اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

آزاد کشمیر میں سیاسی بغاوت کا صحافتی منصوبہ!

atharکئی افراد یہ دعوی رکھتے ہیں کہ وہ بڑے حوصلے،صبر اوربرداشت کے مالک ہیں۔میرے خیال میں اس دعوے کے لئے لازم ہے کہ دعوی کرنے والا شخص شادی شدہ ہو اور اس نے کبھی کوئی الیکشن بھی لڑا ہو ، تب ہی اسے معلوم ہو سکتا ہے کہ صبر،حوصلے سے کام لینا ،برداشت کرنا کیا ہوتا ہے۔ہر معاملے میں ہر انسان کا اپنا وزن ہوتا ہے،الیکشن میں دو چھٹانک کا وزن رکھنے والا آدمی بھی خود کو” دو من” کا ظاہر کرتے ہوئے امید وار کو ستاتا ہے کہ اب مجھے اٹھا کر دکھائو۔یوں شادی کئے بغیر اور الیکشن لڑے بغیر کوئی اس دعوے کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ  temprament رکھنا کیا ہوتا ہے۔یہ بات میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ کئی بار انسان کوئی بات سنجیدگی سے لکھتا ہے تو لوگ اسے مذاق میں لیتے ہیں اور جب کوئی بات مذاق میں ٰ کی جائے تو اسے نہایت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔آزاد کشمیر کے ایک معروف صحافی خالد گردیزی نے آزاد کشمیر اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لئے فیس بک پہ چند صحافیوں کے نام پیش کئے ہیں اور ان کی تصاویر شائع کی ہیں۔خالد گردیزی کا کہنا ہے کہ اس طرح آزاد کشمیر اسمبلی کو ایسے” باکردار”ارکان مہیا ہوجائیں گے جو صرف پانچ سال میں مسئلہ کشمیر،تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کے وہ ٹارگٹ حاصل کر لیں گے جو حکمران سیاستدان کئی برسوں میں نہیں کر سکے۔ خالد گردیزی کی طرف سے آزاد کشمیر اسمبلی میں سیاستدانوں کا مقابلہ کرنے کے لئے آزاد کشمیر کے28حلقوں کے لئے28  صحافی امید واروں کے ناموں کااعلان کیا ہے۔ان میں مشتاق منہاس،عامر محبوب،سردار عابد،بلال ڈار، ارشاد محمود ،شہزاد راٹھور،اسلم میر،سردار عابد(روزنامہ دھرتی)راجہ کفیل،امیتاز بٹ،  بشارت عباسی، غلام اللہ کیانی،عابد(میر پور)،عار ف عرفی،بشیر عثمانی،زاہد تبسم،طارق نقاش،اعجاز عباسی،شہزاد خان،کاشف میراور دو خواتین بھی شامل ہیں۔خالد گردیزی نے ان صحافی دوستوں سے معذرت کی ہے جن کو وہ الیکشن لڑنے کا ٹکٹ جاری نہیں کر سکے۔اب معلوم نہیں کہ ان صحافیوں نے خالد گردیزی کے پاس الیکشن لڑنے/ٹکٹ جاری کرنے کے لئے پیسے جمع کرائے ہیں یا حکومت میں آنے کے بعد کا کوئی وعدہ کیا گیاہے۔اب دیکھو، کون سا صحافی امیدوار آزاد کشمیر اسمبلی کھڑا رہتا ہے اور کون دستبردار ہو جاتا ہے۔مختلف علاقوں میں مختلف قسم کے لڑائی کے مقابلے ہوتے ہیں جن میں انسانوں اور جانوروں کی لڑائیاں شامل ہیں۔مختلف علاقوں میں کشتی،مکہ بازی،زور آزمائی کے مقابلے ہوتے ہیں اسی طرح کئی علاقوں میں مرغے،بٹیرے،کتے کے علاوہ دوسرے جانوروں کی لڑائیاں بھی مشہور ہیں۔اب ایک صحافی نے صحافیوں کا پورا پینل تیار کر کے انہیں الیکشن لڑانے کا اعلان کیا ہے۔کہتے ہیں کہ ” شوق دا کوئی مل نہیں” ،  لہذا ہمیں خالد کے اس چیلنچ/مذاق کو سنجیدگی سے دیکھنا چاہئے۔
خالد گردیزی نے بعض غیر معروف جونیئر صحافیوں(جن میں دو خواتین بھی شامل ہیں،کم از کم میں نے ان کی تصاویر سے انہیں نہیں پہچانا) کے نام بھی الیکشن لڑنے کے لئے جاری ٹکٹ والوں کی 28کی فہرست میں شامل کئے ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہاں بھی پیسہ،سفارش کارفرما ہے۔خالد نے یہ ٹکٹ جاری کرنے کے لئے کس کس صحافی سے کیا کیا لیا ہے یہ سیکنڈل صحافیوں کے رکن اسمبلی بننے کے بعد ہی شائع کیا جائے گا تاکہ ان کی طرف سے رابطے پر مناسب’ بھائو تائو ‘کر کے سکینڈل نہ چھاپا جا سکے۔اندرونی ذرائع نے اپنا نام مخفی رکھے جانے کی شرط پہ بتایا ہے کہ 28 صحافیوں کے ٹکٹ فائنل کرنے میں خالد گردیزی کو ہی کلی اختیارات حاصل نہ تھے بلکہ صحافیوں کے پارلیمانی بورڈ میں خالد گردیزی کے علاوہ،چھلو( اپنی صحافت سے لوگوں کو چھلنے والا)،کٹو(اپنی صحافت سے لوگوں کو صفائی سے کاٹنے والا)،ایک کھپی( ہر بات میں کھپ ڈالنے والا)، ایک بابائے صحافت،ایک بانی صحافی اورماسٹر مائینڈ کے نام سے مشہور ایک سینئر صحافی بھی شامل ہیں۔’ ایف آئی اے’  ” ایگزیکٹ” سکینڈل سے فارغ ہو جائے تو پھر ہی اس بات کا جائزہ لیا جا نا ممکن ہے کہ کس کے اکائونٹ میں ٹکٹ کے نام پر لیا جانے والا کتنا پیسے اس کے حصے میں آیا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایگزیکٹ سکینڈل والے شیخ کی طرح خالد بھی فرنٹ مین ہے،اصل افراد اور ہیں جو پس پردہ رہ کر آزاد کشمیر کی سیاست میں بغاوت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔اسی طرح جس طرح ڈوگرہ حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا گیا تھا۔اطلاعات کے مطابق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ٹکٹ حاصل کرنے والے بعض صحافیوں نے الیکشن کے لئے اپنی اپنی برادریوں کے اجلاس بھی منعقد کرنا شروع کر دیئے ہیں اور بعض صحافیوں نے مقتدر حلقوں سے مدد طلب کر لی ہے۔یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ اسمبلی کا الیکشن لڑنے والے ان صحافیوںکی کامیابی کے لئے کل وقتی” صحافت کی سیاست”  کرنے والے نامور صحافیوں کی خدمات بھی بھاری معاوضے پہ حاصل کر لی گئی ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض بااثر افراد  /اداروںکے دبائو پر خالد گردیزی اور ان کے پس پردہ پارلیمانی بورڈ نے چند منظور نظر صحافیوں کو ایڈ جسٹ کرنے کے لئے چند ٹکٹ تبدیل کرنے کی حامی بھر لی ہے۔آزاد کشمیر کی تقدیر بدل دینے والایہ اعلان نہایت خوش آئند،خوشنما ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ صحافیوں کے دل میں عوام کی ذلت کا احساس اتنا گہرا ہے کہ وہ خود رائج الوقت سیاست کی غلاظت میںآلودہ ہونے کو تیار ہیں،صرف عوام کے لئے ورنہ ان کو کوئی شوق نہیں ہے۔تاہم ایک بری خبر یہ بھی ہے کہ آزاد کشمیر اسمبلی کا الیکشن لڑنے والے ان صحافیوںکے اس ”اصلاحی گروپ” کے مقابلے میں صحافیوں کا ہی ایک ”باغی گروپ” بھی الیکشن لڑنے کی تیاری میں ہے اور جلد اس کا اعلان متوقع ہے۔ابھی تک باغی گروپ کا کوئی صحافی پکڑائی تو نہیں دیا لیکن مجھے یقین ہے کہ اگر خاور نواز راجہ اور مظفر آباد کے کسی صحافی سے تفتیش کی جائے تو باغی گروپ کے پورے پینل اور اس کے پارلیمانی بورڈ کو بے نقاب کیا جا سکتا ہے۔مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔
ڈاکٹر محمود ریاض سناتے ہیں کہ ایک بار میں باتھ روم میں نہا رہا تھا کہ اچانک لندن میں ہی مقیم ایک سینئر کشمیری رہنما کا ٹیلی فون آگیااور فورا ہی پوچھنے لگے کہاں ہو اور کیا کر رہے ہو،ڈاکٹر محمود ریاض نے جواب دیا کہ باتھ روم میں ہوں اور نہا رہا ہوں،تو یہ شاندار تبصرہ ہوا کہ ” واہ ،کیا نظارہ ہو گا” ۔ اسی واقعہ کے مصداق یہاں اس منظر کا تصور کرنا چاہئے کہ جب آزاد کشمیر کے صحافی آزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں بیٹھے ہوں گے اور آزاد کشمیر کے سیاستدان صحافت کر رہے ہوں گے۔سیاستدان صحافت کرنے لگے تو اسمبلی میں آنے والے صحافیوں سے کہیں گے کہ ” میرے پیسے واپس کرو ،جو تم بیانات چھاپنے،خیرمقدمی اشتہارات ،کبھی کسی مشکل میں ہونے،کبھی حمایت کرنے،کبھی میرے حق میں مہم چلانے ،کبھی میرے مخالف کو رگڑادینے ،کبھی میرے لئے صحافیوں کا گروپ قائم کرنے ،کبھی سیاسی رابطوںکے نام پرمجھ سے بٹورتے رہے ہو،اور ہاں مجھ سے اپنے طرح کے روئیے کی توقع نہ رکھنا کہ تمہاری چاپلوسی ،خوشامد،منتیں کروں گا،اب میں سیاستدان نہیں صحافی ہوں،میرا قابل قبول حصہ از خود پہنچ جانا چاہئے ورنہ اب قلم کی نوک میرے پاس ہے،چبو چبو کر جینا حرام کر دوں گا”۔خیر اندیش ، سابق یاستدان،حالیہ سنیئر موسٹ صحافی۔ کیا نظارہ ہو گا کہ جب آزاد کشمیر کے سیاستدان صحافت کر رہے ہوں گے۔ ان کا پہلا مطالبہ تو یہ ہو گا کہ ہمیں بھی اسی طرح مشیر وغیرہ بنائو جس طرح ہم نے تمہیں بنایا تھا۔اس تصور سے آگے سوچنا ہی محال ہے کہ ہر کام چھپ چھپا کر کر نے والے سابق سیاستدان ،حال صحافی کھلے عام اشتہار مانگتے،کسی کو چھلتے،کسی کو کاٹتے،صحافی سیاستدانوں کی خبریں اپنی طرف سے خود لکھتے کیسے لگیں گے۔ صحافی آزاد کشمیر اسمبلی کے ممبر بن کر کیا کریں گے؟ اس بارے میں میں اپنی رائے محفوظ رکھتا ہوں کیونکہ صحافیوں کا آزاد کشمیر اسمبلی کا رکن بننا ایک’ سہانا سپنا ‘،اک دل لگی کی بات ہی ہے۔
خالد گردیزی نوجوان اور جذباتی صحافی ہیں تاہم کبھی پتہ نہیں چلتا کہ مذاق ہو رہا ہے یا سنجیدگی مطلوب ہے۔اگر سنجیدگی ہے تو آزاد کشمیرکے سیاستدانوں کو عوامی رائے کی ترجمانی کرنے والوں کی اس ممکنہ بغاوت سے ہوشیار ہو جانا چاہئے۔اس اعلان بغاوت کے بعد صحافیوں کو بھی سیاستدانوں کے اس طرح کے جملے، الزام سہنے کا جگرا تیار رکھنا چاہئے کہ ” ہوں،الیکشن لڑیں گے،یہ صرف اپنے ریٹ بڑہانے کا حربہ ہے،دیکھنا ابھی شام کو میرے پاس حاضر ہو کر کیسی خوشامد کریںگے”،وغیرہ وغیرہ۔آج کی سیاست کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہئے کہ اس میں آپ کی ذاتیات،آپ کا کردار ،سبھی کچھ عوامی سطح پہ ڈسکس ہو گا اور کیا صحافی اس بات کو برداشت کر سکتے ہیں؟ایک صحافی دوست نے مجھے بھی الیکشن لڑنے والے صحافیوں کے اس پینل میں شامل کرانے کی پیشکش کی تو سوچ وبچار کے بعد یہی سمجھ آیا کہ میں کوئی مرغا ہوں جو خالد گردیزی مجھے لڑائے گا؟اور یہ کہ میرا اتنا جگرا کہاں کہ ووٹ کے لئے” دو دو ٹکے” کے افراد سے مانگ تانگ کرتا پھروں”َ۔(ضروری نوٹ۔یہ کلی طور پر ایک مزاحیہ کالم ہے،لہذا حالات و واقعات اور افراد میں کسی قسم کی مماثلت کا راقم ذمہ دار نہ ہوگا)۔
note
یہ بھی پڑھیں  حلیم عادل شیخ کے پروڈکشن آرڈر جاری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker