تازہ ترینکالم

عظیم تر پاکستان طلبہ کنونشن

ہرا یک مسلّمہ حقیقت ہے کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی نبیاد پر حاصل کیا گیا تھا۔تحریک پاکستان کے دوران لاکھوں اسلامیانِ ہند نے بے شمار قربانیاں دے کر محض اس لئے حاصل کیا تھا کہ ہم آزاد فضاؤں میں اسلا م کے سنہرے اُصولوں کے تابع زندگیاں بسر کریں گے۔یہ قربانیاں صرف زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کیلئے نہ دی گئی تھیں۔دنیاکی سب سے بڑی ہجرت کی گئی تھی۔حضرت علامہ محمد اقبال ،حضرت قائداعظم محمد علی جناح،مشائخ وعلما اہلسنت اور مشاہیرِ تحریک نے جوخواب دیکھا تھا وہ صرف علیحدہ خطّہ ارض نہ تھا۔بنارس سنی کانفرنس سے سے قبل1892ء میں پٹنہ میں عظیم الشان سنی کانفرنس منعقد کر کے ہندوکی شاطرانہ چال کو بھانپتے ہوئے ہندومسلم اتحاد کے طلسم کو توڑا اور واشگاف الفاظ میں دو قومی نظریہ پیش کیا ۔ہندومسلم اتحادکی مخالفت میں ملک گیر تحریک شروع کی۔
دو قومی نظریہ کے فروغ کیلئے علماء اہلسنت نے 19مارچ1925ء کو مرادآباد میں ملک گیر سیاسی ،مذہبی تنظیم سنی کانفرنس کی بنیاد رکھی ۔اس کے امیر سیّدپیر جماعت علی شاہ علی پوری اور ناظمِ اعلیٰ صدر الافاضل مولانا سیّد نعیم الدین مراد آبادی مقرر کیے گئے۔اس تنظیم نے دو قومی نظریہ کے فروغ اور قیامِ پاکستان کیلئے 1925ء سے لے کر 1946ء تک سات عظیم الشان سنی کانفرنسیں کیں ۔جس میں ہزاروں علماء و مشائخ اور لاکھوں عوامِ اہلسنّت شریک ہوئے تھے۔بنارس سنی کانفرنس میں پانچ ہزار علماء مشائخِ اہلسنّت اور ڈیڑھ عوام نے شرکت کرکے قیامِ پاکستان کا بھر پور مطالبہ کیا۔بلکہ مشائخ نے اعلان کیا کہ اگر خدانخواستہ حضرت قائد اعظم قیامِ پاکستان کے مطالبہ سے دستبردار بھی ہو جاتے ہیں تب بھی علماء مشائخ اور عوامِ اہلسنّت پاکستان حاصل کر کے رہیں گے۔
تحریکِ پاکستان میں حضرت قائداعظم کے شانہ بشانہ سفیرِ اسلام حضرت شاہ عبدالعلیم میرٹھی صدر الافاضل سیّد علامہ نعیم الدین مراد آبادی ،پیر صاحب بھرچونڈی شریف،پیر صاحب آف مانکی شریف،پیر صاحب آف بٹ خیلہ شریف،حضرت امیرِ ملت پیر سیّد جماعت علی شاہ علی پوری،محدثِ اعظم مولانا سردار احمد رحمتہ اللہ علیہ۔مفتی احمد یا ر خاں نعیمی۔علامہ ابوالحسنات قادری،سید ابو البرکات قادری،سید عارف اللہ شاہ میرٹھی نے دیگر اکابرین اہلسنت کے ہمراہ پورے بر صغیر بلکہ پوری دنیا کے دورے کرکے پاکستان کے قیام کیلئے رائے عامہ کو ہموارکیا۔
نہ جانے کتنے جوانوں کے سروں کی فصلیں کٹیں تھی۔کتنی بہنوں کا سہاگ اُجڑاتھا۔کتنی ماؤں کی گودیں ویران ہوئی تھیں اور کتنے بزرگوں نے جانیں قربان کی تھیں تب جا کر پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا۔مگرقیامِ پاکستان کے پہلے دن سے ہی اس کے خلاف سازشیں شروع ہو گئیں تھیں۔ہندوؤں نے آج تک اسے تسلیم ہی نہ کیا ہے۔غیروں کی سازشوں اور اپنوں کی غفلتوں نے پاکستان کو اس کی منزل نظامِ مصطفیﷺ سے دور کر دیا ہے۔دہشت گردی،بدامنی،تخریب کاری اور بم دھماکوں نے ہر محب وطن شہری کو شدیداضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔مساجد ،مدارس،خانقاہیں،مزاراتِ اولیاء،تعلیمی ادارے،لاری اڈے کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔بلوچستان میں آزاد بلوچستان ،سندھ میں سندھو دیش اور خیبر پختو نخواہ میں پاکستان میں توڑنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔روشنی کے شہر کراچی تو حالتِ جنگ میں ہے شر پسند عناصر جدید اسلحہ سے لیس ہو کر عام شہریوں سمیت حکومتی اہلکاروں کو شہید کر رہے ہیں۔اور راکٹ لانچرز اور بم دھماکوں میں حکومتی مشینری اور گاڑیوں کو تباہ کر رہے ہیں۔لیا ری کے المناک واقعات نے ملک کی جغرافیائی ونظریاتی سرحدوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔جس سے ہر محب وطن شہر ی شدیداضطراب کا شکار ہے۔حالات اس قدر خطر ناک اوردہشت گرد اتنے بے قابو ہو گئے ہیں کہ لیاری کے علاقہ کے اراکینِ اسمبلی اپنے گھروں میں نہیں جا سکتے۔شرپسندوں نے اُن پر بھی بم برسائے اور گولیاں چلائیں ماضی میں صوبہ خیبرپختونخواہ میں بھی دہشت گردوں نے صوبائی وزیر کے گھر پر حملہ کر کے اس کے بیٹے کو شہید کر دیا تھا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ دہشت گرد اپنی مدد آپ کے تحت سب کاروائیاں اور حملے کر رہے ہیں یا ان کی پشت پناہی کوئی ملک کر رہا ہے۔تو واضح ہو جائے گا کہ ان دہشت گردوں کی پشت پناہی وہی کر رہے ہیں جو اسلام کے ازلی وابدی دشمن ہیں اور وہ ہمسایہ ملک جس نے آج تک پاکستان کو تسلیم ہی نہ کیا جو کبھی دریاؤں پر ڈیم بنا کر پاکستان کے لہلہاتے اور سرسبزو شاداب کھیت کھلیان کو بنجر بناتا نظرآتا ہے تو کبھی کشمیر پر اپنے غاضبانہ تسلط کو مضبوط اور دیر پا کرنے کے لئے ظالمانہ فوجی کاروائیاں کرتا ہے۔کراچی کی بدامنی میں ’’را‘‘ اور’’موساد‘‘ اور بلیک واٹر کے تربیت یافتہ کمانڈو ملک بھر میں دہشت گردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں۔
بلوچستان میں حقوق کی آڑ میں آزاد بلوچستان کی سازشیں کرنے والے 231بلوچ سرداروں میں سے صرف تین ہیں جو بیرونِ ملک بیٹھ کر آزاد بلوچستان کا نعرہ لگاتے ہیں او ریہ تین بلوچ سردار بھارت کے نمک خوار ہیں۔جنہیں ہندوستانی حکومت پال کر پاک وطن کے خلاف سازشیں کرنے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔انہیں وطن دشمن اور ضمیرفروش سرداروں کی وجہ سے امریکی سینٹ میں بلوچستان حقوق کی قرار داداپیش ہوئی تھی۔جو در حقیقت پاکستان پر آنے والے وقت میں حملے کی گھناؤنی سازش ہے۔ان مایوس کن حالات میں جب کہ پاکستان کی سا لمیت،بقاء واستحکام،نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے خلاف عالمِ کفر متحد ہو کر پوری قوت سے سازشیں کر رہا ہے۔اور مسلم حکمران بھیگی بلی بن کر جی حضوری میں مصروف ہیں۔حکمران دفاع وطن کا فریضہ سر انجام دینے اور ملکی خزانہ بھرنے ،غربت وافلاس کا خاتمہ کرنے ،عوام کا معیارِ زندگی بلند کرنے،سادہ اور فنی تعلیم عام کرنے ،ملکی اداروں کو مضبوط کرنے اور عوام کو تحفظِ جان ومال فراہم کرنے کی بجائے اقرباء پروری ،ذاتی مفادات کے حصول اور وزراء کی فوج ظفر موج اکٹھی کر کے ذاتی خزانہ بنانے میں مصروف ہیں اور ملک کو دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ تو پاکستان بنانے والے علماء مشائخ کی فکر کی حقیقی وارث اور پاکستان کی سب سے بڑی طلباء تنظیم انجمن طلباء اسلام کی مرکزی مشاورت نے تنظیمی سیشن2012-13ء کو’’ عظیم تر پاکستان ‘‘سال کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔انجمن طلباء اسلام کے مرکزی صدر قائد طلباء سیّد جواد الحسن کاظمی سمیت مرکزی ،صوبائی عہدیداران ملک بھر میں انجمن طلباء اسلام کے زیرِ اہتمام عظیم تر پاکستان کانفرنسیں،سیمنارز،مذاکرے،مباحثے،ریلیاں منعقد کروانے کیلئے دورے کریں گے۔یونیورسٹیز،کالجز اور سکولز میں طلباء برادری کو دو قومی نظریہ کے اغراض ومقاصد سے آگاہی اور تحفظ کیلئے ماہانہ اور ہفتہ وار اجتماعات کئے جائیں علماء کرام ،خطباء،وکلاء،دانشوروں او رکالم نگاروں سے ملاقات کرکے ان سے مشاورت کی جائے گی کہ وہ اپنے خطباء اور تحریروں اور تقریروں میں عوام الناس کو دوقومی نظریہ کے حقیقی مقاصد سے روشناس کرائیں اور ملکی حالات میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیارکریں۔عوام کو پاکستان میں یہودو ہنود خصوصاً امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور اثرو رسوخ سے آگاہ کریں۔ہندوستان کی ثقافتی یلغار کے آگے بند باندھیں۔پاکستان کو حقیقی معنوں میں فلاحی اسلامی جمہوری پاکستان بنانے کیلئے کمر بستہ ہوجائیں۔
پاکستان بنایا تھا۔۔۔۔۔پاکستان بچائیں گے
عالمِ کفر نے باہم گٹھ جوڑ کر کے پاکستان کو کمزور کرکے ناکام ریاست بنانے کیلئے جو سازشیں تیار کی ہیں انہیں سازشوں میں سے سب سے بڑی سازش حضور نبی اکرم ﷺ کی کھلے عام توہین کرنے کیلئے گستاخانہ ’’فلم تیار‘‘کی۔اس گستاخانہ فلم کے خلاف پوراعالمِ اسلام سراپا احتجاج بن گیا۔احتجاج کرنے والے غیور مسلمانوں کی صفوں میں گستاخانہ ممالک کے ایجنٹوں نے گھس کر اسلامی ممالک کی املاک کا نقصان کر کے گھیر اؤ جلاؤ کر کے میڈیا کے ذریعے اس ناپاک جسارت کے خلاف اٹھنے والی بااثر او رپر زور تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔گستاخانہ فلم جیسی حرکات اور عالمِ کفر کی سازشوں کے تدارک وطنِ عزیز کے استحکام ،نظامِ مصطفیﷺ کے نفاذ ،مقام مصطفیﷺ کے تحفظ اور پاکستان کو مضبوط تر اور عظیم تر بنانے کیلئے انجمن طلباء اسلام تاریخی لیاقت باغ راولپنڈی میں ’’عظیم تر پاکستان طلبہ کنونشن‘‘12نومبر2012ء بروز پیر کو منعقد کر رہی ہے۔کنونشن کی مختلف نشسوں سے بانیانِ انجمن علماء،وکلاء،سیاسی،سماجی،صحافتی شخصیات پروفیسرز،سائنسدان اور مختلف طلباء تنظیموں کے قائدین ،عسکری ماہرین ،تجزیہ نگارخطابات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں  ن لیگ کے مسعود خان آزاد کشمیر کے صدر منتخب

عظیم تر بنائیں گے پیارے پاکستان کو
محبتِ رسول ؐ سے عظیم تر بنائیں گے
قوتِ قرآن سے عظیم تر بنائیں گے

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ: سٹم آف ہومیو پیتھی کی کامیابی اور ترقی کیلئے ہمہ وقت کو شاں ہیں . ڈاکٹر اعجاز انجم کھوکھر

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. pakistan me talba ka kirdar boht ahm he /therke e azadiye pakistan ho ya phr pakistan ki baka ka masla ho/talaba ne hr muskal dor mepakistan ki nazrayti or gografik sarhadno ki hafazat ki he .pakistani talaba janha be hno pakistan ki izzat ko carr cand lagtye hne

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker