تازہ ترینذیشان انصاریکالم

اسلامی ریاست

zeshanبیشک14اگست 1947ء کو برصغیر کی تقسیم کا مقصد ایک اسلامی ریاست کا قیام تھا جہاں پر اسلام کے اصولوں ،فلسفوں اور نظریات کو لاگو کیا جاسکے اور دنیابھر کے غیر مسلم ریاست پاکستان کی سیاست ،آئین ،قانون ،خدمات ،کارکردگی اور سوچ کا مطالعہ کرنے کے بعد مشرف بااسلام ہوسکے اور پوری دنیا میں دوبارہ اسلام کا غلبہ ممکن ہو اور یہود وانصاری کی بجائے اسلام سپر ریاست کا درجہ حاصل کرئے ۔1947ء سے قبل تمام مفاد پرست ،کرپٹ اور ملک دشمن عناصر انگریزوں کی گود میں بیٹھے ہوئے تھے اور جی حضور ی،جی حضوری کی صدا بلند کئے ہوئے تھے ؟ مگر بدقسمتی سے 14اگست 1947ء کے بعد یہ تمام عناصرایک ایک کرکے مسلم لیگ و محب الوطن سیاستدانوں، مذہبی رہنماؤں میں شامل ہوتے گئے۔ان عناصر نے اپنے آباؤں اجداد کے فلسفہ پر عمل کرتے ہوئے بیرونی طاقتوں کو اپنا آقا کا درجہ دیا اور ہر ممکن کوشش کی کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست کا درجہ حاصل نہ کرسکے؟
جب کبھی اسلامی ریاست کی کوشش کی گئی تو ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دی گئی اور ملک میں موجود فقہوں کو مختلف بہانوں وچلا کیوں سے لڑایا جاتا رہا۔جس کافائدہ ہمیشہ ہی نااہل ،کرپٹ ،مفاد پرست ،جرائم پیشہ افراد نے حاصل کیا اور اقتدار کی کرسی پر قبضہ کر لیا اور اپنے دور اقتدار میں شراب ودیگر منشیات کے کاروبار کو ترقی دیتے آئے اور عوام کی محنت کی کمائی سے اپنے بیرون ملک موجود بینک اکاؤنٹ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی ۔
موجودہ ملکی حالات میں مختلف جگہوں پر مختلف گروہوں آپس میں جنگ کا سماع بنائے ہوئے ہیں ۔راقم 12ربیع الاوّل کو سر گودھا کے دورے پر گیا ہوا تھا شہریوں نے اپنے شہر کو لائٹوں ،جھنڈیوں ،جھنڈوں ودیگر ڈیکوریشن اشیاء سے سجایا ہوا تھا جو شہر کے باسیوں کی اپنے آقا محمدؐ سے محبت کا ثبوت دے رہاتھا ،12ربیع الاوّل کو صبح سویرے ریلیوں ومحفلوں کا سلسلہ شروع ہوگیا جو نماز مغرب تک جاری رہا ۔ مگر بدقسمتی سے اس سال سرگودھا سمیت ملک بھر میں تمام مسلمانوں کے گروہوں نے اپنی اپنی ریلی کا اہتمام کیا جو ایک سال بیشتر مشترکہ طور پر نکالی جاتی تھی جس سے غیر مسلمانوں کو سبق ملتا کہ مسلمان اپنے آقاؐ سے کتنی محبت کرتے ہیں اور ریلیوں ومحفلوں میں5سال کے بچے سے لیکر 90سال کے بوڑھے شخص تک شامل ہوتے اور ریلی کے افراد کیلئے جگہ جگہ سبیل ولنگر کا اہتمام کیا جاتاجو تھکاوٹ محسوس نہیں ہونے دیتا ۔
مگر ایک سال کے اندر اندر فیس بک،TWITER،SMSاور سی ڈی کی مدد سے ایسی فرقہ واریت کی فضا کو ہوا دی گئی کہ تمام گروہوں نے تقریباً اپنا اپنا جلوس وریلی کا اہتمام کیا کسی نے10ربیع الاوّل کو ریلی نکا تو کسی نے11کو اور کچھ مرکزی ریلی کے بعد سٹرکوں پر نکلے ۔ کیا یہ تمام محنت سیاستدانوں کی تونہیں تھی ؟جن کو اپنا ووٹ بنک بنانے کیلئے مختلف اوقات میں مختلف ریلیوں کو استقبال وشریک ہونے کا موقع نصیب ہوا؟
16 مارچ کے بعد ملک میں نگران سیٹ اپ آجائے گا اورمئی،جون میں قومی وصوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوگئے، یہی ایک موقع ہوتا جب ہم اپنے فرائض کا درست استعمال کرکے پاکستان ریاست کے حقوق پورے کرسکتے ہیں۔ اگر ہم اس دن بیرونی طاقتوں کے ایجنٹوں کی بجائے محب الوطن قیادت کا انتخاب کرتے ہیں تو پھر ہی ممکن ہے کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست کا درجہ حاصل کرسکئے اور پاکستان کی قیادت میں تمام اسلامی ممالک متحد ہوکرایک سپر پاور کا درجہ حاصل کرسکئے۔ پھر دنیا سے جہالت، سود، بیروزگاری، کرپشن، فرسودہ نظام تعلیم ودیگربرائیوں کا خاتمہ ہو جو مغربی سامراجی طاقتوں نے زمین پر پیدا کی ہوئی ہیں
میری اللہ کے حضور دعا ہے کہ پاکستان سے فرقہ واریت کی فضا کا جلد از جلد خاتمہ ہو (امین)!

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button