شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / پاکستان / کشمیری عوام پاکستان کے سپاہی ہیں لوگ مسلم کانفرنس کوچھوڑرہے ہیں،وزیراعظم آزاد کشمیر

کشمیری عوام پاکستان کے سپاہی ہیں لوگ مسلم کانفرنس کوچھوڑرہے ہیں،وزیراعظم آزاد کشمیر

مظفر آباد (بشیر احمدمیر )وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری عبدالمجید نے باغ عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج باغ کی خوبصورت دھرتی پر شہداء اور مجاہدوں کی دھرتی پر آج کا دن ایک عظیم الشان دن ہے ۔ آج باغ کی دھرتی ، ملالہ بختاور کیلئے ، آصفہ کیلئے پیغام لے کر آئے ۔ آج اس دھرتی کے اندر اپنی بیٹیوں کیلئے ایک یونیورسٹی لے کر آیا ہوں ۔سب سے پہلے اس دھرتی کے شہداء کیلئے وزیر اعظم بھٹو شہید اور بے نظیر کیلئے اور پاک افواج کے شہداء کیلئے ،نیلم کے شہدا ء کیلئے فاتحہ خوانی کی اور بعد ازاں وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ آپ نے مجھ سے پہلے ہمارے لیڈر کی تقریر بڑے غور سے سنی ۔ بارش کے باوجود ان برف پوش پہاڑوں سے اتر کر آئے ہیں ۔ یہ خیر سگالی کا پیغام شہید رانی اور شہید بھٹو کو کیا ہے ۔باغ و سر زمین ہے جنہوں نے تحریک آزادی کی بنیاد رکھی میں سرحد سے اس پار یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ گزشتہ 66سالوں سے سے اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ۔ ان کیلئے پیغام گیا ہے ۔ چونسٹھ سال سے انہوں نے کشمیر یوں کا پیغام کیوں نہیں سنا نہرو نے وعدہ کیا تھا ، جمہوریت کہا ں گئی میری بیٹی میری بہن میری ماں کی عزت کیوں تار تار ہو رہی ہے ۔ہم بین الاقوامی برادری سے اپیل کرنا چاہتے ہیں کہ اگر تم جنوبی ایشیاء میں امن چاہتے ہو تو ہمیں آزادی دو ۔ یہ ڈیڑھ کروڑ انسان اپنا حق آزادی چاہتے ہیں ۔ہم جنگ نہیں چاہتے ہم امن چاہتے ہیں لیکن مجھے رائٹ آف ووٹ دو اور ہم نے مہاراجہ کے خلاف بغاوت کر کے اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ جوڑا تھا ہم جنگ نہیں چاہتے ہم اس ملک میں معاشی انقلاب چاہتے ہیں ۔ہم برصغیر کے اندر امن قائم کرنا چاہتے ہیں یہ امن اسی صورت میں قائم ہو گا جب ہمیں آزادی چاہتے ہو ۔ کیا تم جانتے ہوئے کہ ہمارے خون سے ہولی کھیلی جائے ، یہاں گولیاں چلیں ۔ تم پانچ سال کے بچے کو نیزے کی سولی پر چڑھتے ہیں یہ آزادی کا بیس کیمپ ہے یہ پوری ریاست کا ترجمان ہے ۔ علاوہ ازیں آپ کے وزیر نے کہا کہ میں نے ویمن یونیورسٹی اور کالجز دیئے ہیں مین نے کچھ نہیں دیا یہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا وعدہ تھا مین نے وہ وعدہ ایفا کیا ہے ۔میری حکومت کو ڈیڑھ سال ہو ا ہے بجٹ نہیں تھا جھوٹوں برادریوں اور ضلعوں کا رقص ہوتا رہا آج تمہیں کہتا ہوں کہ پی پی رقص کرتی ہے تم بڑے باپ کے بیٹے ہو۔ بڑی چھوٹی باتیں کرتے ہوئے پچاس سال انہوں نے ہماری بیٹیوں کو بازار مصر میں نیلام کیا تحریک آزادی کی پیٹھ میں چھرا گھونپا قومی یکجہتی ہے کہ مذاق بند کر ۔ پارلیمانی پارٹی اور عوام نے ہم سے وعدہ کیا تھا ہم پر اعتماد کیا تھا آپ نے فرض ادا کردیا ۔ ہم اپنا فرض ادا کرنا چاہتے ہیں ہم یہاں بارود کی فصلیں نہیں اگانا چاہتے علم کی روشنی تو پھیلانا چاہتے ہیں یہاں بہت لوگوں نے بات کی لیکن میں سیاسی گماشتوں اور دلالوں کوجواب نہیں دینا چاہتے ہیں یہ مویشوں اور کھالوں کا کاروبار کرنے والوں کو یں گنگرے دے دو تا کہ یہ کھالیں صاف کر سکیں اور بھیڑوں کو پانی پلا سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم رشوت کھائیں تو اپنی ماں بہن کا گوشت کھائیں انہوں نے ترابی اور عتیق سے کہا کہ مجھے جہاد فنڈز کا حساب دو مجھے کھالوں اور ترقیاتی فنڈز کا حساب دو انہوں نے کہا کہ سب بڑی طاقت اللہ ہے ہم دوسری طاقت مظلوم عوام کی طاقت ہے ہم مظلوم عوام کے ساتھ ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو کچھ نہیں ہو گا کیونکہ عوام ہمارے ساتھ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگ MCکو چھوڑ رہے ہیں اگر ان کی کو ساری خبر مل گئی تو ان کو نمونیہ ہو جائے گا انہو ں نے کہا کہ عتیق خان کو شیخ چلی کہتے ہوئے کہا کہ کہ جگہ کا فیصلہ کر لو ۔ تم بھی آجا ؤ اور ہم بھی آجا تے ہیں وہاں فیصلہ کر لو میں اور بھی یونیورسٹیاں اور کالجز دوں گا انہوں نے اعلان کیا کہ میں ایک ہفتہ دھیر کوٹ بیٹھوں گا ۔ انہوں نے کہا کہ میں سیاست کی بات سیات کے  ذریعے کرتا ہوں ۔ پی پی کیا کہتی ہے سب کو پتہ ہے ۔ یہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم ڈر گیا ۔یہ لوگوں کی محبت ہے کہ راجہ پرویز اشرف نے بغیر بھی پی پی کے تمام لوگ موجود ہیں ۔ خود کو اپنے باپ کے نام پر سڑک نہیں بنا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سے پہلی گولی چلی تھی وہاں فرسٹ ایڈ پوسٹ دیں تا کہ BGجنگ کروا لیں ہم وزیر اعظم پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں وہ مطالبے آپ کا حق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ باغ ویمن یونیورسٹی ، بنی منہاساں سیل ، اور باغ لائبریری اور لیبارٹری کیلئے 30کروڑ روپے دینے کا اعلان کرتا ہوں ۔ آج باغ کے لوگو کالج کے اساتذہ میں آپ کیہلئے پیغام لے کر آیا ہوں کہ آپ کی یونیورسٹی جنوبی ایشیاء میں سب خوبصورب یونیورسٹی بناؤں گا ۔ انہوں نے کہا کہ باغ یونیورسٹی کو آصفہ بھٹو اور زرداری کے نام منسوب کرتا ہوں وہ اس عمارت کا سنگ بنیاد باغ کے مقام رکھیں گے ۔ بھٹو شہید نے جان کا نذرانہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ جہاں  کشمیریوں کا پسینہ گرے گا وہاں میرا خون گرے گا ۔ملت ڈگری کالج ملالہ کے نام پر منسوب کروں گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریب ضرور ہیں لیکن بے غیر ت نہیں ہیں ہم اقتدار کے شاہسوار نہیں ہم انسانیت کی خدمت کرنا چاہتے ہیں میں آپ کا خادم ہوں ، چوکیدار ہوں ، میرا وزیر اعظم بھٹو شہید ، شہید رانی ، آصف علی زرداری ، فریال تالپور ، آصفہ اور بختاور ہیں ۔ چونسٹھ سال تک گولی نہ چلی لیکن کشمیر بنے گا پاکستان کا رقص کر رہے ہیں 236 انہوں نے کہا کہ دھیر کوٹ میں ظلم و ستم کی چکی میں پسنے والو ں کو آزادی دلاؤں گا ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں سے ہاتھ کھڑے کرواتے ہوئے یونیورسٹی کا نام آصفہ زرداری کے نام منسوب کرنے کی تائید لی ۔وہ تمہیں ڈرا رہیں جن کو ایک مچھر نے کاٹا 236 تو معافی مانگ لی ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میں اس وقت تک ننگے پاؤں چلوں گا ۔ پیٹ پر پتھر باندھ کر چلوں کا جب تک میں سب آزاد کشمیر کو برابر نہیں کر دیتا۔

یہ بھی پڑھیں  ویسٹ انڈیز کا ٹاس جیت کر پاکستان کے خلاف باؤلنگ کا فیصلہ