تازہ ترینکالممہر عبدالمتین

عورتوں پر تشد دمگرکیوں ؟

abdul mateenحقوق نسواں ایک ایسا ایشو ہے جس میں خواتین کے تما م حقوق کا تعین کیا جاتا ہے اور بدلتے زمانے کے ساتھ ان میں تبدیلی اور کمی بیشی کی گنجائش بھی موجود ہوتی ہے لیکن اگر ہم گھریلو تشد د کی بات کریں تو مذہبی جماعتیں ہوں یاحکومت مخالف سیا سی جماعتیں ،ریاستی ادارے ہوں،عام شہری ہو یا وہ لوگ جو درحقیقت یا تو حقوق نسواں کی پامالی کے مرتکب ٹھہرتے ہوں یا اس ایشو کو کوئی اہمیت نہ دیتے وہ بھی بظاہر گھریلو تشد د کے مخالف نظر آتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں یقیناًایک عورت ہی گھریلو تشد د کی زد میں آ تی ہے اب عورت ہی ہے جسکو دنیا بھر بالخصوص تیسری دنیا اقدار بے بسی اور لاچاری اور مظلومیت کا نشان بنایا گیا ہے
دیکھا جائے تو مغربی دنیا میں بھی خواتین کے ساتھ کچھ اچھا برتاؤ نہیں کیا جاتا،وہاں ان کو تفریح کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے،اس معاشرے میں حقوق نسواں کی آزادی کا نام لے کر خواتین کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے،ہمیں خواتین کو ان کے حقوق نہ دینے پر لعن طن دینے والے اقوام مغرب کو اس بات کا جواب دینا ہو گاکہ اگر عورت کو قتل کرنا ،وراثت سے محروم رکھنا ان پر تیزاب ڈالنا اور دیگر گھریلو تشد د کا نشانہ بنا نا جرم ہے تو کیا عورت کو برہنہ کرنا اور بے حیائی کی دلد ل میں پھینکنا جرم نہیں؟بہر حال اگرم ہم خالصتاََ پاکستانی معاشرے کی بات کریں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ یہاں خواتین پر کسی نہ کسی شکل میں گھریلو تشد د کیا جاتا ہے اور گھریلو تشد د کی زد میں آ کر ایک عورت یا تو خود زندگی سے ہاتھ دو بیٹھتی ہے یا پھرذہنی و جسمانی معذوری اور بد نامی کا شکا رہو کر محرومیات کی نظر ہو جاتی ہے۔ہمارے ہاں بے شمار غیر سرکاری اور انسان حقوق کی علم بردار سماجی تنظیمیں خواتین کے ایشوز پر کام کر رہی ہیں ان کے کام پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں،کیونکہ یہ تنظیمیں ایک اچھے کاز کے لیے مصروف عمل ایک ایسے ایشو کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جو کہ اپنی ذات میں یقیناًایک بڑا جرم ہوتا ہے جس کی زد میں آ کر معاشر ہ غیر متوازن رہتا ہے ۔گھریلو تشد د ایک جرم ہے یہ ہم سب مانتے ہیں لیکن خدارایہ بھی ملخوظِ خاطر رکھنا چاہیے کہ گھریلو تشد د کے ایشو پر سیاست اور سماجی خدمت کرتے ہوئے ایسے خالات نہ جنم لیں جو مزید معاشرتی مسائل و جرائم کو جنم دینے کا سبب بنے ۔گزشہ چند ماہ پہلے خواتین کے حقوق کے لیے ایوان میں ایک بل منظور کیا گیا اور اگر اس بل کی رو سے گھریلو تشد د پر بات کی جائے تو کسی بھی منظور شدہ قانون کو اس وقت تک قانون نہیں کہا جا سکتا جب تک اس پر ریاستی عمل درآمد نہ ہو سوال یہ پید ا ہوتا ہے کہ کیایہ بل پیش کرنے سے قبل سے لے کر اب تک کیا خواتین کے حقوق کے لیے کوئی بل موجو د نہ تھا اور ہے؟تیزاب پھینکنے سمیت خواتین کو دیگر تشد د کا نشانہ بنانے سزائیں متعین تھیں اور ہیں؟عدالتی نظام کے اندر خواتین کو خلع اور طلاق کا حق تو دیا جا رہا تھا اور جا رہا ہے وغیر ہ و غیرہ۔تو پھر ایک نیا قانون بنانے کی ضرورت پیش کیوں آئی؟اگر قوانین موجو د ہونے کے باوجو د نئے قوانین تشکیل دینے کی ضرورت عام پڑتی ہے تو اس کا کیا مطلب لینا چاہیے ۔کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ہمارے ہاں قوانین پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا ،کیا ایسی صورت میں ہم سیا سی سکورنگ اور سماجی خدمت کے نام پر پیسہ کمانے کی خاطر قوانین پر قوانین بناتے جائیں گے جیسا کہ وزیروں اور وزارتوں کے انبار لگا دیتے ہیںیہ کہ پہلے سے موجود قوانین جو کہ ہر لحاظ سے موثر اور مروجہ ہیں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔کیا آئے روز قوانین کی تشکیل کسی بھی سیا سی پارٹی تعریفی کلمات کا جمع خرچہ تو نہیں؟کیا مذہب سے دوری نئے قوانین اور ان کی اطلاق میں پیش آنے والی مشکلات ہی ہمارا سب سے بڑا المیہ تو نہیں؟بلاشبہ یہ ایک ایسا سوال ہے ہر شہری کے ذہن میں ابھرتا ہے اور اس کا جواب دینا وقت کی اہم ضرورت اور سول سیکٹر کے لیے ایک چیلنج ہے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker