تازہ ترینکالم

آزادی کا سفر۔۔۔۔۔غلامی تک

abu muhammadپاکستان کی آزادی کی تاریخ اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب نوجوان سپہ سالار محمد بن قاسم نے دیبل (کراچی) پر حملہ کیا ۔ اسی وقت سی مسلمانوں کی ایک آزاد مسلم ریاست کی تاریخ شروع ہوتی ہے۔ جنوبی ایشیاء میں یہ مسلمانوں کا پہلا قدم تھا۔ محمد بن قاسم نے سندھ کو فتح کرنے کے بعد وہاں کے مکینوں کو ہر قسم کی مذہبی آزادی دی۔ ان کی جائیداد اور زمینیں انہی کے پاس رہنے دی ۔ ان کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا۔ وہ غیر مسلم محمد بن قاسم کے رویہ سے اتنے متاثر ہوگئے کہ جوق در جوق اسلام میں داخل ہونے لگے۔ بعد میں محمد بن قاسم کو تو واپس بلایا گیا۔ لیکن انہوں نے ایسی مثال قائم کی کہ غیر مسلم بھی اسلام کے امن اور مساوات سے اتنے متاثر ہوگئے تھے کہ مسلمانوں کے علاوہ کسی اور کی بادشاہی وہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہ تھے، چا ہے ان کے اپنی مذہب کی ہی کیوں نہ ہو۔
بہترین اخلاق اور اسلامی مساوات کی وجہ سے مسلمانوں نے برصغیر پر تقریبا اٹھ سو (۸۰۰) سال تک حکومت کی۔ کوئی بھی برصغیر پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا تو خود بکھر جاتا۔ سولویں صدی کی اخر میں مغل بادشاہ جب اسلامی تعلیمات سے دور ہوگئے اور عیاشیوں اور کباب و شباب میں مصروف ہوگئے تو انگریزوں نے موقع کو غنیمت جانا اور اپنی چالاکی سے تجارت کی آڑ میں مغل بادشاہت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ بنایا۔ اور ایک کوئی بھی موقع ضائع کئے بغیر مسلمانوں کی طویل حکومت کا خاتمہ کیا۔ مسلم حکمران اپنی نفسانی خواہشات اور عیاشیوں میں اتنا مگن ہو چکا تھا کہ غیر تو کیا اپنی بھی ان کی حکومت میں مطمئن نہیں تھے۔
جب انگریز مکمل طور پر برصغیر پر قابض ہوچکا ہو مسلمانوں میں آزادی کا احساس جاگنے لگا۔ اور بڑے بڑے بزرگ علماء اور سکالروں نے انگریز کے غلامی سے آزادی کیلئے طرح طرح کی قربانیاں پیش کی۔ اور ایک ایسے مملکت کا خواب دیکھنے لگا۔ جہاں قانون رحمن کا ہوگا۔ جہاں فیصلہ قرآن پر ہوگا۔ جو اسلام کا ایک مضبوط قلعہ ہوگا۔ایسی اسلامی ریاست کیلئے جیل و بند کی صعوبتیں برداشت کئے گئے۔ ذہنی اذیتیں پہنچائی گئی۔ جان کے نذرانے پیش کئے گئے۔ ۱۸۵۷ء سے ۱۹۴۷ء تک پورے نوے سال مسلم اکابرین نے نہ دن دیکھا نہ رات۔ ہر وقت ہر موقع پر جداگانہ آزاد مسلم ریاست کیلئے اواز بلند کیا۔
آخر کار اکابرین علماء اور عظیم سکالروں کی قربانیاں رنگ لائی اور ۱۹۴۰ء میں لاہور میں پاکستان کے حوالے سے ایک قراداد پیش کئی گئی جسے انگریزوں کو منظور کرنا پڑا۔ جس کے نتیجے میں ۱۹۴۷ ء کے رمضان المبارک کے مہینے میں مسلمانوں کو ایک الگ ریاست مل گیا۔ وہ ریاست جس کے حصول کا سفر ۱۱۰۰ سال پہلے کراچی سے فتح سے شروع ہوچکا تھا۔ وہ ریاست جہاں مسلمانوں کو ہر قسم کی مذہبی، سیاسی، لسانی اور ثقافتی آزادی حاصل تھی۔ ایسی ریاست جس کیلئے ہزاروں جانوں کے نذرانے پیش کئے گئے تھے۔ مسلمانوں کی قربانی کے بدولت اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کوعید سے پہلے عید دے دی۔ اور ۲۷ رمضان المبارک کو پاکستان آزاد ہوگیا۔
آج پاکستان کے آزادی کے ۶۶ سال بعد اگر ہم اپنے ارد گرد معاشرے پر نظر دوڑائے ۔ اور عقل سلیم سے سوچھ لیں ۔ تو یقیناًہم یہ سوچھنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ کہ کیا ہم آزاد ہیں؟ جس ریاست کیلئے ہزاروں جانیں قربان کی گئی تھیں کیا وہ ہمیں مل چکا ہے؟ رحمن اور قرآن کے قانون والا ریاست کیا مسلمانوں کو مل چکا ہے؟ کیا اج پاکستان میں اسلامی ثقافت و تمدن پایا جاتا ہے؟ کیا ہمیں وہ آزادی ملی ہے جس کا ہم نے خواب دیکھا تھا؟ یقیناًان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہوگا۔
آج ہمیں علیحدہ ریاست تو ملی ہے مگر اس میں ہم آزاد نہیں۔ نہ مذہبی آزادی ہے، نہ ثقافتی آزادی اور نہ ہی لسانی۔ بلکہ آج ہماری سوچ کو بھی غلام بنا دیا گیا ہے۔ہم اپنی مذہب، ایپی ثقافت اور اپنی تمدن کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ ہمارے سوچ میں اج صرف مغرب ہے۔ پیسے کی چہل پہل، عورتوں کو کھلونہ سمجھ کر ان کے ساتھ کھیلنا اور انہیں ہر جگہ اپنے شانہ بشانہ رکھنا، مغربی زبان، مغربی لباس اور مغربی تہذیب۔ اگر ہم آج بھی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا نہ ہوئے، اسلامی تہذیب و تمدن کو نہ اپنایا، اللہ اور اس اس کے رسول ﷺ کے احکام اور طریقوں کے مطابق اپنی زندگی نہ گزاری۔ تومحض زمین کا ٹکڑا ملنے پر ہم کبھی بھی آزاد نہیں ہوسکتے بلکہ ۱۰۰ سال گزرجانے کے بعد بھی ہم غلام رہیں گے۔note

یہ بھی پڑھیں  سیاسی تعصب

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker