہاں ٦ ہفتوں کی چھٹیاں شروع ہو جائیں گی ……………..اک دم اک آواز میرے کانوں سے
ٹکرائی اک بچی جس کی عمر سات سال تھی جو half cast تھی جس کا باپ نام نہاد مسلمان اور ماں عیسائی تھی …….
معصومیت سے بولی : ماما کل سب مسلم بچوں کے لئے day off ہے آج headteacher
نے assembly میں اعلان کیا ہے ……
ماں جو سگریٹ کا کش لگاتے ہوۓ بڑ ی عجیب سی نظروں سے بیٹی کی طرف دیکھا
اور بولی تو ………
بیٹی بڑی ہی معصومیت سے بولی : ماما …..پاپا بھی تو مسلمان ہیں اگر ہم کرسمس مناتے ہیں تو عید کیوں نہیں ….
میں جو اپنی سوچوں میں کھوئی ہوئی تھی اس کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پر اک سوال تھا جو میرے دل کو ہلا کر رکھ گیا اس کی سوچ میری سوچ سے عمر وقت اور حالات
کے حساب سے الگ تھی پر اک سوال جو مجھے اکثر تنگ کرتا تھا اس واقعہ کے بعد شدت اختیا رکر گیا کہ ہمارے نام نہاد مسلمان بھائی جو نیشنلٹی یا کسی اور ٹھرک میں
اکثر حلال حرام کی تمیز کیے بغیر ایسے رشتے قائم کر لیتے ہیں جن سے پیدا ہونے والی
اولاد نہ ادھر کی رہتی ہے نہ ادھر کی ………ان میں سے کتنے تو جانتے بھی نہیں کہ ان کا باپ کون ہے کدھر ہے کہاں سے آیا کدھر گیا ………….پر وہ اس لیے جانتی تھی اس کا نام عائشہ تھا اور باپ سے ملاقات رہتی ہوگی ……یہ یہاں کا بہت بڑا المیہ ہے ایسے بچے
یا باپ کے بغیر ماں کی ذمہ داری ہوتے ہیں جس کے لیے حکومت مدد کرتی ہے ………بلکہ اکثر بچے ہی والدین کی شادی میں شرکت کرتے ہیں چاہے شادی ان کے باپ سے ہو یا کسی اور سے بلکہ شادیو ں کا رواج ہی نہیں یا یہ کہ سکتے ہیں بہت ہی کم ………..
پھر بولی : ماما پاپا کہتے ہیں وہ مسلم ہیں اور میرا نام مسلم نام ہے اور آپ کہتی آپ
عیسائی تو میں کون ہوں ؟
اگر میں کرسمس اور ایسٹر منا سکتی ہوں تو عید کیوں نہیں ؟
اس کے ان چھوٹے چھوٹے معصوم سوالوں نے مجھے مزید الجھا دیا کہ جب ہمارے نام نہاد
مسلمان بھائی رشتوں کو قائم نہیں رکھ سکتے تو رشتے بناتے کیوں ہیں اور اگر بنا لیے
حلال حرام کی تمیز کیے بغیر تو ان بچوں کے نام مسلم ناموں پر خاص کر امہات المومنین
کے ناموں پر کیوں رکھتے ہیں کیا بیٹیوں کے معاملے میں ہی غیرت جاگتی ہے یا نام مسلم
ہونا چاہیے کرتوت مسلمانوں والے ہوں نہ ہوں تا کہ وہی عیسائی ، یہودی ، مجوسی اور
ہندو عورتیں ساری زندگی ان بچوں کو یہی طعنے دیتی رہیں کہ مسلمان ہوتے ہی ایسے ہیں جو دکھتے کچھ ، بنتے کچھ اور ہوتے کچھ ہیں ………کتنے چہرے سجائے ہوے پھرتے
ہیں ……..نام بدنام ہوتا ہے اسلام کا ہمارے مذھب کا ………….
اور ان بچوں کا کیا قصور جب یہ سوچتی ہوں تو اور بھی دکھ ہوتا ہے ………بچپن سے جوانی تک اسی کشمکسش میں رہتے ہیں اور جن کے نام کے ساتھ مسلم لیبل لگتا ہے ان کو یا نام بدلنا پڑتا ہے یا اس نام کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے ……….ایسی صورت میں
وہ کیا اسلا م سے محبت رکھیں گے یا اس باپ سے …………..
پر جب تک وہ شعور کی منزل تک پہنچھتے تب تک دن رات کی سوچیں ایسے حساس
بچوں کی شخصیت کو ہی کمزور کر چکی ہوتی ہے …………
ہے کسی کے پاس اس معصوم کے سوالوں کا جواب ……
یا میرے سوالوں کا کہ ایسے لوگ کیوں چہرے پر چہرہ سجائے پھرتے ہیں تھوڑے سے مفاد کی
خاطر یا جنسی خواہشات کی خاطر جو وہ اپنے وطن میں کھلم کھلا نہیں کر پا تے اور
پارسا بنے پھرتے ہیں مغربی ممالک میں آتے ہی سب بندشوں سے آزاد ہو جاتے ہیں ……
کیوں آخر کیوں …………ہے کسی کے پاس ان کیوں کا جواب

یہ بھی پڑھیں  ملک بھر میں یوم عاشور عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker