شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / اطہر مسعودوانی / سوشل میڈیا، عوامی ،شہری حقوق کے تحفظ کا موثر ہتھیار

سوشل میڈیا، عوامی ،شہری حقوق کے تحفظ کا موثر ہتھیار

دنیا میں سوشل میڈیا کئی شعبوں،جہتوں کی انسانی ترقی کا ایک موثر ہتھیار بن چکا ہے۔مختلف ملکوں،اداروں کی بہت سی شخصیات سوشل میڈیا پہ لوگوں سے رابطے میں رہتی ہیں اور ان کے اس طرز عمل کو وسیع پیمانے پر پسند بھی کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی مختلف شعبوں کی شخصیات ٹوئٹر،فیس بک ،وٹس ایپ،انسٹاگرام وغیرہ استعمال تو کرتی ہیں لیکن اکثر و بیشتر ان کے سوشل میڈیا اکائونٹ محض نمائش،مشہوری کے لئے ہوتے ہیں۔وہ بہت ہی کم کسی کو جواب دیتے ہیں۔شخصیات کے ایسے اکائونٹ زیادہ تر ان کا کوئی قریبی عزیز یا کوئی ملازم وغیرہ چلا رہا ہوتا ہے۔سوشل میڈیا کے حوالے سے بھی ،  ابھی ہمارا معاشرہ پسماندہ ہے۔ہمارے معاشرے کی طرح سوشل میڈیا بھی غیر اخلاقی،منفی رجحانات کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
دنیا میں دہشت گردی کو ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کرتے ہوئے شہری آزادیاں ہر ملک میں،کہیںز یادہ کہیں کم،  محدود کی گئی ہیں۔ملکی سیکورٹی کے نام پر اپنے ہی ملکوں کے شہریوں کے خلاف کئی قسم کی پابندیاں عائید کی گئی ہیں۔مضبوط ملکی سسٹم رکھنے والے ملکوں میں شہری آزادیوں کو کافی حد تک تحفظ حاصل ہو جاتا ہے لیکن جن ملکوں میں کوئی طبقہ حاکمیت پہ برآجمان ہو،ان ملکوں کے شہری نیشنل سیکورٹی کے نام پر نت نئی پابندیوں ، ناجائز مالی وصولیوں،جبر،ناانصافی اور ظلم و زیادتی کا کا نشانہ بنتے ہوئے قابل رحم تصویر پیش کرتے ہیں۔
اس صورتحال میں سوشل میڈیا کی بدولت شہریوں کو اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کا ایک موثر ذریعہ میسر آیا ہے۔شہری حقوق کو محدود سے محدود کرنے اور عوامی حاکمیت کی مخالف قوتوں نے خاص طور پر ٹی وی چینلز،پریس کو قابو کرتے ہوئے میڈیا کو جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈے کا ایک ذریعہ بنا دیا  ہے۔اسی طرح سوشل میڈیا کو بھی جھوٹے پروپیگنڈے کے حوالے سے استعمال کیا جانا نمایاں ہے۔اس کے باوجود عوامی،شہری حقوق کی آواز کو سوشل میڈیا پہ دبایا نہیں جا سکا ہے۔ملک کو خفیہ ایجنڈوں پہ چلانے کی حاکمیت خطرات کا شکار ہوتی ہے تو ملک میں سوشل میڈیا پہ سخت پابندی کی بات کرتے ہوئے ایک دو ملکوں کی مثال بھی دی جاتی ہے۔ طالع آزمائوں کے لئے اس بات کا احساس و ادراک ضروری ہے کہ اپنے وجود کو چلانے کے لئے بیرونی امداد و تعاون کی ناگزیریت میں پابند ملک سوشل میڈیا پہ پابندی لگا کر عالمی برادری کی مخالفت کی تاب نہیں لا سکتا ۔
سوشل میڈیا کی بدولت ایک دوسرے سے رابطے میں اضافے اور تیزی کے ساتھ ساتھ رابطے کے دائرہ کار میں بھی وسیع اضافہ ہوا ہے۔سوشل میڈیا پہ اجنبی افراد سے بھی مخاطب ہوا جا سکتا ہے ۔ایسے افراد بھی آپ کی کسی پوسٹ پہ اظہار رائے کر سکتے ہیں جنہیں آپ جانتے نہ ہوں۔  یہ سوشل میڈیا کا ایک منفرد حسن بھی ہے کہ کوئی بھی بات لوگوں میں وسیع پیمانے پر مشتہر ہوجاتی ہے۔اکثر سوشل میڈیا کی پوسٹ کو پڑھ کر کوئی کمنٹ نہیں کرتے،یوں ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے وہ ادھر سے گزرے ہی نہیں۔تاہم سوشل میڈیا کے بعض آپشن یہ بتا دیتے ہیں کہ کس کس نے آپ کی پوسٹ دیکھی ہے۔
مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی طرف لوگوں کا رجحان زیادہ ہوتا ہے اور لوگ ان کی بات خاص طور پر سنتے ہیں۔اس حوالے سے ایک رجحان عمومی طور پر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی بھی سطح کی مشہور شخصیات کی طرف سے اکثر تنک مزاجی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔کسی کے تبصرے پر فوری طور پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ایسی چندایک شخصیات ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جن کے جواب سے مخاطب اس کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔ حصول علم کے طالب کے اظہار بیان میںنرمی،انکساری اور تحمل ہوتا ہے۔وہ یکدم بھڑک نہیں جاتا  یا  اپنی تنک مزاجی سے مخاطب کو یہ سوچنے پر مجبور نہیںکر دیتا کہ ایسے انا پرست سے بات ہی کیوں کی گئی۔
ہمارا عمومی معاشرتی روئیہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ جو کوئی ہماری بات سے اتفاق نہ کرے،ہماری بات نہ مانے، ہم فوری طور پر اس کے لئے ناپسندیدگی بلکہ  نفرت محسوس کرنے لگتے ہیں۔ غیر اخلاقی کمنٹ کرنے والے سے اخلاقیات کے دائرے میں بات کی جائے تو کئی بار دیکھنے میں آتا ہے کہ مخاطب بھی اخلاقیات کا احساس کرنے لگتا ہے۔سوشل میڈیا پہ اچھے رجحانات کے افراد ایک دوسرے سے سیکھتے اور بتدریج اچھے مقاصد کے حصول کے شعور کے ایک سلسلے سے پیوستہ ہوتے جاتے ہیں ۔
ہر انسان چاہتا ہے کہ  سوشل میڈیا پہ اس کی تعریف و توصیف کی جائے، اس کی عزت و تکریم میں کوئی فرق نہ آنے دیا جائے۔تاہم اس بات کا احساس نہیں کیا جاتا کہ سوشل میڈیا  استعمال کرنے وا لا اپنے روئیے سے ہی اپنے مقام کا تعین کرتا ہے۔اس کے بات کرنے کا انداز اورالفاظ کا چنائو، انسان کی علمی اور ذہنی سطح کو سامنے لے آتے ہیں۔اس کی زندگی، کردار ، اس کی ذات کے تضادات کو بھی لوگ دیکھتے ہیں۔ اگر سوشل میڈیا  پہ کسی اجنبی سے بھی یوں مخاطب ہو ا جائے کہ جیسے آپ اس کے سامنے بیٹھے بات کر رہے ہوں،تو طر ز تکلم میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
سیاستدانوں، سماجی و سیاسی کارکنوں،صحافیوں،اہل قلم و دانش،سول سوسائٹی کے افراد کو بھی سوشل میڈیا کے حوالے سے مزید سیکھنے کی ضرورت ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا کو  اجتماعی بھلائی،بہتری او ر مضبوط عوامی مطالبے کے حوالے سے مزید موثر بنایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  موجودہ سیاسی صورتحال؛ کور کمانڈرز کانفرنس کل طلب