اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

عوام مخالف ملکی نظام پر گورنر پنجاب کا عدم اعتماد!

atharگورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے اور اس کی وجہ معاشرتی ناہمواریوں اور انصاف کی ابتر صورتحال کو بتایا ہے۔چوہدری محمد سرور نے مستعفی ہونے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ یہاں سچ کا قحط ہے قاتل دندناتے پھررہے ہیں لوگوں کے مسائل حل نہ کرسکاملک پر قبضہ مافیاکا راج ہے یہ لوگ گورنرسے بھی زیادہ طاقتورہیں شریف برادران سے کوئی اختلاف ہے نہ استعفے کیلئے کسی نے دباوڈالاملک میں ایک ہی طبقے کوحکمرانی کا حق نہیں ہوناچاہئے ،قوم سے معافی مانگتا ہوں کہ ان کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکا جو ظلم اور ناانصافیاں یہاں میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ان کے خاتمے میں بے بسی کے بعدمیں نے فیصلہ کیا کہ مجھے اس عہدے سے چمٹے رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں لیکن میں قوم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے بے بس اور لاچار پاکستانی بہن بھائیوں کو مہنگائی ، بدامنی ، دہشتگردی ، ظلم او ر ناانصافی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑونگا اور چند روز میں اپنے مستقبل کے بارے میں اہم اعلان کرونگا ۔ چوہدری سرورنے کہاکہ میرے دل میں ہمیشہ پاکستان کے عوام کیلئے یہ خواہش اور تڑپ موجود رہی کہ میں اپنے ملک اور عوام کی ترقی کیلئے کچھ نہ کچھ ضرور کروں اس لگن اور جوش کے ساتھ میں برطانیہ کی شہریت اور کاروبار چھوڑ کر پاکستان آیا تاکہ محروم طبقات کی خدمت کرسکوں اور ہم خوشحالی کی راہ پرگامزن ہوسکیں میں بہت سے خواب اور ارادے لیکر پاکستان آیا تھا مگر مجھے آج بہت دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ میں اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر نہ کرسکا ۔ہم چودھری محمد سرور کو شاباش دیتے ہیں کہ انہوں نے ظلم کے اندھیروں میں اپنے حصے کا ’دیا ‘جلایا ہے۔
چوہدری محمد سرور نے درست جانب نشاندہی کی ہے جس کی وجہ سے ملک کا نظام عوام کے لئے ’عذاب مسلسل ‘ بن چکا ہے۔چوہدری محمد سرور کا یہ اقدام پاکستان میں عوام کو درپیش صورتحال کو واضح کرنے کے حوالے سے بھی اہم ہے۔چوہدری محمد سرور نے گورنر پنجاب کے عہدے سے استعفی دیتے ہوئے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔یہ کوشش ہونی چاہئے کہ ملک میں حکومتی، سرکاری اور ادارہ جات میں عوام کے مفاد پر مبنی اصلاح کا عمل فوری بنیادوں پر شروع کیا جائے۔ایسا نہ کرتے ہوئے ملک کو مزید سنگین صورتحال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔عوام میں یہ احساس تقویت پا رہا ہے کہ ملک میں عوام کو دوسرے ،تیسرے درجے کا شہری بنائے رکھا گیا ہے اور عوام کا کام ملکی نظام کو چلانے کے شاہانہ اخراجات پورے کرنا ہے ،چاہے اس کے لئے عوام کا خون بھی چوس لیاجائے۔چوہدری محمد سرور نے بالکل درست کہا ہے کہ ملک میں لینڈ مافیا کا راج ہے۔سرکاری ادارے لینڈ مافیا کے معاون کے طور پر نظر آتے ہیں۔ملک بھر کی طرح پنجاب میں بالخصوص لینڈ مافیا کی صورتحال نہایت خراب ہے۔شہروں کی خالی آراضی لینڈ مافیا کی طرف سے دھڑلے سے قبضے کی کاروائیوں کا نشانہ بن رہی ہے۔شہروں کی سرکاری،نجی زمینیں ہی نہیں بلکہ شہروں کے سرکاری پارکوں پر بھی سرکاری اور سیاسی آشیر باد سے لینڈ مافیاکے قبضے جاری ہیں۔چوہدری محمد سرور نے درست کہا کہ لینڈ مافیا گورنر سے سے زیادہ طاقتور ہے۔لینڈ مافیا کی کئی کاروائیوں میں پولیس اور انتظامیہ کی واضح غیر قانونی آشیر باد دیکھی گئی ہے۔راولپنڈی میں لینڈ مافیا کی طرف سے غیر قانونی قبضے کی متعدد مثالوں میں سے ایک مثال سیٹلائٹ ٹاؤن کے ایف بلاک میں واقع سرکاری چنار پارک ہے۔راولپنڈی کے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کی طرف سے دو بار کرائی گئی ’’ڈیمارکیشن‘‘ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ چنار پارک کا خسرہ نمبر لینڈ مافیا کے ملکیتی خسرہ نمبر سے قطعی مختلف ہے لیکن اس کے باوجود پولیس نے غیر قانونی طور پر ،بغیر کسی قانونی اختیار کے لینڈ مافیا کو پنجاب حکومت کے چنار پارک پر قابض کرایا اور اب بھی چنار پارک میں لینڈ مافیا کے مسلح افراد اہلیان علاقہ کیلئے شدید خوف و ہراس کا سبب بنے ہوئے ہیں۔اسی طرح ایک مثال فیض آباد میں واقع بانی پاکستان قائد اعظم کے ساتھی کشمیری رہنما چودھری غلام عباس کے مزارکی کافی زمین پر پولیس کی مدد سے قبضہ کیا گیا ہے۔
سرکاری محکموں ،ملکی اداروں میں عوامی مفاد کی سوچ مکمل طور پر ختم دکھائی دیتی ہے۔شہریوں کو اس طرح’ ڈیل‘ کیا جاتا ہے جیسے پاکستان کوئی مفتوحہ ملک ہو اور اس کے عوام غلام۔اخبارات میں شائع ایک خبر کے مطابق سوئی ناردرن نے گیس چوری کے خلاف الگ تھانے قائم کرنے کی درخواست کی ہے۔یعنی اب ملک کا ہر ادارہ،ہر محکمہ اپنی حاکمیت کو یقینی بنانے کے لئے اپنی فورس اور اپنی ہی عدالتیں بنائے گا ۔واہ میرے ملک کے ’’ سیاہ و سفید‘‘ کے مالکان!یقیناًدنیا میں آپ کے ان ’’ کارہائے نمایاں‘‘ پرآپ کو شاباش دی جاتی ہو گی کہ کیسے شاندار اور بے مثال اعلی دماغ لوگ ہیں جو واضح طور پر ثابت کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ملک کا نظام اپنے عوام کے مفاد میں چلانے کے قابل نہیں ہیں۔خصوصی معاملات پر خصوصی حالات میں مخصوص انتظامات تو کر لیئے جاتے ہیں لیکن پولیس،انتظامیہ ،عدلیہ اور سرکاری سطح پر کارکردگی عوامی نکتہ نظر سے بہتر بنانے کو لگتا ہے کہ ’’ خارج از امکان‘‘ قرار دے رکھا ہے۔ہماری رائے میں ملک میں عوام کے خلاف ظلم ،زیادتی،نا انصافی،نااہلی کا سرکاری چلن اپنے خطرات کے حوالے سے کسی طور بھی دہشت گردی کے بھیانک نتائج سے کم نہیں ہے۔سب سے خطرناک بات یہ کہ اس چلن سے عوام کا اعتماد ملکی نظام سے اٹھتا جا رہا ہے۔عوام کے مفاد میں بہتری ،اصلاح کی راہیں مسدود کئے رکھنے سے عندیہ ملتا ہے کہ پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کرنے کے لئے سخت کوششیں ہو رہی ہیں ۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button