تازہ ترینکالم

منٹوکاٹیٹوال کا کتا،داستان مسلسل

atharاٹھمقام ضلع نیلم کا ہیڈ کواٹر ہے جو 1990ء کے بعد مسلسل بھارتی فوج کی گولہ باری سے تقریبا مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔اس وقت نیلم ویلی ضلع نہیں بنا تھاتاہم اٹھمقام ہی مظفر آباد کی ایک تحصیل نیلم ویلی کا صدر مقام تھا۔بھارتی گولہ باری سے تباہ ہونے پر تحصیل ہیڈ کواٹر اٹھمقام سے مظفر آباد کی جانب دس کلومیٹر کے فاصلے پہ واقع کنڈل شاہی منتقل کر دیا گیا۔وادی نیلم کئی حوالوں سے مشہور ہے جو قدرتی خوبصورتی،، دلنشیں موسم ،برفانی ندی نالوں،جھیلوں ،پہاڑی میدانوں،جنگلوں کی صورت موجود ہے۔وادی نیلم کی ڈوگرہ اور ہندوستانی فوج سے آزادی میں گلگت کے مرزا کرنل حسن خان ،ان کے ساتھیوں اورچترال سکاؤٹس کا نمایاں کردار ہے۔
وادی نیلم کی مشہوری کی ایک و جہ سعادت حسن منٹو کا شاہکار افسانہ ’’ ٹیٹوال کا کتا‘‘بھی ہے۔اس میں برتاؤ،روئیے کا اظہار منٹو نے جس طور کیا وہ منٹو کا ہی اعجاز ہے۔سعادت حسن منٹو11مئی1912ء کو ضلع لدھیانہ کے سمرالہ گاؤں کے ایک کشمیری بیرسٹر خاندان میں پیدا ہوئے اور 18جنوری1955ء کو وفات پا گئے۔اپنی محض42سالہ زندگی میں سعادت حسن منٹو نے اپنے قلم سے جو شاہکار تخلیق کیئے ان کا اعتراف دنیا نے ان کی موت کے بعد کیا۔اپنی زندگی میں منٹو غیر معقول،فحش اور تکلیف دہ سچ بولنے کے الزامات سہتا رہا۔ ایک کشمیری ہونے کے ناطے منٹو خود کو اس آگ سے محفوظ نہ رکھ سکا جو ہر مظلوم کشمیری کے دل میں جلتی،سلگتی ہے۔اب معلوم نہیں کہ سعادت حسن منٹو کبھی نیلم ویلی گئے،انہوں نے وہاں کے مشاہدات کو کشمیریوں کے احساسات اور ان سے روا رکھے جانے والے سلوک کو اپنے مشہور عالم افسانے’’ٹیٹوال کا کتا‘‘کی صورت و شکل دی یا منٹو نے اپنے علاقے میں بیٹھ کر ہی کشمیریوں کی روئیداد لکھ ڈالی۔میرے خیال میں منٹو نے نیلم ویلی کا دورہ ضرور کیا تھا کیونکہ افسانے میں مضبوط مشاہدات پر مبنی اظہار تصوراتی طور پر اس انداز میں بیان نہیں ہو سکتا ۔
منٹو اپنے افسانے میں جس کتے کا ذکر کرتا ہے ،ذکر کہنا مناسب نہیں ، منٹو اپنے افسانے کے ہیرو کے بارے میں بتاتا ہے کہ ٹیٹوال میں آمنے سامنے مورچوں میں بیٹھے ہندوستانی فوجی نے اس کا نام چپڑ جھن جھن اور پاکستانی فوجی نے سپڑ سن سن رکھا تھا۔شاید یہ پہلا ہیرو کتا ہے جس پر گزری کو ہر کشمیری اپنی ذات پہ گزرتا محسوس کرتا ہے۔منٹو کے افسانے کے مطابق ’’ چپڑ جھن جھن یا سپڑ سن سن‘‘ ٹیٹوال میں آمنے سامنے دونوں ملکوں کے موجود فوجی مورچوں کے ارد گرد ہی کھانے پینے کی تلاش میں منڈلاتا رہتا تھا لیکن تحقیقات اور چھان بین سے پتہ چلا ہے کہ ’’ چپڑ جھن جھن یا سپڑ سن سن‘‘ کو زمانے میں کھانے پینے کے علاوہ اور بھی دکھ تھے جس کا احاطہ منٹو نہیں کر سکا۔ ’’ چپڑ جھن جھن یا سپڑ سن سن‘‘ بھی بیچارہ دل کے ہاتھوں مجبور تھا اور وہ مورچوں کے عقب میں واقع انسانی آبادیوں میں بھی پہنچ جاتا تھاجہاں غربت کے مارے لوگوں سے کھانا پینا تو کم لیکن اسے وہ ہمسفر ضرور مل گیا جس سے وہ اپنے دل کی باتیں کر سکے۔اب یہ تو قانون قدرت ہے کہ انسان ہو یا جانور اس کی نسل آگے چلتی رہتی ہے ،بشرطیکہ وہ انسان یا جانور دل کے ہاتھوں ’’ مجبور‘‘ ہو گیا ہو۔
اب کی بار میں وادی نیلم گیا تو یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ ’’ چپڑ جھن جھن یا سپڑ سن سن‘‘ کی نسل اتنی بڑی تعداد میں موجود ہے کہ اس کی مظلومیت اوربے چارگی،دھونس اور دھمکی میں تبدیل ہو چکی ہے۔جو بیچارہ ’’ چپڑ جھن جھن یا سپڑ سن سن‘‘ اپنا پیٹ بھرنے کے لئے اپنی انا، خودداری بھول کر دو فوجی مورچوں کے درمیان اپنا وجود منوانے کے لئے گھومتا رہتا تھا ،آج اس کی ’’آزاد‘‘ نسل کو اتنا زیادہ ’’کھانا پینا‘‘ میسر ہے کہ اس نے اب دماغ کی جگہ پیٹ سے ہی سوچنے کا کام لینا شروع کر دیا ہے۔آج ’’آزاد فضاؤں‘‘ میں رہنے والے کتے ’’ چپڑ جھن جھن یا سپڑ سن سن‘‘ کی جدوجہد اور قربانیوں پر مبنی حالات زندگی کو فراموش کر چکے ہیں جو اس نے اپنی نسل کی بقاء کے لئے بھی دی تھیں۔بھارتی مقبوضہ کشمیر میں آوارہ کتوں کو ہلاک کرنا قانونا ممنوع و جرم ہے۔ اٹھمقام میں رات کے وقت آوارہ کتوں کے غول کے غول دندناتے پھرتے دیکھ کر پہلے تو مجھے لگا کہ شاید بھارتی مقبوضہ کشمیر کا کتوں کو ہلاک نہ کرنے کا تحفظاتی قانون یہاں بھی لاگو ہے لیکن پھر خیال آیا کہ یہ تو ’’آزاد کشمیر ‘‘ ہے،یہاں تو کتے کو توقیر و تحفظ مل ہی نہیں سکتا۔دماغ پہ زور دینے پہ مجھے منٹو کا ’’ ٹیٹوال کا کتا‘‘ یاد آ گیا اور یہ بھی یاد آ گیا کہ آزاد کشمیرجدوجہد اور قربانیوں کے اعتراف کا ’’نمونہ ‘‘ہے ، ہو سکتا ہے کہ ’’ چپڑ جھن جھن یا سپڑ سن سن‘‘ کی جدوجہد اور قربانیوں کے اعتراف میں ان کتوں کو خصوصی حیثیت و مراعات دی گئی ہوں اور اب ان کی زیادہ تعداد دیکھ کر،انہیں بازاروں میں دندناتے پھرتے دیکھ کر خوامخواہ ان کے’’ آبا وجد چپڑ جھن جھن یا سپڑ سن سن‘‘ کی جدوجہد اور قربانیوں کو بھلا کر بلاوجہ اعتراض کنندہ بن گئے ہیں۔
منٹو ’’ ٹیٹوال کا کتا‘‘ کے اختتام میں حاصل بحث کے طور بیان کرتا ہے کہ ’’کتا فائر سے گھبرا کرمڑا۔ایک ٹانگ اس کی بالکل ضائع ہو گئی تھی۔باقی تین ٹانگوں کی مدد سے اس نے خود کو چند قدم دوسری جانب گھسیٹا کہ جمعدار ہرنام سنگھ نے نشانہ تاک کر گولی چلائی جس نے اسے وہیں ڈھیر کر دیا۔صوبیدار ہمت خان نے افسوس کے ساتھ کہا ،’’چچ چچ ،،،،، شہید ہو گیا ہے بے چارہ‘‘ ۔جمعدار ہرنام سنگھ نے بندوق کی گرم گرم نال اپنے ہاتھ میں لی اور کہا،’’وہی موت مرا جو کتے کی ہوتی ہے‘‘۔(ضروری نوٹ۔اس کالم میں پیش کئے گئے تمام کردار و واقعات سوائے منٹو کے ،فرضی ہیں ،تحریر نگار کسی بھی قسم کی مماثلت کا ذمہ دار نہ ہو گا) ۔

یہ بھی پڑھیں  کورونا ایک بار پھر بے قابو: 24 گھنٹے کے دوران مزید 13 اموات

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker