تازہ ترینکالمملک ساجد اعوان

عوام کی بڑھتی ہوئی پریشانیاں

آج کل دور اس قدر تیز رفتاری سے عمل پیرا ہے کہ لمحہ سیکنڈوں میں ،سیکنڈ منٹوں میں ،منٹ گھنٹوں میں ،گھنٹے دنوں میں ،دن ہفتوں میں ،ہفتے مہینوں میں اور مہینے سال میں بدلتے کچھ معلوم ہی نہیں ہو تا کہ وقت کس طرح تیزی سے گزر گیا ۔ یہ وقت کی برق رفتاری انسان کو اس لئے بتا ئے بغیر تیزی کی راہ پہ ہے کیونکہ انسان معاشی حالات کی وجہ سے اس قدر مصروف ہو چکا ہے کہ اس کو وقت کی پہچان نہیں رہی ۔ انسان معاشی حالات کی چکی میں بری طرح پس رہا ہے ۔ مہنگا ئی ،بیروزگاری عام ہے ۔اور یہ دو عنا صر اس حد تک خطر ناک ہیں کہ ان کی وجہ سے بدعنوانیاں ،رشوت ،چوری ،ڈاکہ ،دہشت گردی جیسی بے شمار برا ئیاں جنم لیتی ہیں ۔ آج کے اس دور میں عوام غیر محفوظ ہے ۔ اور مسا ئل کے چنگل میں اس طرح پھنس چکی ہے کہ ایک عام سا آدمی بھی بدعنوا نی کر نے سے نہیں کتراتا ۔ ملک پاکستان کویہ مسائل دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں ۔ ایک بزرگ سے چند ایام قبل پاکستان کے مسائل پر بات ہو رہی تھی تو انہوں نے ایک بہت ہی پیارا اور مکمل سا جملہ کہا کہ آج عوام کا یہ حال ہے "گدھے پر لدا سامان اور انسان پر لدی مہنگائی ؛ دونوں برابر ہیں” اس لئے کہ آج ہما ری عوام بھی خاموش تما شا ئی کا رول ادا کر رہی ہے ۔ مہنگا ئی بڑھتی جا رہی ہے بجلی غائب ہے ،گیس کم یاب ہے پیٹرول مہنگا ،سی این جی ندارد ،اور جو دستیاب ہے وہ پہنچ سے دور ہے ۔ اور تو اور آج کل مو بائیل فون کی بندش نے بھی ایک نئی الجھن میں ڈال رکھا ہے ۔ لیکن افسوس ہم ان سب مسا ئل کے با وجود خاموش ہیں ۔ کیو نکہ اگر دیکھا جا ئے تو انسان معاشی طور پر اس قدر پس چکا ہے کہ احتجاج کی حس مانند پڑ گئی ہے ۔ دراصل ہم دو دنیا ؤں میں جی رہے ہیں ۔ ایک ہما رے اندر کی دنیا ہے جس میں صرف حسرتیں اور خواہشات ہیں اور دوسری باہر کی دنیا ہے جس میں مسا ئل کا اژدھا ڈسنے کو تیا ر بیٹھا ہے ۔ اور اندر کی دنیا کا مطالبہ ہے کہ اچھی زندگی گزاری جا ئے جس میں ہر ایک کی خواہش ہے کہ وہ اعلیٰ سے اعلیٰ گھر میں رہے ۔اس کا نام مقام معاشرے میں بعد اونچا ہو وغیرہ وغیرہ ۔ اسی وجہ سے تو ایک کھا رہا ہے تو دوسرا منہ دیکھ رہا ہے۔ کیو نکہ اگر ایک کے بچے کسی مہنگی ترین سکول میں پڑھ رہے ہیں تو دیکھنے وا لی کی خواہش بھی امنڈ آتی ہے کہ میر ا بچہ بھی اچھے سکول میں جا ئے ۔ اچھا کھا ئے ،اچھا پہنے وغیرہ۔اور اسی وجہ سے ہم مصنوعی پن کی راہ پر بھی چلتے جا رہے ہیں ۔ ایسی خواہشات اور حسرتیں تو انسان کا حق ہے لیکن ان کی آڑ میں بدقسمتی سے ہم غلط ذرائع کا استعمال کر نے سے بھی دریغ نہیں کر تے ۔ جب تک ہر شخص انفرادی طور پر اپنا محاسبہ نہیں کر ے گا تب تک ان مسائل سے جان چھڑوانا ممکن نہیں ۔
جو با ہر کی دنیا ہے اس میں سب کچھ ہما ری مرضی سے ممکن نہیں ۔ کیو نکہ اس میں بہت سے عناصر کی شمو لیت ہو تی ہے ۔ اور خاص کر حکو مت باہر کی دنیا کو کنٹرول کر رہی ہو تی ہے ۔ اور عوام پر مسا ئل کا سانپ منہ کھو لے منڈلا رہا ہو تا ہے جس کی وجہ سے با ہر کی زندگی مزید اجیرن ہو جاتی ہے ۔ جیسے عوام کے اعمال ہوں گے ان پر اسی طرح کے حکمران بھی مسلط کئے جا تے ہیں ۔ اس لئے ہم سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھا نکنا ہو گا اور آمدہ الیکشن میں ایسا لیڈر چننا ہو گا جو ہما رے عوام کو مسا ئل کی بھٹی سے نکا ل سکے لیکن یہ سب تب ہی ممکن ہے جب تک ہم اپنا قبلہ درست نہیں کر لیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں  حکومت نے بھی جنگ بندی کا اعلان کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker