پاکستانتازہ ترین

حامد میر پر کراچی میں حملہ،اسپتال میں آپریشن جاری

کراچی(مانیٹرنگ سیل) کراچی میں جیو نیوز کے سینئر اینکر پرسن ،سینئر صحافی اور پروگرام کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق حامد میر اسلام آباد سے کراچی اےئرپورٹ پہنچے ہی تھے جہاں سے دفتر آتے ہوئے شارع فیصل پر ناتھا خان پل کے قریب نامعلوم گھات لگائے ہوئے حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کردی جس سے وہ زخمی ہوگئے۔کراچی پولیس چیف شاہد حیات نے جیو نیوزسے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں اس وقت اسپتال میں ہی ہوں، حامدمیر کو جسم کے نچلے حصے میں تین گولیاں لگی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی میں ایک سیکیورٹی گارڈ بھی موجود تھا جو فوری طور پر کوئی کارروائی نہیں کر سکا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ حامد میر کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق حملہ آور ایک گاڑی اور دو موٹرسائیکلوں پر سوار تھے جو گھات لگائے ہوئے حامد میر کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ ڈرائیور کا کہنا ہے کہ جیسے ہی ان کی گاڑی شارع فیصل پر ناتھا خان پل کے قریب پہنچی تو وہاں پہلے سے کھڑے مسلح ملزمان نے حامد میر پر فائرنگ کردی۔ ڈرائیور کا مزید کہنا ہے کہ اس نے ایک حملہ آور ہی کھڑا دیکھا اور جیسے ہی فائرنگ کا واقعہ ہوا ڈرائیور نے گاڑی فوری طور پر بھگادی۔ جس کے بعد ملزمان نے مزید فائرنگ کی۔ ڈرائیور کے مطابق چار فائرز کی آواز اس نے سنی جس کے بعد کارساز پر انہیں ایمبولینس میں منتقل کیا گیا۔ جیونیوز اسلام آباد کے بیورو چیف رانا جواد نے بتایا ہے کہ 5بجکر 19منٹ پرحامد میر نے ان سے گفتگو کی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ کراچی میں کچھ ملزمان نے ان کا تعاقب کیا ہے جس کے بعد ان کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا، یہ لوگ مجھ سے پتا نہیں کیا چاہتے ہیں۔جیو نیوز کے نمائندے افضل ندیم ڈوگر کا کہنا ہے کہ حامد میر نے زخمی حالت میں ان سے بات کی جس کے دوران وہ شدید تکلیف میں معلوم ہورہے تھے جس کے بعد ان سے فون پر اچانک رابطہ منقطع ہوگیا۔ جیو کے نمائندے فہیم صدیقی نے اس حوالے سے بتایا کہ حامد میر گاڑی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے جس میں ان پر حملہ ہوا، حامد میر کو فوری طور پر نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔حامد میر گاڑی سے اتر کر خود ایمبولینس میں سوار ہوئے اور اس وقت وہ قرآنی آیات کی تلاوت کر رہے تھے۔حامد میر کے جسم کے نچلے حصے پر گولیاں لگی ہیں، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کا کافی خون بہہ گیا ہے۔ اسپتال میں ان کا علاج جاری ہے۔جیو نیوز کراچی کے بیورو چیف فیصل عزیز خان کا کہنا ہے کہ نجی اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں پانچ رکنی ٹیم حامد میر کو دیکھ رہی ہے۔ ڈاکٹر ان کی کیفیت کے بارے میں فوری طور پر کچھ نہیں بتارہے۔حامد میر کو آپریشن تھیٹر میں منتقل کیا گیا ہے۔ جیو نیوز کے تجزیہ کار اور سینئر صحافی افتخار احمد نے بھی حامد میر پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ حامد میر پر اس سے قبل اسلام آباد میں ان کی گاڑی میں بم فٹ کرکے حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کو ناکام بنادیا گیا تھا۔ریسرچ اسکالر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت اسپتال میں ہیں حامد میر سے ان کی ملاقات ہوئی ہے اور حامد میر کے جسم کے نچلے حصے میں تین گولیاں لگی ہیں، ان کے پیٹ، ناف کے نچلے حصے اور ران میں گولیاں لگی ہیں، ان کی ناف کے نیچے کے حصے میں جو گولی لگی ہے اس نے اس حصے کو کافی متاثر کیا ہے ، جبکہ ڈاکٹر ان کے پیٹ میں لگنے والی گولی کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں جس نے ان کی آنت کو متاثر کیا ہے۔ جیو نیوز کے نمائندے طلحہ ہاشمی نے بتایا کہ حامد میر پر پہلی گولی اےئرپورٹ کے قریب شارع فیصل پر مادام اپارٹمنٹ کے سامنے چلائی گئی جس کے بعد دوسرا حملہ ناتھا خان گوٹھ کے قریب کیا گیا۔ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے بتایا کہ حامد میر کو آپریشن تھیٹر میں لے جانے سے قبل ان کے آپریشن کی اجازت سے متعلق کاغذات پر انہوں نے ہی دستخط کیے ہیں۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین نے ان کی صحت کیلئے دعا کرتے ہوئے قوم سے دعا کی اپیل کی ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام ”ایک دن جیو کے ساتھ“کے میزبان اور سینئر صحافی سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ حامد میر پر حملے سے محسوس ہوتا ہے ملزمان کو پہلے سے خبر تھی کہ حامد میر آنے والے ہیں اور انہوں نے ان پر گھات لگا کر حملہ کیا۔سینئر صحافی ابصار عالم نے بھی حامد میر پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ جیو نیوز کے انویسٹی گیشن ایڈیٹر انصار عباسی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایک شخص کے خیالات کو برداشت نہیں کیا جاسکتا، کیا انہیں جینے کا حق نہیں دیا جاسکتا، انہوں نے حامد میر کی صحت یابی کیلئے دعا کی اور واقعے پر افسوس اور صدمے کا اظہار کیا۔حامد میر پر حملے کے بعد جنگ اور جیو کے دفاتر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، تمام عملہ ان کیلئے دعا گو ہے۔ ادارے کی جانب سے جیو کے ناظرین اور حامد میر کے پرستاروں سے ان کی مکمل صحت یابی کیلئے دعا کی اپیل کی گئی ہے۔

جیو

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button