بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

اسمبلی کا حسن اور کچھ سیاسی جانشینوں کی حالت زار کا تذکرہ

bashir ahmad mirقارئین سے حسب وعدہ ۔۔۔آج کا کالم تین موضوعات پر مشتمل ہے سب سے پہلے اسمبلی کے بارے میں تذکرہ کیا جائے گا بعد ازاں ہماری سیاست میں دو شخصیات بارے جو سیاسی جانشین ہیں ان کا ذکر کیا جائے گا ۔رواں ہفتہ آذادکشمیر اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلائے گے اجلاس کے دوران ڈپٹی اپوزیشن لیڈر چوہدری طارق فاروق نے ایک ضمنی سوال کیا کہ میڈیکل کالج کے انتظامات و اخراجات کیا ہیں اور اس کا کنٹرول کس کے پاس ہے اس پر وزیر صحت سردار قمرالزمان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں آج سچ بولتا ہوں کہ میڈیکل کا لج کا وزیرصحت اور وزارت صحت سے کوئی تعلق نہیں ،اس کے تمام معاملات چیف سکرٹری چلا رہے ہیں جو باقاعدہ ایک نوٹیفکیشن کے تحت اختیار رکھتے ہیں اس پر چوہدری طارق فاروق نے چیف سیکرٹری بارے کہا کہ ان کی مداخلت سے ممبران اسمبلی کا تقدس پامال ہو رہا ہے،حکومت اپائج ہو چکی ہے ،وزیر صحت کو مستعفی ہو جانا چاہئے ۔اس پر رکن اسمبلی محمد حسین سرگالہ نقطہ اعتراض پر کھڑے ہو گے اور کہا کہ چیف سیکرٹری بارے کچھ نہ کہا جائے اسی اثناء رکن اسمبلی راجہ محمد صدیق بھی کھڑے ہو کر جناب سرگالہ کو مخاطب ہوئے مگر سرگالہ صاحب نے چیف سیکرٹری کے حق میں بولنا شروع کیا تو تینوں معزز اراکین کے مابین تلخ و ترش الفاظ کا تبادلہ ہی نہیں ہوا بلکہ باقاعدہ لڑائی کا ماحول بن گیا ،اگر فوری طور پر اپوزیشن لیڈر راجہ فاروق حیدر ،سردار قمرالزمان،مطلوب انقلابی ،عبدالماجد خان،میاں وحید اور سردار جاوید ایوب نے بیچ میں آکرمعاملہ کو ٹھنڈا کیا ،اس دوران سپیکر اسمبلی سردار غلام صادق نے اجلاس کی کارروئی 15منٹ کیلئے روک لی ۔اس واقعہ کو قومی و ریاستی اخبارات نے شہ سرخیوں سے شائع کیا اور تاحال مختلف کالم نگاروں نے اپنی اپنی آراء کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے تاہم اس واقعہ کو جمہوریت کا حسن کہا جائے تو غلط نہ ہو گا ،سرگالہ صاحب کی ن لیگ سے پی پی میں شمولیت نے واقعی تلخی پیدا کی ہوئی ہے اور ان کے طرز عمل نے ماحول کو کچھ زیادہ غیر سنجیدہ بنا لیا ہے بہرحال اپوزیشن کا موقف دیکھاجائے تو انہوں نے سو فی صد درست بات کی ،کیونکہ جو معاملات نظام کار کو متاثرکریں انہیں ہرگز نہیں ہونا چاہئے ،بلاشبہ اپوزیشن نے جمہوری روایات کی ترجمانی کی ہے جس پر چوہدری طارق فاروق کا اقدام لائق تحسین اور پارلیمانی تاریخ میں جرات مندانہ حیثیت کا حامل رہے گا ۔البتہ عام فہم طبقے میں اسے اچھا نہیں سمجھا گیا اور محمد حسین سرگالہ کے طرز تکلم پر حیرت کا اظہار کیا گیا کہ وہ عوامی فورم پر غیر عوامی سوچ و فکر کی کیوں نمائندگی کرتے ہیں ۔
دوسری اہم خبر رواں ہفتے میں یہ تھی کہ مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق خان 40رکنی وفد کے ہمراہ میاں نواز شریف سے انکے بھائی کے انتقال پر تعزیت کیلئے رائیونڈ’’جاتی عمرہ‘‘ تشریف لے گے ان کی ملاقات پر بعض حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ،کچھ کا کہنا ہے کہ اب برف پگلنے لگی ہے اور کچھ بتا رہے ہیں کہ تعزیتی راہ و رسم آذادکشمیر سے ن لیگ کے مسلم کانفرنس میں ضم ہونے کی شروعات ہیں جبکہ ادھر ن لیگ کے صدر نے مسلم کانفرنس کے احباب اور سردار عتیق خان کو مسلم لیگ ن میں شامل اور ضم ہونے کی دعوت دے ڈالی ہے ۔تاہم بعض حلقے بتا رہے ہیں کہ سردار عتیق خان نے گذشتہ چند ماہ کے دوران کئی اطراف ہاتھ پاؤں مارنے کی کوششیں کیں با الخصوص ملٹری ڈیموکریسی کی حمایت اور ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان آمد پر ان سے ملاقات ایک ہی سوچ کی کڑی قرار دی جاتی ہے ،اس میں کوئی شک نہیں کہ سردار عتیق خان کو ن لیگ آذادکشمیر کے قیام سے کافی بڑا دھچکا لگا بلکہ انہیں اب پاکستان سے موثر حمایت بھی مستقبل قریب میں مشکل نظر آتی ہے۔سردار عتیق خان بذات خود تو ذہین انسان ہیں مگر انہوں نے اپنے والد گرامی کی نصف صدی کی محنت کو ہوس اقتدار کی نذر کر دی ورنہ آج ن لیگ کہیں نہ ہوتی اور ان کا ہر طرف بول بالا ہوتا۔اب بھی ان کے پاس وقت ہے اگر وہ ان خامیوں کا ادراک کر لیں تو امکان ہے کہ ان کو سیاسی میدان میں مشکلات نہ آنے پائیں انہیں اپنے سیاسی ورثہ کو بچانا ہو گا ۔آئندہ اس موضوع پر تفصیل سے ذکر کروں گا کیونکہ آج کے اس کالم میں ایک اور سیاسی جانشین کا بھی ذکر کرنا چاہوں گا ۔
صاحبزادہ محمد اسحق ظفر آذادکشمیر کی سیاسیات میں اہم حیثیت رکھتے تھے انہوں نے تنکا تنکا چن کر سیاست میں عروج حاصل کیا ،ان کی شبانہ روز کاوشوں سے پی پی پی مظفرآباد ڈویثرن میں باالخصوص اور آذادکشمیر میں باالعموم انتہائی نامساعد حالات میں آب و تاب سے فتح یاب ہوئی ۔ان کی رحلت کے بعد ان کے ہونہار فرزند صاحبزادہ محمد اشفاق ظفر ایڈووکیٹ ان کے سیاسی جانشین مقرر ہوئے ان کی خو ش قسمتی رہی کہ انہیں بھی سردار عتیق خان کی طرح بنے بنائے سیاسی جماعت نصیب ہوئی مگر ان کی بے شمار غلط پالیسیوں کے سبب انہیں دو انتخابات میں شکست ہوئی ہے ۔اگر چہ انہوں نے چند فیصلے مثالی بھی کئے جن میں ضلع ہٹیاں بالا کے ایڈمنسٹریٹر چوہدری اسحق طاہر ایڈووکیٹ ،بلدیہ کے ایڈمنسٹریٹر ناصر چک ،چیئرمین ضلع زکوۃ راجہ محمد شفیق ،پی آر او خورشید اعون ایڈووکیٹ جن کا بنیادی تعلق پی پی پی سے ہے ان کا انتخاب بہت عمدہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے تاہم انہوں نے اپنے سیاسی معاملات میں ایسے بلینڈر کئے جن کی تلافی شاہد وہ کئی برسوں تک نہ کر سکیں گے ۔مثلاً گذشتہ انتخابات میں ایک قابل ذکر پی پی پی کے کارکن سید تصویر نقوی اپنے ساتھیوں سمیت جب ن لیگ میں شامل ہوئے تو اشفاق ظفر صاحب نے اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ چند لوگ چلے بھی جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے ،آخر انہیں پتہ لگ گیا کہ فرق پڑتا ہے یا نہیں ،اسی طرح گذشتہ دنوں انہوں نے ایک با صلاحیت ،قابل اور عوام دوست آفیسر صاحبزادہ ذوالفقار کو جبراً انہیں بلدیہ آفیسر سے سبکدوش کیا حالانکہ ان کی بلدیہ کی ترقی میں بنیادی خدمات کسی سے پوشیدہ بھی نہیں مگر انہیں جس انداز سے ہٹایا گیا وہ بھی ان کی سیاسی غلطی ہے جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑے گا۔رواں ماہ پی وائی او اور پی ایس ایف کے زیر اہتمام بلاول بھٹو ریلی جو جہلم ویلی میں منفرد حیثیت کے حامل تھی اس کے اثرات بھی براہ راست ان کے حلقہ انتخاب پر پڑنے تھے مگر ان کی عدم شمولیت اور بعض ذرائع بتاتے ہیں کہ انہوں نے درپردہ اس کی اس مخالفت بھی کی جس کی وجہ سے پیپلز یوتھ کے رہنما سید قمر عباس ان سے نالاں ہو چکے ہیں بلکہ چوہدری شاہنواز اور سید خالد ہمدانی سمیت کئی کارکن گذشتہ ہفتے سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے بھی ملے اور اپنی شکایات پیش کیں ،بتایا جاتا ہے کہ اس بارے وزیراعظم چوہدری مجید کو بھی ایک وفد ملا ہے جنہوں نے پوری تفصیل سے صاحبزادہ محمد اشفاق ظفر کے بارے تمام تحفظات اور مضمرات سے آگاہ کیا ہے ۔یہ ساری تفصیل کرنے کا مدح یہ تھا کہ موصوف پے درپے سیاسی غلطیوں سے مستقبل میں نا قابل تلافی نقصانات اٹھائیں گے ۔جیسے سردار عتیق خان نے ریاست کی نمائندہ جماعت جماعت مسلم کانفرنس کو اب’’لبریشن لیگ‘‘ بنا ڈالا ہے اسی طرح صاحبزادہ اشفاق ظفر نے پی پی پی ہٹیاں بالا کو’’ تحریک عمل‘‘ بنا دیا ہے جو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ دفن ہو جائے گی۔قلمکار ذمینی حقائق پر ہی بات و تحریر کر سکتا ہے ،بہرحال ہماری سیاسی تاریخ کی بد قسمتی ہے کہ سردار عبدالقیوم خان اور صاحبزادہ محمد اسحق ظفر کے جا نشین اپنی اہلیت کا مظاہرہ نہیں کر سکے اور اپنے والدین کی ورثہ میں ملی ہوئی سیاسی دولت کو اللوں تللوں کے سپرد کر کے جگ ہنسائی کا موجب بنا ڈالا۔انشاء اللہ آئندہ مزید انکشافات کر کے ان قابل احترام شخصیات کو جھنجوڑا جائے گا اگر پھر بھی نہ سمجھے تو اللہ عوام کا حامی و ناصر رہے گا ۔note

یہ بھی پڑھیں  میں حر ہوں اور ابھی لشکرِ یزید میں ہوں؟؟؟؟؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker