پاکستانتازہ ترین

بھارتی حکومت کے سرینگر مظفر آباد دو طرفہ تجارت کی بندش کیخلاف احتجاج

Azad_Kashmirآزادکشمیر(چیف رپورٹر) بھارتی حکومت کی جانب سے سرینگر مظفر آباد دو طرفہ تجارت میں میڈ ان پاکستان آئٹم پر پابندی کے باعث 21 روز سے دو طرفہ تجارت کی بندش کے خلاف مقبوضہ کشمیر کے تاجروں کا سرینگر پریس کالونی کے باہر دھرنا سیول سیکرٹریٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش پر مقبوضہ کشمیر پولیس کا تاجروں پر تشدد لاٹھی چارج کے دھکے مار کر درجنوں تاجروں کو گرفتار کر کے کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن لال چوک میں بند کر دیا۔ ایل او سی ٹریڈ یونین آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل اعجاز میر کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے تاجروں نے پیر کے روز پریس کالونی سرینگر کے باہر دھرنا دیا اور وہ بھارتی اور مقبوضہ کشمیر حکومت کے رویے کے خلاف جیسے ہی سیول سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کر نے کے لیے اگے بڑھے تو پولیس نے ان پر لاٹھیاں برسائیں، دھکے مارنے کے علاوہ گرفتار کر لیا۔مظاہرے کی قیادت کراس ایل او سی ٹریڈ کے صدر طارق خان اور جنرل سیکرٹری ہلال ترکی کر رہے تھے۔ آرپار تجارت سے وابسطہ آزاد کشمیر کے تاجروں محمود ڈار، خورشید میر، اعجاز میر، اعجاز شاہ، نذیر احمد بٹ، راجہ ارشد، نعیم عباسی نے مقبوضہ کشمیر کے تاجروں پر پولیس تشدد اور گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بزدلانہ کاروائی قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت فی الفور مقبوضہ کشمیر کے تاجروں کو رہا کرے اور 2008 میں ہو نے والے پاک بھارت معاہدے کے مطابق دو طرفہ سرینگر مظفر آباد تجارت کو بحال کیا جائے بصورت دیگر دونوں اطراف سے تاجر بھارتی رویہ کے خلاف احتجاجی تحریک کا سلسلہ شروع کر نے کے علاوہ اقوام متحدہ کے دفاتر کے سامنے دھرنے دیں گے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے تاجر بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر تے ہوئے اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی رویہ کے باعث آر پار تاجروں کے کروڑوں روپے پھنس گئے ہیں اور آر پار ہزاروں افراد 21 روز سے بیروزگار بیٹھے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button