تازہ ترینکالم

آزاد کشمیر صحافت ،طائرانہ نظر

atharآزاد کشمیرکی خصوصی حیثیت۔آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے متنازعہ قرار دی گئی ریاست جموں و کشمیر(جس میں بھارتی زیر انتظام وادی کشمیر،کرگل ،لداخ ،پونچھ اور جموں شامل ہیں) کا حصہ ہے ۔1947-48ء کی جنگ کشمیر میں آزاد حکومت کا قیام عمل میں آیا۔آزاد کشمیر میں عبوری ایکٹ1974ء کے تحت پارلیمانی نظام حکومت قائم ہے۔پاکستان کے آئین اور سپریم کورٹ کا دائرہ کار آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نہیں ہے۔آزاد کشمیر میں اپنی ہائیکورٹ ،سپریم کورٹ قائم ہیں۔آزاد کشمیر کا اپنا ریاستی ترانا اور اپنا الگ جھنڈا ہے۔آزاد کشمیر اسمبلی49رکنی،جس میں سے 41پر براہ راست اور 8پر بلواسطہ( یہ معلومات اسمبلی کی ویب سائٹ سے مل سکتی ہے اور اس کا مختصر طور پر بیان ضروری ہے)اس میں 12سیٹیں پاکستان کے مختلف علاقوں(زیادہ تر صوبہ پنجاب میں سیٹیں ہیں) میں مقیم مہاجرین جموں و کشمیرکے لئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص ہیں۔یہ اس بات کی علامت کہ آزاد کشمیر حکومت متنازعہ ریاست جموں و کشمیرکے اکثریتی عوام کے مطالبہ آزادی کی نمائندہ حکومت ہے۔یوں آزاد کشمیر کے ریاستی اخبارات و جرائد کا دائرہ کار صرف آزاد کشمیر میں ہی نہیں بلکہ راولپنڈی ،اسلام آباد،جہلم،گوجرانوالہ،لاہور،کراچی،پشاور، ایبٹ آباد تک محیط ہے کیونکہ ان علاقوں میں تقریبا 30لاکھ مہاجرین جموں و کشمیر مقیم ہیں۔آزاد کشمیر کی مخصوص جغرافیائی شکل میں راولپنڈی ہی اس کا مرکز بنتا ہے ۔مظفر آباد سے میر پور اور کوٹلی جانے کے لئے راولپنڈی سے ہو کر جانا ہی قریب پڑتا ہے۔
آزاد کشمیر میں میڈیا کا ارتقاء۔پہلا دور قیام آزاد کشمیر سے 1970ء تک۔ جنگ کشمیر 1947-48ء کے دوران ہی ’’ریڈیوآزاد کشمیر تراڑکھل کے نام سے شروع ہوا۔ بعد میں مظفر آباد میں بھی ریڈیو سٹیشن قائم ہوا اور ان کی نشریات کشمیر میں لائین آف کنٹرول کی دونوں جانب عوام میں وسیع پیمانے پر سنا جاتا تھا۔اسی ابتدائی دور میں ہی دس ہفت روزہ اخبارات آزاد کشمیر کے اخبارات کی حیثیت سے شائع ہوتے رہے ۔یہ ہفت روزہ اخبارات ہاکر کر بجائے بذریعہ پوسٹ(ڈاکخانے کے ذریعے) مطلوبہ افراد کے نام جایا کرتے تھے۔اس عرصہ میں بنیادی کردار کشمیر کاز کے علاوہ آزاد کشمیر میں کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات پر مبنی ایک ذمہ دار اور با اختیار حکومت کے قیام کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کیا۔اسی کے نتیجے میں 1970ء میں وفاقی حکومت کی طرف سے آزاد کشمیر کو صدارتی طرز حکومت میں، کافی حد تک اندرونی امور میں اختیارات دیئے گئے۔
دوسرا دور1974ء سے 1985ء تک۔وفاقی حکومت کی سیاسی جماعت نے آزاد کشمیر کی حکومت ختم کر کے1974ء کے عبوری ایکٹ کے تحت نئی حکومت قائم کی۔1977ء میں پاکستان میں مارشل لاء لگنے پر آزاد کشمیر میں بھی سول حکومت ختم کر کے عبوری فوجی حکومت قائم کی گئی۔اس عرصہ میں آزاد کشمیر میں سیاسی و عوامی حقوق کے حصول کے لئے آزاد کشمیر کے ہفت روزہ اخبارات نے جاندار کردار ادا کیا۔
تیسرا دور1985ء سے2000ء۔1985ء میں آزاد کشمیر میں پارلیمانی نظام کے تحت الیکشن ہوئے اور سول حکومت قائم ہوگئی۔اس عرصہ میں سول حکومت کے تسلسل سے تعمیر و ترقی کا ایک نمایاں دور رہا۔تعمیر و ترقی کے ساتھ ہی حکومتوں کی بد انتظامی،رشوت ،کمیشن،کرپشن،اقرباء پروری اور اس طرح کی دوسری خرابیاں نمایاں ہوتی چلی گئیں ۔آزاد کشمیر کے اخبارات نے آزاد کشمیر میں حاوی ہوتے ہوئے بد عنوانی کے اس چلن کے خلا ف شاندار کردار ادا کیا اور اس طرح کی صورتحال کو سامنے لاتے ہوئے بے نقاب کیا،عوامی کو اس بارے میں حقائق سے آگاہ کیا۔
چوتھا دور2000ء سے۔2000ء سے آزاد کشمیر میں روزنامہ اخبارات بھی شائع ہونے شروع ہوئے۔ 7اکتوبر2005ء تک آزاد کشمیر تعمیر و ترقی کے حوالے سے ایک اچھا نمونہ پیش کر رہا تھا ۔لیکن8اکتوبر2005ء کے ہولناک،تباہ کن زلزلے سے آزاد کشمیر دوباری عشروں پیچھے چلا گیا۔زلزلے کے بعد آزاد کشمیر میں ایف ایم ریڈیو شروع ہوا۔
آزاد کشمیر کے اخبارات کادائرہ کار۔آزاد کشمیر کے اخبارات و جرائد خود کو ریاستی(ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے)اخبارات کہتے ہیں۔یہ ریاستی اخبارات آزاد کشمیر,گلگت بلتستان کے تمام علاقوں کے علاوہ راولپنڈی،اسلام آباد،ایبٹ آباد،پشاور ،گوجرانوالہ،لاہور،کراچی بھی سرکولیٹ ہوتا ہے کیونکہ ان علاقوں میں کافی تعداد میں مہاجرین جموں و کشمیر آباد ہیں ( ان مہاجرین کی آزاد کشمیر اسمبلی میں12سیٹیں ہیں)اس کے علاوہ آزاد کشمیر کی مخصوص جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے راولپنڈی ہی اس کا مرکز بنتا ہے کہ دارلحکومت مظفر آباد سے میر پور،کوٹلی جانے کے لئے راولپنڈی سے ہو کر جانا ہی قریب پڑتا ہے۔اسی وجہ سے کئی ریاستی اخبارات راولپنڈی سے شائع ہوتے ہیں۔ کئی اخبارات کے ویب ایڈیشن بھی باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے اخبارات کے بنیادی موضوعات۔سلامتی کونسل کی طرف سے متنازعہ قرار دی گئی ریاست جموں و کشمیر کے مسئلے کا پرامن منصفانہ حل ،بھارتی زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں،کشمیر کے دونوں حصوں میں رہنے والے ریاستی عوام کو لائین آف کنٹرول سے آزادانہ آمد و رفت ،آزاد کشمیر حکومت کا حریت پسند کشمیریوں کی نمائندگی،آزاد کشمیر میں ریاستی تشخص کا تحف٭۔۔۔۔۔ پاکستان/وفاقی حکومت کے ساتھ تعلقات کا دائرہ کار ،آزاد کشمیر حکومت کو آئینی،انتظامی،حکومتی،مالیاتی امور میں با اختیار اور بنانا،آزاد کشمیر میں کرپشن سے پاک حکومت اور انتظامیہ ،بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں سے متعلق آزاد کشمیر کے ریاستی حقوق، تعمیر و ترقی، اور اس سے متعلقہ امور،عوامی و مقامی مسائل،مشکلات،سیاسی امور،حکومتوں کی بد انتظامی،رشوت ،کمیشن،کرپشن،اقرباء پروری ،انسانی حقوق،تحفظ ماحولیات و جنگلی حیات،آزاد کشمیر کے ریاستی اخبارات وجرائد کے مالکان و ایڈیٹرز کی تنظیم ’’ جموں و کشمیر نیوز پیپرز ایسوسی ایشن‘‘1952ء میں قائم ہوئی۔2009ء میں اس کا نام تبدیل کر کے’’ آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی‘‘ رکھا گیا۔اس وقت آزاد کشمیر سے 50کے قریب ریاستی اخبارات و جرائد شائع ہو رہے ہیں جن میں سے 45’’ آل کشمیر نیوز پیپرز سوسائٹی‘‘ کے رکن ہیں۔
ریاستی اخبارات کو درپیش مسائل و مشکلات ۔آزاد کشمیر پسماندہ،ترقی پزیر علاقہ ہے جہاں کوئی صنعت نہیں،کوئی بڑے تجارتی ادارے نہیں۔اخبارات کا انحصار سرکاری اشتہارات پر ہے ۔آزادکشمیر کے متنازعہ خطے کی اہمیت و حساسیت کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کی طرز پہ پریس سے متعلق سخت قوانین لاگو کر دیئے جاتے ہیں جبکہ آزاد کشمیر کی خصوصی حیثیت کے پیش نظر آزاد کشمیر میں آزادی اظہار کے طور پر پریس پر غیر ضروری پابندیاں عائید نہیں ہونی چاہئیں۔انہی میں ایک آڈٹ آف سرکولیشن ABCکا آزاد کشمیر کے اخبارات پر اطلاق لازمی قرار دینا ہے۔آزاد کشمیر میں صحافیوں کو اطلاعات تک رسائی نہیں دی جاتی ،اور نہ ہی آزاد کشمیر میں ’’ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ‘‘ نافذ ہے۔اس طرح صحافی تعمیر و ترقی کے منصوبوں میں ہونے والی کرپشن اور دوسری عوامی اہمیت کی حامل سرکاری دستاویزات کی معلومات سے محروم رکھے جاتے ہیں۔
آزاد کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں کو سرکاری اداروں کی طرف سے سختی ،پابندی کا سامنا رہتا ہے۔صحافیوں کو پولیس ، سرکاری اہلکاروں اور سیاسی شخصیات کے دباؤکا سامنا بھی رہتا ہے۔آزاد کشمیر حکومت نے ایک ایکٹ کے ذریعے صحافیوں کی فلاح و بہبود کا ایک ادارہ ’’پریس فاؤنڈیشن‘‘ اپنی نگرانی میں قائم کیا ہے۔لیکن اس ادارہ کو حکومت بے قاعدہ رکھتے ہوئے اس کی آڑ میں مختلف ضابطے جاری کرتے ہوئے نہ صرف ریاستی اخبارات پر مختلف پابندیاں عائید کرتی ہے بلکہ اخبارات کو ایکریڈیشن کارڈ جاری کرنا بھی پریس فاؤنڈیشن کا اختیار بنا دیا گیا ہے ۔قطع نظر اس کے کہ پریس فاؤنڈیشن صرف صحافیوں کی فلاح و بہبود کا ادارہ ہے جو حکومتی سرپرستی میں قائم ہے۔پاکستان کے تمام صوبوں میں ایکریڈیشن کارڈ کی فراہمی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کا اختیار ہے اور آزاد کشمیر میں بھی ایسا ہی تھا لیکن پریس فاؤنڈیشن کے قانون میں ایکریڈیشن کارڈ جاری کرنے کا اختیار پریس فاؤنڈیشن کو دے دیا گیا ہے۔حکومت نمائشی انداز میں خلاف ضابطہ اس کی رکنیت پسند و ناپسند کی بنیاد پہ کرتی ہے۔مختلف بنک اور موبائل کمپنیاں آزاد کشمیر میں بھاری منافع کما رہے ہیں لیکن آزاد کشمیر کے ریاستی اخبارات کو ان کی طرف سے اشتہارات نہیں دیئے جاتے ۔
پاکستان میں آئینی ترامیم میں متعدد اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل کئے گئے ہیں لیکن آزاد کشمیر کو اس طرز پہ اختیارات نہیں منتقل کئے گئے۔آزاد کشمیر کے اختیارات و وسائل پر کشمیر کونسل اور وفاقی وزارت امور کشمیر کے حاکمانہ تسلط کے باعث آزاد کشمیر حکومت ہر حوالے سے شدید متاثر ہو رہی ہے اور اس صورتحال سے آزاد کشمیر کے اخبارات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔مثلا ، کشمیر کونسل نے موبائل کمپنیوں کو آزاد کشمیر میں کام کرنے کا لائیسنس جاری کرنے کی مد میں 40ملین ڈالر اکٹھے کئے،آزاد کشمیر حکومت سنگین مالیاتی بحران میں مبتلا ہے لیکن آزاد کشمیر کو طے شدہ مالیاتی حصہ بھی نہیں دیا جا تا۔دوسری مثال کشمیر سٹیٹ پراپرٹی ہے جو وفاقی وزارت امور کشمیر اور کشمیر کونسل کی بدعنوانیوں کا شکار ہو رہی ہے۔آزاد کشمیر کے ریاستی اخبارات کو ترقی کے مواقع حاصل نہیں ہیں ۔
آزاد کشمیر کے خطے کی طرح یہاں کے اخبارات بھی ابھی پسماندہ ،ترقی پذیر ہیں۔کم وسائل کے ساتھ تحریکی جذبے سے صحافت کو ایک مشن کی طرح جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہاں کے اخبارات کو پیشہ وارانہ تربیت اور مختلف موضوعات سے متعلق صلاحیتوں میں اضافے کے تربیتی کورسز کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔پاکستان کے پریس سے الگ ہونے کہ وجہ سے آزاد کشمیر کے اخبارات ان مواقعوں سے محروم ہیں جو پاکستان کے اخبارات کو حاصل ہیں۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button