شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / اطہر مسعودوانی / ملک ،عوام اور اختیار حاکمیت!

ملک ،عوام اور اختیار حاکمیت!

پاکستان کے قیام اور اس کے وجود کو اپنے ایمان کا درجہ دینے والے باشعور افراد کرب و الم کی کیفیت سے دوچار ہیں کہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی جائے عافیت پاکستان میں کیوں اس طرح کے انداز اپنائے جا رہے ہیں کہ جن کا نتیجہ ملک اور وہاں رہنے والے لوگوں کے لئے سنگین نتائج پر منتج ہوتا ہے۔یہ کسی فرد واحد کی رائے نہیں بلکہ نسل انسانی،قوموں،علاقوں کی تاریخ  ہی نہیں بلکہ سائینس بھی یہی کہتی ہے کہ” اس طرح کرو گے تو نتیجہ اس طرح ہو گا”۔ملک میں عمومی طور پر جب قانون کی حکمرانی ، اختیار حاکمیت کی بات کی جائے تو اسے فوری ردعمل میں کسی مخالف سیاسی دھڑے سے منسلک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔بلا شبہ رائے رکھنا اور اپنی رائے تبدیل کرنا ہر کسی کا حق ہوتا ہے لیکن ”رات کو صبح اور صبح کو رات” قرار دینے کی آراء کو غیر جانبدار یا ملک و عوام کے حق میں قرار دینا کافی مشکل ہو جاتا ہے۔ہمارے کئی ٹی وی اینکرز،صحافیوں نے گزشتہ چند ہی ماہ میں ملکی امور سے متعلق اہنی رائے یوں تبدیل کی کہ صاف طور پر محسوس ہوا کہ یا تو وہ’ راضی بہ تعاون’ ہیں یا انہیں مستقبل قریب کے ایسے  مناظرد کھائے گئے ہیں کہ انہوں نے اپنی رائے کو متضاد طور پر تبدیل کرتے ہوئے اس ” قومی دھارے” میں بہہ جانے کو ہی” عقل صالح” قرار دے دیا ہے۔تاہم اب بھی ملک میں ایسے کئی قلمکار دانشور موجود ہیں جن کی ملک و عوام سے محبت اور اخلاص کی گواہی خود ان کی تحریریں دیتی ہیں ۔ان کی تحریریں واضح طور پر بیان کرتی ہیں کہ ملک اور عوام کے فوری اور وسیع تر مفاد میں کیا ہے اور کون سی سوچ،اپروچ اور اقدامات سے ملک و عوام کمزور اور تباہ ہوتے ہیں۔

ملک کے سنیئر صحافی،ادیب ،کالم نگار جناب عطاء الحق قاسمی”نامعلوم افراد اور نا معلوم موسم ” کے عنوان سے اپنے حالیہ کالم میں لکھتے ہیں کہ ”آج نوجوان رپورٹر احمد نورانی پر نامعلوم افراد کی طرف سے تشدد کا تیسرا چوتھا روز ہے مگر میرے دل پر بوجھ وہی پہلے دن جیسا ہی ہے میں جب اخبار میں اس خوبصورت اور صاحب کردار نوجوان کی زخمی حالت میں تصویر دیکھتا ہوں اور اس کے اسباب کے حوالے سے طرح طرح کے خیالات دل میں آتے ہیں تو لگتا ہے کہ ایک پاکستانی نہیں میرے سامنے پاکستان زخمی حالت میں پڑا ہے ۔ اس تشدد سیپہلے کچھ نامعلوم افراد نے رات کو ان کے گھر میں گھسنے کی کوشش کی تھی مگر دروازہ نہ کھلنے سے وہ نامعلوم افراد واپس لوٹ گئے ۔ایک اور باصلاحیت اور بہادر رپورٹر عمر چیمہ کو بھی اغوا کرکے اس پر تشدد کیا گیا ان کے علاوہ بھی بہت سے صحافی دھمکیوں اور زدوکوب بلکہ شہادت کے مراحل سے بھی گزرے ۔حامد میر کو بھی اللہ تعالی نے دوسری زندگی دی میں اس موضوع پر مزید کچھ نہیں لکھنا چاہتا کیونکہ میں ان صحافیوں کی طرح نوجوان نہیں ایک بوڑھا آدمی ہوں، میں تو نامعلوم افراد کی ایک چپیڑ بھی برداشت نہیں کر سکوں گا۔ چنانچہ عقیل عباس جعفری کی ایک پرانی غزل درج کرکے کسی دوسرے بے ضرر سے مسئلے کو آج کے کالم کا موضوع بناتے ہیں”۔

یہ بھی پڑھیں  ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور 23دسمبر

عطاء الحق قاسمی صاحب کے اس کالم سے خیال آیا کہ ملک میں سابق حکمران جنرل ضیا ء الحق کے دور کی طرح  سرسری سماعت کی فوجی عدالتیں قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ملک میں ہر کوئی دماغ لڑا رہا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے مسئلے ”حق حکمرانی” کا فیصلہ کیا اور کس طرح ہونا چاہئے۔محبوب کی مرضی کو سمجھنا اس وقت مشکل ہو جاتا ہے کہ جب وہ کچھ بولتا بھی نہیں اور بتاتا بھی نہیں۔اگر عوام کو بتا دیا جائے کہ یہ آپ کی حدود ہیں جن سے آپ تجاوز نہیں کر سکتے تو مجال ہے کہ ”غداران وطن” کے علاوہ کوئی اس حدود کو پامال کرنے کی جسارت کر سکے۔آئین میں تو عوامی پارلیمنٹ کو سب سے زیادہ با اختیار بتایا گیا ہے لیکن عملی طور پر صورتحال کچھ اور ہی ہے۔ اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ ایریا میں چند نامعلوم افراد نے ایک صحافی احمد نورانی کی گاڑی روک کر اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔صحافی کو ہسپتال داخل کیا گیا ۔ عوامی،سیاسی ،سرکاری اور مقتدر حلقوں کی طرف سے بھی اس حملے کی مذمت میں بیانات سامنے آئے ہیں۔اب ذرا تصور کریں کہ اگر سرسری سماعت کی فوجی عدالت قائم ہوتی تو اس صحافی کی گاڑی روک کر سڑک کنارے ہی عدالت کی سماعت کرتے ہوئے اس پر فرد جرم عائید کی جاتی اور موقع پر ہی کوڑوں کی سزا دے دی جاتی۔جو لوگ آج احمد نورانی پر حملے کی مذمت میںبیان دے رہے ہیں،ان میں سے کئی وہاں دائرہ بنا کر کھڑے ہو جاتے، کوڑے مارے جانے کے عمل کو ذو ق و شوق سے دیکھتے اور ” برے کام کا برا انجام” ،جیسی کرنی ویسی بھرنی” یا یہ کہتے ہوئے رخصت ہوتے کہ ” کچھ تو کیا ہو گا جس کے لئے اسے یہ سزا ملی ہے”۔ لیکن جب نامعلوم افراد کو ایسا کرنا پڑتا ہے تو قومی مفادات ہی نہیں قومی اہداف بھی نشانے پر آ جاتے ہیں۔ایسی”قانونی” کاروائیوں میں ملزم کا اپنی جرم کا اعتراف کرنا یا جرم کے ثبوت وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی،اگر ملزم،جو اصل میں مجرم ہی ہوتا ہے،خود کے بے گناہ ہونے کا واویلا کرے تو اسے یہ کہہ کر مطمئن کیا جا سکتا ہے کہ اگر اس نے یہ جرم نہیں کیا تو اس کے باپ یا اس کے دادا نے کیا ہو گا۔ہماری اعلی عدالت کو چاہئے کہ قومی مفاد اور نظرئیہ ضرورت کے تحت ملک میں سرسری سماعت کی فوجی عدالتوں کے قیام کی منظور ی اور حکم صادر کیا جائے،پھر دیکھیں ہر طرف چین ،امن اور سکون ہو گا اورسب اتفاق رائے سے  ایک ہی دھن پر گانے گائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں  وزیراعظم کے بیان پر مودی خاموش کیوں۔۔؟؟

ممتاز و معروف ادیب،صحافی ،دانشور وجاہت مسعود  کے اہم کاموں میں ” ہم سب” کے نام سے ایک نیوز ویب سائٹ بھی شامل ہے۔علمیت  ،آگاہی اور شعور کے حوالے سے یہ ویب سائٹ پاکستان میں امید ہی نہیں، کوشش کی بھی ایک روشن شمع ہے۔ وجاہت مسعود انہی دنوں ”زخمی صحافی، مرتا ہوا گھوڑا، مرا ہوا سپاہی اور بے حس ریاست” کے نام سے اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ ”گریہ اخلاص کا حتمی پیمانہ نہیں، کچھ افراد میں رقت زیادہ ہوتی ہے، کچھ اپنے جذبات پر قابو رکھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ شہری اپنی ریاست اور اس کے منصب داروں سے آنسو بہانے کی توقع نہیں رکھتے، شہریوں کا تقاضا یہ ہے کہ ریاست اور اس کے منصب دار شہریوں کے بارے میں ذمہ دارانہ اور مہربانی کا رویہ اختیار کریں۔ ریاست کے شہری شطرنج کی بساط پہ رکھے ہوئے مہرے نہیں ہوتے جنہیں آگے پیچھے ہلا کر اپنی سطوت کا سکہ جمایا جائے اور اپنی انا کے غبارے میں ہوا بھری جائے۔ ڈیوڈ جانسن کی بیوہ کو ڈانلڈ ٹرمپ کی ٹیلیفون کال کا واقعہ 16 اکتوبر کو پیش آیا تھا۔ 27 اکتوبر کو ہمارے ملک کے معروف صحافی احمد نورانی پہ دن دھاڑے بارونق سڑک پر حملہ کیا گیا ہے۔ تعجب ہے کہ احمد نورانی پر حملے کی مذمت کم و بیش سب سیاسی جماعتیں اور اہم ترین صحافیوں نے کی ہے لیکن کسی کے بیان سے یہ امید نہیں جھلکتی کہ احمد نورانی پر حملہ کرنے والے قانون کی گرفت میں آ سکیں گے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی کھٹکتا ہے کہ آج کل تو ہم قانون کی بالادستی کے بہترین دور سے گزر رہے ہیں۔ طاقتور ترین افراد دن رات کٹہرے میں لائے جاتے ہیں، کیا واقعی عدالتوں کے سامنے لائے جانے والے یہ افراد طاقتور ہیں؟ 27 اکتوبر کا دن بھی ہماری تاریخ میں عجب بدشگونی کا نشان بن چکا ہے۔ 27 اکتوبر 1958 کو جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو پستول کے بل پر ایوان صدر سے بے دخل کیا تھا۔ 27 اکتوبر 2016 کو وفاقی وزیر اطلاعات اس الزام میں گھر بھیج دیے گئے کہ انہوں نے اخبار میں خبر رکوانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ ریاست میں کہیں کوئی بیٹھا ہے جو سمجھتا ہے کہ خبر کو روک دینا چاہئیے۔ خواہ اس کے لیے وزیر اطلاعات کو گھر بھیجنا پڑے یا صحافیوں پر حملہ کر کے دہشت پھیلانی پڑے”۔

یہ بھی پڑھیں  این اے 122 کا الیکشن مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کیلئے عزت کا مسئلہ بن گیا ‘شہباز شریف کی وارننگ

وجاہت مسعود کی یہ تحریرپاکستان کی حالت پہ خون کے آنسو روتے پاکستانیوں کی ترجمانی ہے۔کیا ہمارے ملک پہ ایسی غاصب قوت براجمان ہے جس سے حکومت اور عوام بھی ڈرتے ہیں،خوفزدہ ہیں،یہ غاصب قوت کسی بیرونی علاقے سے نہیں آئی،ہمارے ہی رشتہ دار ہیں لیکن ایک ادارے میں شامل ہو کر ہمارے ہی عزیز و اقارب حاکمیت کا وہ انداز اپنا چکے ہیں کہ جہاں ان سے خوف آتا ہے۔اب تو دعا ہی باقی ہے کہ اللہ پاکستان پر رحم کرے،لیکن کرتوت ایسے نہیں ہیں کہ رحم کی توقع کی جا سکے۔مارشل لاء سے ظلم و جبر کا نظام یکدم نافذ ہو جاتا تھا لیکن اب بتدریج کاروائیوں سے مارشل لاء کا جبر بھی شرمندہ نظر آتا ہے۔