تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

اعظم ہوتی کی ہرزہ سرائی اوراے این پی کی کاروائی

zafar ali shah logoعوامی نیشنل پارٹی کی بدترین شکست پارٹی قیادت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ تھااسفندیار ولی خان نہ صرف پارٹی قیادت چھوڑدیں بلکہ پارٹی معاملات سے بھی الگ ہوجائیں یہ کہنا ہے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماسابق وفاقی وزیر مواصلات سینیٹر اعظم خان ہوتی کا ۔ان کا مزید کہنا یہ ہے کہ پچھلے کئی سالوں سے پارٹی کے معاملات جس طرح چلائے جارہے ہیں ان پر انہیں گہری تشویش ہے اور وہ اپنے تحفظات اور خدشات سے پارٹی قیادت کومحتاط انداز میںآگاہ کرتے بھی رہے ہیںیہ سوچ کر کہ شائد پارٹی معاملات درست سمت چل پڑیں مگرنتیجہ یہ برآمدہواکہ پارٹی تاریخ کی بد ترین شکست سے دوچار ہوئی ۔ یہ بھی کہ انہوں نے پہلے بھی تمام قیادت کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا مگر ان کے معروضات کو قبول کرنے کے برعکس شکست کی وجوہات معلوم کرنے کے لئے محض ایک انکوائری کمیٹی بنادی گئی ۔دوسری جانب وہی ہوا جس کی توقع کی جارہی تھی اطلاعات کے مطابق پارٹی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے اور کارکنوں کو بغاوت پر اکسانے کو بنیاد بناکر اے این پی نے اعظم ہوتی کو شوکازنوٹس جاری کردیاہے۔ اگرچہ انتخابات میں شکست سمیت کسی بھی حوالے سے پارٹی کی اعلی قیادت سے اختلاف بھی کیا جاسکتا ہے اور سوالات بھی اٹھائے جاسکتے ہیں اورجہاں اچھے فیصلوں کا کریڈٹ قیادت کو دیاجاتا ہے وہاں بعض غلط فیصلوں کی ذمہ داری بھی قیادت پر ہی عائد ہوتی ہے تاہم انتخابات میں شکست سے دوچار ہونے پر اس کی تمام تر ذمہ داری فرد واحد پر نہیں ڈالی جاسکتی جبکہ اے این پی نے عام انتخابات میں شکست کی وجوہات معلوم کرنے کی غرض سے فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی تھی اور مذکورہ کمیٹی کی پیش کردہ رپورٹ اور سفارشات کی روشنی میں پارٹی قیادت نے ملک بھر میں پارٹی کی تمام تنظیمیں تحلیل کردیں اور نئی ممبر سازی اور تنظیم سازی کے لئے باقاعدہ الیکشن کمیشن کا اعلان کرکے پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر حاجی عدیل کو اس کا مرکزی چیئرمین مقرر کردیا ہے جس کا اعلان پارٹی کے سابق مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کیا تھا اور ان فیصلوں پر عملدرآمدکے حوالے سے یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ اے این پی کی تنظیمیں تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد دہشت گردی کے معاملے سے نمٹنے اور طالبان سے مذاکرات کے لئے تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرزکی رائے لینے کی غرض سے وفاقی حکومت کی بلائی گئی کل جماعتی کانفرنس میں وزیراعظم اور وفاقی وزیرداخلہ کی جانب سے بار بار رابطہ کرنے اور اے پی سی میں شرکت کرنے کی تاکید کے باوجود اسفندیار ولی خان نے یہ کہہ کر معذرت کرلی تھی کہ ان کی جماعت کی تنظیمیں تحلیل ہیں اوراس وقت ان کے پاس پارٹی کاکوئی عہدہ نہیں ان کی جگہ سینیٹرحاجی عدیل نے اے پی سی میں شریک ہوکر پارٹی کی نمائندگی کی تھی۔اور ایک ناقابل تردید حقیقت تو یہ بھی ہے کہ نہ صرف پانچ سالہ دور اقتدار میں اے این پی دہشت گردی کی زد میں رہی جس کے نتیجے میں پارٹی کی مرکزی قیادت پر حملے ہوئے اور کئی دیگر عہدیدار اور کاکنوں سمیت بشیر بلور جیسے سیاستدان کی زندگی کا چراغ بھی گل کردیاگیا جو کہ پارٹی کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے بلکہ دہشت گردی کی دھمکیوں کے باعث پارٹی انتخابی مہم اس انداز میں چلانے سے بھی قاصر رہی جس کی ضرورت تھی ۔اے این پی کی قیادت سے غلطیاں بھی ضرور ہوئی ہو ں گی اس بات سے کوئی اختلاف نہیں تاہم دہشت گرد واقعات سمیت دیگر عوامل کو نظرانداز کرکے شکست کی ذمہ داری ،محض پارٹی قیادت پر ڈالنا اور قیادت کی غلط پالیسیوں کو شکست کا نتیجہ قرار دینا بھی مناسب نہیں ہوگابہرحال ان تمام حقائق پرمبنی معروضی حالات کے باوجوداے این پی کے رہنما اعظم خان ہوتی کے اخباری بیانات اور پارٹی قیادت کے خلاف ہرزہ سرائی کو کسی صورت معمولی کہا جاسکتا ہے نہ ہی ہلکا لیا جاسکتاہے۔ اعظم خان ہوتی اسفندیارولی خان کے سوتیلے ماموں بھی ہیں اور سگے بہنوئی بھی۔اعظم ہوتی امیرحیدرخان ہوتی کے والد بھی ہیں جنہیں کم عمری میں وزارت اعلیٰ کا قلمدان ملا اور وہ بھی بشیر بلور شہید جیسے تجربہ کار سیاستدان کی موجودگی میں جو کہ بلاشبہ بڑااعزازہے۔مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ انہیں اس اعزاز سے نوازنے میں اسفندیارخان کا کتنا اہم کردارتھا۔پارٹی قیادت کو انتخابی شکست کی ذمہ دار ٹھراکر الزامات عائد کرنے والے اعظم ہوتی کی اے این پی کے ساتھ طویل رفاقت بھی ہے جبکہ انہیں اچھابولنے والے،حاضردماغ،ہوشیاراور موقع محل کی مناسبت سے سوچنے اور بات کرنے کی صلاحیت رکھتے زیرک سیاستدان بھی ماناجاتاہے ایسے میں ان کی بات بے وزن نہیں ہوسکتی تاہم سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ انہوں نے پارٹی قیادت کو اس وقت کیوں تنقید کا نشانہ نہیں بنایا جب پارٹی قیادت ان کے فرزند کو وزارت اعلیٰ جیسے بڑے،ذمہ دار اور بااختیارعہدے سے نواز رہی تھی۔ پچھلے پانچ سالہ دور میں جب ان کے برخوردارمنصب اقتدار پر فائز تھے توانہوں نے اس وقت پارٹی قیادت کے فیصلوں پر انگلی اٹھانے کی جرات کیوں نہیں کی ،پچھلے عام انتخابات میں پارٹی کی جانب سے ان کے بیٹے امیرحیدرخان ہوتی کو قومی اور صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ ملتے وقت انہوں نے پارٹی فیصلے کو غلط کیوں نہیں کہا،آج اے این پی کی قیادت کو موردالزام ٹھرانے اور ان کے غلط فیصلوں اورناقص پالیسیوں کاروناروتے اعظم ہوتی بھی پچھلے پانچ سالہ دور میں کمیشن لینے اور مالی بے ق
اعدگیوں اوربے ضابطگیوں کے سنگین الزامات کی زد میں رہے تھے وہ الزامات درست تھے یا غلط یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا مگر ان کی وجہ سے عوامی اور سیاسی لحاظ سے اے این پی کی ساکھ بری طرح متاثرہورہی تھی اور بجائے نوٹس لینے اور حقائق جاننے کے اسفندیار ولی اور پارٹی کی دیگر قیادت ان کو نظراندازکرتی رہی اور یہ درحقیقت پارٹی قیادت کی غلطی تھی لیکن کیا اعظم ہوتی اس سے اتفاق کریں گے ؟اب جبکہ پارٹی نے اسفندیار ولی خان پر الزامات لگانے اور ورکرز کو بغاوت پر اکسانے پرشوکازنوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلبی کی ہے تو یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وہ شوکاز کاجواب دیتے بھی ہیں کہ نہیں اور اگر دیتے ہیں تو ان کا جواب کیا ہوگا کیا اے این پی ان کی وضاحت سے مطمئن ہوگی یا نہیں ،یہ بھی کہ اعظم خان ہوتی اے این پی کا حصہ رہیں گے یا مستقبل قریب میں نئی سیاسی صف بندی کی جانب گامزن نظرآئیں گے۔جبکہ سوالیہ نشان ان کے فرزند سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ ایم این اے امیرحیدرخان ہوتی کے مستقبل پر بھی ہے کہ آیا وہ والد کا ساتھ دیں گے یا پارٹی کا۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!