تازہ ترینکالم

عطاء الحق قاسمی کے معشوق!

subha-sadiqیادرفتگاں خوابیدہ محبت کو جگاتی ہے،وہ بے رونق سینوں میں اس طر ح اجالا کرتی ہے جس طر ح ستارے کسی بے رونق جنگل کویا جس طرح شعاعیں غروب آفتاب کے وقت پہاڑیوں کو چمکا دیتی ہیں،ان کی یاد میں جلملاتی روشنی ہمارے خیالات کی صفائی کرتی ہیں ،ہمارے تخیلات انہیں اپنی ایک نورانی لباس میں متحرک دیکھتے ہیں، اس ان دیکھی دنیا کی روشنی ہماری زندگی کے ڈھلتے ایام پر شعلہ کی آخری چمک کی طرح عکس ریزی کرتی ہے،ہماری مقدس امید اور ارفع انکسار یہی بات سلجھاتے ہیں کہ یاران رفتہ کو ایک نور کی دنیا نے ہم سے علیحدہ کردیا ہے۔ میں جن کو آج یاد کرر ہا ہوں ان کی یاد میرے اندر ہیرے کی طرح چمک رہی ہے اور میرے اندر کی تاریکیوں کو اجالوں میں بدل رہی ہیں مگر یہ عقدہ کشائی نہیں ہوتی کہ موت کے پردے میں کیا مضمر ہے جو زندہ انسانوں کو نظر سے اوجھل ہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک شخص کسی پرواز کرنے والے پرندے کا گھونسلادیکھ کر یہی بتا سکتاہے کہ پرندہ محو پرواز ہے مگریہ نہیں بتا سکتا کہ وہ اپنی کوشش سے کیا راگ الاپ رہا ہے مگر پھر بھی انسانوں کی سوئی ہوتی حالت میں جس طرح فرشتے خوبصورت خوابوں میں روح کو پکارتے ہیں، ا سی طرح انسانی تخیلات ہماری خیال کی دنیا سے بلند تر پہنچ جاتے ہیں اور نور کی دنیا میں چمکتے ہیں ایک نیک راہ رواں کی موت ایک ایسے ستارہ کی مانند ہے جسے اگر کسی مزار میں مقید کیا جاسکے تو اس کی مقیدروشنی وہاں سے بھی ضرور چمکے گی اور جب اس کو قید کرنے والا ہاتھ آزادی بخش دے تو وہ تمام فضاء کو منور کردیگا۔سو آج میں ایک ایسے انسان کی جدائی میں بیٹھا اس کی گن گار رہا ہوں جس کی چمک کو میں نے انتہائی قریب سے دیکھا ہے جس کی سرپرستی سے میری روح کو غلامی سے آزادی کی روشن راہ کا پہلا قرینہ نصیب ہوا ہے، جس کی دست شفقت سے میری نگاہ مادی محتاجی سے لاپرواہ ہوئی ہے اس شخص کا نام عطاء الحق قاسمی ہے،میں گذشتہ سات برسوں سے ان کی قربت میں ہوں، میں نے ان میں بے شمار خوبیاں دیکھیں ہیں،جن پر کسی دن بات کرؤ ں گا کیونکہ مجھے آج ان کی بات کرنی ہے جو ہم سے بچھڑ گئے جن سے میں نے عطاء الحق قاسمی کو عشق کرتے دیکھا ان کے قلم سے صفحہ وطاس پر جو بھی منتقل ہوا وہ میری بیداری کا باعث بنا گزشتہ سات برسوں سے ہر صبح جب مشرق کی جانب سے دامن سحر کے اندر ہنگامہ بیا ہوتا ہے تو اس وقت منز ل ہستی سے خاموش کو چ کا نقارہ بجاتی ہے،محفل قدرت کا سکوت ٹوٹ جاتا ہے اور ہر چیز اپنی زندگی کا ثبوت دیتی ہے چمن سے پھول شگفتگی کا اظہار کرتے ہیں ،کوئل کے آواز سے طائران نغمہ سنج جاگتے ہیں،پرندے پیغام حیات پا کر چہچہاتے ہیں قانون قدرت کا تارتار ترنم ریز ہوتاہے اور اشرف المخلوقات خواب سے بیدار ہو کر رہ پیما ہوتے ہیں ،مجھے نمود صبح کے اس احساس کے ساتھ ہر دن اس روشن چہرے کا دیدار نصیب ہوتا آیا ہے جو کہ جاری ہے اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ان کو صحت وسلامتی عطاء کرتی رہے چند دن پہلے میں ڈاکٹر جاوید اقبال (مرحوم)کی یاد میں ایک پروگرام اٹینڈ کرنے کا اتفاق ہوا تو اظہار خیال کرنے والوں نے ہر زاویے سے ان شخصیت پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی،مگر میری نگاہ کہیں اور تھی میری نگاہ عطاء الحق قاسمی اور ڈاکٹر جاوید اقبال مرحوم کی اس گفتگو پر تھی جو وہ الحمراء میں منعقد ہونے والی مختلف تقاریب میں سٹیج پر بیٹھے ایک دوسرے کی طرف جھک کرکیا کرتے تھے یہ ایک شاندار منظر ہے جو میری آنکھوں سے اوجھل ہونے کانام نہیں لیتا،الحمراء آرٹس کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی عالمی کانفرنسیں ہو یا دیگر ادبی و ثقافتی پروگرام عطاء الحق قاسمی ان کو یاد کئے بغیر کوئی پروگرام مکمل نہیں سمجھتے تھے، عبد اللہ حسین (مرحوم) اور انتظار حسین(مرحوم) کے تو عطاء الحق قاسمی بہت بڑے عاشق تھے اور رہے گے، عبداللہ حسین (مرحوم)نے ایک وعدہ میرے ساتھ بھی کیا تھا اگر آج عبداللہ حسین زندہ ہوتے تو اس وعدے کے پورا ہونا کا وقت آپہنچا ہے تو انھوں نے میرے ساتھ کیا تھا،اور اگر وہ وعدہ پورا ہو جاتا تو میری زندگی سہل ہو جاتی ،مگر آج وہ اس دنیا میں نہیں مگرمجھے یقین ہیں کہ وہ جہاں بھی ہیں وہ اپنا وعدہ پورا کریں گے!۔
عطاء الحق قاسمی کے معشوقوں کا شمار ممکن نہیں وہ تو ہر ادیب،شاعر،محقق،مدبرکے علاوہ عوامی سطح کے (Down to earth) انسان ہیں ،محبت کرنے کے ساتھ ساتھ موقع بنا کے دینے کا گرُ بتانے اور پھر آگے ہی آگے بڑ ھاتے جانے میں کمال مہارت رکھتے ہیں وہ ہر ایرے غیرے کی الزام تراشیوں سے بالا تر شخصیت کے مالک انسان ہیں،وہ تو الزام لگانے والے کے بھی اچھے کام کی تعریف کرتے ہیں مگر عمران خان نے تونہ ان کو جانا ہے نا پرکھا ہے، ورنہ وہ بھی انہیں اپنا استاد مانتے!

یہ بھی پڑھیں  للیانی:ایم این اے سلمان حنیف کا ساتھیوں سمیت ہائی سکول پرحملہ،ہیڈماسٹر پر تشدد

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker