تازہ ترینسائنس و آئی ٹی

دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی مجموعی تعداد 16 ہزار 300 تک پہنچ گئی

اسٹاک ہوم(مانیٹرنگ سیل) دنیا کی 9 جوہری طاقتوں کے ایٹمی ہتھیاروں کی مجموعی تعداد 16 ہزار 300 ہے جن میں سے تقریباً 4 ہزار ہتھیار آپریشنل یعنی حملے کے لیے تیار حالت میں ہیں۔ امریکا اور روس دنیا کے مجموعی ایٹمی ہتھیاروں کے 93 فیصد حصے کے مالک ہیں۔ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی تعداد 100 سے 120 اور بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 90 سے 110 کے درمیان ہے۔ یہ تازہ ترین اعداد و شمار دنیا کے معتبر ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے جاری کیے ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی تازہ ترین رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2013 میں دنیا کے ایٹمی ہتھیاروں کی مجموعی تعداد 17 ہزار 270 تھی جو اب کم ہوکر 16 ہزار 300 پر ا?گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً چار ہزار ہتھیار آپریشنل ہیں۔ دنیا کی نو ایٹمی طاقتوں میں امریکا ، روس ، چین ، پاکستان ، بھارت ، برطانیہ ، فرانس ، اسرائیل اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ 1945 میں پہلا ایٹمی تجربہ کرنے والا ملک امریکا 7 ہزار 300 ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے ان میں سے ایک ہزار 920 ایٹمی ہتھیار میزائلوں اور فوجی اڈوں پر نصب ہیں۔ امریکا نے 2013 میں فوج پر 619 ارب ڈالر کے قریب رقم خرچ کی جو مجموعی عالمی فوجی اخراجات کا 37 فی صد ہے۔روس کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 8 ہزار ہے جن میں سے سولہ سو ہتھیار نصب ہیں۔ 2013 میں روس نے فوجی اخراجات پر تقریباً 85 ارب ڈالر خرچ کیے۔برطانیہ کے قبضے میں 225 ایٹمی ہتھیار ہیں جن میں سے 160 نصب ہیں۔ 2013 میں برطانیہ کے فوجی اخراجات کی حجم تقریباً 58 ارب ڈالر رہا۔فرانس 300 ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے جن میں سے 290 ایٹمی ہتھیار نصب ہیں۔ 2013 میں فرانس نے فوج پر 62 ارب 30 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔چین کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 250 سے زائد ہے۔ چین نے 2013 میں فوجی اخراجات پر 171 ارب 40 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 90 سے 110 کے درمیان ہے۔ 2010 میں بھارت 60 سے 80 ایٹمی ہتھیاروں کا مالک تھا۔ 2013 میں بھارت نے فوجی اخراجات پر 47 ارب 40 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔پاکستان کے ذخیرے میں 100 سے 120 ایٹمی ہتھیار ہیں۔ 2010 میں یہ تعداد 70 سے 90 کے درمیان تھی۔ 20 مئی 2014 کو پاکستان کے ایڈیشنل سیکریٹری دفاع کے بیان کے مطابق 2013 میں پاکستان نے دفاعی اخراجات پر تقریباً 5 ارب 70 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود پاکستان کے اخراجات خطے کے دیگر ممالک کی نسبت سب سے کم تھے۔اسرائیل 2010 سے 80 ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے۔ اس کے فوجی اخراجات کا حجم 15 ارب 30 کروڑ ڈالر رہا۔ شمالی کوریا کے قبضے میں صرف 6 سے 8 ایٹمی ہتھیار ہیں۔ اس کے فوجی اخراجات کا اندازہ معلوم نہیں ہوسکا۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے کہ روس اور امریکا اب بھی دنیا کے مجموعی ایٹمی ہتھیاروں کے 93 فی صد حصے کے مالک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بھارت بدستور اپنے نیوکلیئر ڈلیوری سسٹم کو ترقی دے رہے ہیں اور فوجی مقاصد کے لیے فزائیل fissile مٹیریل کی پیداواری صلاحیتوں کو وسعت دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button