تازہ ترینصابرمغلکالم

اے ٹی ایم ہیکنگ

غیر ملکی ہیکرز نے حبیب بینک لمیٹیڈ سے 559صارفین کے اکاؤنٹس سے ایک کروڑ سے زائد رقم نکال لی نکلنے والی یہ رقم اندرون ملک کے علاوہ چین ،انڈونیشیا سمیت مختلف ممالک میں سے نکالی گئی ،HBLکے کارپوریٹ اور مارکیٹنگ ڈائریکٹر نوید اصغر کے مطابق متاثرہ صارفین کو گھبرانے کی ضروت نہیں انہیں یہ رقم واپس ادا کردی جائے گی اس وقت ہمارے صارفین کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے مگر کسی کو بھی متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا گو ہیکرز کی تشخیص کرنا مشکل ہو سکتا ہے ،ڈیبٹ کارڈ میں اسکیمنگ کے ذریعے اس ہیکنگ پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ ہم نے تمام بینکوں کو ہیکنگ سے بچنے کے لئے یوروپے اور ماسٹر کارڈ ویز معیار کے مطابق اے ٹی ایم مشینوں کو اپ گریڈ کرنے کا کہا تھا جو ان انتہائی محفوظ طریقہ ہے حبیب بینک لمیٹیڈ کے ڈیبٹ کارڈمیں صارفین کی معلومات کا ہیکرز نے اسکیمنگ کے ذریعے نعم البدل تیار کر رکھا تھا ہم HBL انتظامیہ سے رابطہ میں ہیں تا کہ متاثرہ صارفین کو ان کی رقم واپس دلوائی اور آئندہ کے لئے حفاظتی اقدامات اٹھائے جا سکیں،دوسری جانب حبیب بینک انتظامیہ نے ہیکنگ میں استعمال ہونے والے تمام ڈیبٹ کارڈز کو بلاک کر دیا ہے،اے ٹی ایم اسکیمنگ ایک غیر قانونی عمل ہے جس کے ذریعے اکاؤنٹ کی تفصیلات ڈیبٹ کارڈز کے پیچھے لگی مقناطیسی پٹی سے چوری کی جاتی ہیں اور ایسے واقعات پاکستان میں اس سے قبل بھی رونما ہو چکے ہیں اسٹیٹ بینک نے ان کارڈز کی سیکیورٹی اور مانیٹرنگ اور فراڈ سے رقم کی منتقلی کو بچانے کے لئے اب مزید خصوصی قوانین جاری کر دئیے ہیں تاکہ بینکوں کو خطرے کی تشخیص کے لئے جامع فریم ورک بنا کر اس پر عمل کرنا ہو گااس کے علاوہ اسٹیٹ بینک نے پیمنٹ کارڈ کے سیکیورٹی قوانین کو 2016میں جاری کیا تھا جس میں بینک کو ای ایم او کے انفراسٹرکچر کی تیاری اور30جون2018تک مکمل طور پر ای ایم او کارڈز کے اجراء کا حکم دیا تھا،ڈیبٹ کارڈ کے پیچھے مقناطیسی پٹی میں صٓرف کے اکاؤنٹ کی تمام تر تفصیلات محفوظظ ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اسکیمنگ کا خطرہ موجود رہتا ہے جبکہ ای ایم وی تکنیک کے حامل ڈیبٹ کارڈز موجودہ دور میں زیادہ مؤثر اور محفوظ ہے کیونکہ اس میں ایک چپ لگی ہوتی ہے اور دو طرفہ شناخت کا عمل بھی کیا جاتا ہے، اسکیمنگ ڈیوائسز کے ذریعے بینک ڈیٹا چوری کرنے کا پرانا طریقہ ہے جو دنیا کے کئی ملکوں میں برسوں پہلے استعمال ہو چکا ہے لیکن اب زیادہ تر ممالک نے جدید سیکیورٹی اقدامات کر لئے ہیں لہٰذا اب یہ طریقہ ان ملکوں میں قابل استعمال نہیں رہا ،اسکیمنگ ایسی ڈیوائس ہے جسے اے ٹی ایم کارڈ سلاٹ پر نصب کیا جاتا ہے جو میگنیٹنگ پٹی کو پڑھتی ہے پاکستان میں پیشتر ٹرمینل ایسے ہیں جہاں میگنیٹنگ پٹی کے ڈیٹا کو پڑھنے کے لئے پرانی تکنیک کو استعمال کیا جا رہا ہے اس معلومات کے تحت ایک جرائم پیشہ شخص کسیکے بھی بینک اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر سکتا ہے جرائم پیشہ افراد ایسے اے ٹی ایم بتھ کے اندر یا مشین میں ایسی ٹیکنالوجی کو نصب کر دیتے ہیں ججو کہ پن کوڈ کو جان سکے،اس پن کوڈ اور مگنیٹنگ پٹی کے ڈیٹا کو کلون کارڈ بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس سے بآسانی تمام معلومات کو کسی بھی اے ٹی ایم پر اکاؤنٹ کو خالی کردیا جاتا ہے،پن کوڈ کے حصول کے لئے ایک فرضی کی پیڈکو اصل کی جگہ نصب کیا جا سکتا ہے یا اے ٹی ایم بوتھ یامشین کے پاس موجود کیمرے کو نمبر جاننے کے لئے زیر استعمال لا یا جاتا ہے یہ کیمرہ کارڈ ایڈر کے قریب یا کیمرہ سلاٹ کے اوپر نصب کیا جا سکتا ہے،گذشتہ سال نومبر میں سندھ رینجرز نے کراچی میں گلشن اقبال میں سائبر کرائم میں ملوث 4رکنی گروہ جس میں محمد جاوید خان،صلاح الدین ،شاہ نواز حسین صدیقی اور سید ذوالفقار علی شاہ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا یہ ملزمان ایک نیٹ ورک ی صورت میں ہیکرز کی مدد سے کام کرتے تھے جو بڑے پیمانے پر انٹر نیٹ کے ذریعے اے ٹی ایم فراڈ کرتے تھے انہوں نے مختلف اکاؤنٹس کی ہیکنگ اور جعلی کریڈٹ کارڈز کے ذریعے 80 لاکھ یورو اور10لاکھ ڈالر ز دنیا بھر کے بینکوں سے غیر قانونی ترسیل کی تھی ان ملزمان کو رقوم کی ترسیل پر ہیکرز کی جانب سے کمیشن کی مد میں بھاری رقم ملتی تھی،جون2016میں ایف آئی اے نے الیکٹرانک ٹرانشیکن آرڈر اور پاکستان پینل کوڈ کے تحت بینک صارفین کے ساتھ فراڈ کرنے والے چین کے ایک شہری پر فرد جرم عائد کی تھی تب ایف آئی اے نے کہا تھا کہ بینکس کی جانب سے اے ٹی ایم کیلئے پرانی ٹیکنالوجی کا استعمال اور اے ٹی ایم بوتھ دہائیوں پرانا سیکیورٹی نظام کے استعمال کی وجہ سے منظم مقامی و بیرونی ممالک کے گروہوں کے لئے بہت آسان ہدف ثابت ہو رہا ہے،اس وقت ایف آئی اے نے اسٹیٹ بینک کو ایک مراسلے میں کہا تھا کہ اے ٹی ایم سیکیورٹی کو بہتر بناتے ہوئے سروس کے استعمال میں بائیو میٹرک فیچرز استعمال کو یقینی بنایا جائے ،رواں سال مارچ میں بھی دو چینی باشندوں کو کراچی میں ہی اے ٹی ایم پر اسکیمنگ ڈیوائسز کے ذریعے ڈیٹاچرانے کی کوشش میں گرفتار کیا گیا تھا، سائبر کرائم میں شمالی یورپ کے شہر لیتھونیا سے تعلق رکھنے والے ایولڈس رماسواکا نامی شخص نے فیس بک اور گوگل جیسی بڑی کمپنیوں سکو اپنے جال میں پھنسا کر ان سے 20ارب روپے کی کثیر رقم ہتھیا لی تھی اس نے یہ رقم دو سال کے عرصہ میں بٹوری تھی جو بعد ازاں پکڑا گیا،پاکستان میں اس وقت ملک بھر میں اے ٹی ایم بوتھ ہیں جنہیں روزانہ لاکھوں افراد استعمال کرتے ہیں ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً30فیصد آبادی اس وقت یہ کارڈزاستعمال کر رہی ہے ،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں بھی اسی سہولیت کا سہارا لیا گیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس شعبہ کو جدیدت سے استوار کیا جائے ،ایسے جرائم پیشہ عناصر ہمیشہ ایسے بوتھ استعمال کرتے ہیں جہاں کم رش ہوتا ہے، ،پاکستان میں یہ سروس پاکستان اسلامک بینک نے متعارف کرائی تھی ،اے اٹی ایم (Automatic Teller Machine )جسے خود کار نقد شماری آلہ یا مشین بیھ کہا جاتا ہے یہ ایک شمارندی مواصلاتی اختراع ہے جو کسی مالیاتی ادارے کے عمل کو تحویل دار (کیشئیر)یا نقد شمار کی ضرورت کے بغیر عوامی جگہوں پر مالیاتی معاملات تک رسائی فراہم کرتی ہے اس کو خود کار بینکاری بھی کہا جاتا ہے،دنیا کی پہلی اے ٹی ایم مشین 17جون1967میں لندن کے علاقے این فیلڈ میں بار کلیز بینک کی ایک شاخ میں لگائی گئی تھی ،اے ٹی ایم مشنی کی گولڈن جوبلی کے موقع پر جون2017میں بار کلیز بینک نے اس پلی مشین کو سونے کی مشین میں تبدیل کر دیا ہے،دنیا کی بلند ترین اے ٹی ایم سطع سمندر سے 4600میٹر یعنی15ہزار فٹ سے زائد بلندی پر لگائی گئی ہے جو پاک چین زرحد پر واقع گلگت بلتستان کے علاقے خنجراب کے زیرو پوائنٹ پر نصب ہے جو پاکستان کے سرکاری بینک نیشنل بینک نے نصب کی تھی ،پاکستان کے قومی بینک کی بلند ترین اے ٹی ایم سے قبل دنیا کی بلند ترین اے ٹی ایم کا ریکارڈ بھارت کے یو ٹی آئی بینک کو حاصل تھ جس نے بھارتی ریاست سکم میں14ہزار فٹ کی بلندی پر نصب کی تھی ،بھارت اور پاکستان کی یہ دونوں بلند ترین اے ٹی ایم مشینیں چینی سرحد کے قریب ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!