بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

تندورچی کی گریجوائشن اور ہمارا تعلیمی نظام

آج میں نے ہفتہ رفتہ کے سماجی اوردیگر واقعات پر کالم کو سمیٹنا چاہا تو کافی دیر تک یہ تعین کرنے میں سوچتا رہا کہ کہاں اور کس سے آغاز کروں عجیب سی صورت حال کو ایک کالم میں یکجا کرنا عرق ریزی سے کم نہ تھا تاہم واقعات کا ذکر کر کے اپنی صحافتی ذمہ داری سے عہدہ برائ ہونے کی کوشش کروں گا۔گزشتہ ہفتہ کے دوران بہت سی خبریں ہمار ے سماجیات پر اثرانداز ہوئیں سب سے پہلے ایک ایسی خبر جس سے ہمارے باصلاحیت خزانے سے مجرمانہ غفلت عیاں ہوتی ہے اس کا تذکرہ پہلے کرتا ہوں۔ضلع حافظ آباد کے رہائشی محمد حسن نامی نوجوان جو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے اور حصولِ علم کے لئے تندور چی کا کام کرتا تھا اس نے حالیہ امتحان میں پہلی پوزیشن کے ساتھ گریجوائیشن کر کے علمی میدان میں حیرت انگیز مثال پیش کی ہے ۔اس نوجوان کی نمایاں کامیابی کی بنیاد اس کا جذبہ اور ہمت ہے جس نے آج اسے ممتاز کر دیا ہے ۔اگر منزل کا تعین سوچ و فکر میں یکسوئی،منصوبہ بندی اور ہمت و جذبہ ہو تو یقینا کامیابی قدم چومتی ہے۔بڑے بڑے نامی گرامی شخصیات کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو ان کی کامیابی کا راز یہی رہا۔جہاز ایجاد کرنے والے دونوں بھائی رائٹ برادرزکسی تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل نہ تھے مگر ان کی فکری قوت اس انتہا پر تھی کہ انہوں نے ایسی ایجاد کی جس سے آج انسانیت مستفید ہو رہی ہے۔نیوٹن نے بھی کسی یونیورسٹی سے گریجوائیشن نہیں کی تھی اس کا دیا ہوا فارمولا ہماری زندگیوں کو بدلنے میں معاون ثابت ہوا۔سمجھ میں یہ آیا کہ اگر فکری سمت درست ہو تو انسان بہت کچھ کر سکتا ہے۔آج ہمارے نوجوان اس فکری سمت سے دوری کا شکار ہوتے جارہے ہیں اس کی واضح وجوہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرتی کردار پستی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
سماجی نا ہمواری کا یہ عالم ہے کہ معاشی تنگدستی نے نانِ شبینہ کے حصول کے لئے آبادی کا بڑا حصہ متاثر کر رکھاہے اسی ماہ آذادکشمیر کوٹلی سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے میٹرک میں نمایاں پوزیشن حاصل کی جو کچرا چن چن کر روزی روٹی اور تعلیمی اخراجات پورے کرتا رہا۔جبکہ اس کے برعکس ہماری اشرافیہ کا یہ عالم ہے کہ ان کے بچے اعلیٰ اداروں میں پڑھنے کے باوجود نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر پا رہے۔افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جن اداروں سے نئی نسل پروان چڑھ رہی ہے ان کا نظام ِکار اس قدر بگڑا ہوا ہے کہ جہاں اساتذہ کا اپنا مستقبل محفوظ نہ ہو وہاں طالبِ علم کا کیا بنے گا۔مہنگا تعلیمی نظام عام شہری کی دسترس میں کہاں؟ہر سال نصابی کتب میں تبدیلی محض کرنسی مافیا کو نوازنے کے لئے اختیار کی جاتی ہے جبکہ کتب کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتیں ہوں تو ایک غریب انسان کیسے اپنے لخت جگر کو علم کے زیور سے مستفید کر سکتا ہے۔سرکاری تعلیمی اداروں میں ایک نادیدہ منظم مافیا ہے جو اس مجرمانہ غفلت کا ذمہ دار ہے۔جہاں استاد رشوت اور سفارش پر بھرتی ہوتے ہوں ،جہاں اساتذہ سیاسی چھتری کے سائے میں من پسند جائے تعیناتی اور اپنی اسامی کے بچائو کے لئے مجبور ہوں وہاں بہتری کی کیا توقعہ کی جا سکتی ہے ۔حالانکہ ہر گلی کوچے میں تعلیمی اداروں کا جال بچھا ہوا ہے مگر بہتر،پُر کشش اور معیاری تعلیم جو ہر شہری کی دسترس میں ہو کہیں نہیں ہے۔نظام ِ تعلیم میں اب بھی طبقاتی رجحان ہونا باعث تشویش امر ہے۔جہاں پرائمری،مڈل کے تعلیمی بورڈ اس لئے قائم کئے جائیں تاکہ ایک مخصوص طبقہ کو روز گار مل سکے مگر حصولِ تعلیم میں آسانی کے بجائے جوعوام پربوجھ بن جائے اورلاکھوں روپے غریب کی جیب سے لوٹنے کا عجب ذریعہ معاش ہمارے نظام کا حصہ ہو۔ایسے نظام تعلیم سے ٹیلینٹ کہاں ابھر سکتا ہے ۔قابلِ حیرت بات یہ ہے کہ ہر دونوں مذکورہ نوجوانوں کو کسی سطح پر ان کی کامیابی کی حوصلہ افزائی نہ ہونا ہمارے مردہ ضمیر کا منہ بولتا ثبوت ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں چائلڈ لیبر میں خوفناک حد تک اضافہ ہورہا ہے شرم کا مقام یہ ہے کہ چائلڈ لیبر اشرافیہ کے گھروں میں زیادہ پائی جا رہی ہے ۔
علمی رجحان کے فقدان میں ہمارا الیکٹرانک میڈیا بالخصوص فحاشی پر مبنی پروگرامز اور ممنوعہ ٹی وی چینلز بنیادی کردار رکھتے ہیں جس کی وجہ سے مادر پدر آذاد ماحول پروان چڑھ رہاہے۔اسی ہفتہ میں شکر گڑھ سے اطلاعات ہیں کہ ایک نوجوان نے شادی نہ کرانے پر اس بد بخت نے اپنے باپ کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا اور اسی نوعیت کا ایک واقعہ آذادکشمیر کے علاقہ ضلع ہٹیاں بالا میں ہوا جہاں بیٹے نے باپ کو ڈنڈوں سے ادھ موہ کر دیا قابل افسوس امر یہ ہے کہ حکمران جماعت کے مقامی راہنما نے باپ کے بجائے بیٹے کا ساتھ دیکر انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالی ۔جہاں عوامی نمائندوں کا یہ حال ہو کہ وہ اخلاق باختہ حرکات کی حوصلہ افزائی اور کسی کی کامیابی پر حوصلہ شکنی کا سبب بنیں تو پھر اصلاح احوال کون کرئے گا؟تعلیم پر حکومت خطیر رقم صرف کر رہی ہے مگر نظام ِ کار کی بہتری نہ ہونا اس بھاری رقم کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔اساتذہ اپنے رزلٹ کو بہتر بنانے کے لئے طلبائ کی ما پیٹ کر چھانٹی کرتے ہیں جس سے ہر سال لاکھوں بچے دل برداشتہ ہو کر تعلیمی اداروں سے بھاگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔یہ عمل بھی ایجوکیشن بیوروکریسی کے خود ساختہ قاعدوں ضابطوں کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی اداروں کو بزنس پوائنٹ بنانے کے بجائے روشن مستقبل کی درس گاہیں بنائی جائیں۔تعلیمی نصاب کو مساوی اور مستقل رکھا جائے،طلبائ پر مالی بوجھ بننے والے قاعدوں ضابطوں کو ختم کیا جائے،کتب کی قیمتوں پر 50فی صد سبسڈی دی جائے،داخلہ اور امتحانی فیسوں کو ختم کیا جائے تاکہ ہر شہری بآسانی امتحان میں شامل ہو سکے۔
پرائمری اور مڈل کے بورڈ ز کے نظام کو بہتربنایاجائے۔سب سے بنیادی توجہ اس پر مرکوز کی جائے کی اساتذہ کی بھرتی ،تبادلوں اور ترقیوں میں سیاسی عمل دخل ختم کر کے پیشہ ورانہ ماحول تشکیل دیا جائے۔ان اقدامات سے یقینا تعلیمی فروغ میں مدد مل سکے گی۔نیز ایسے طالب علموں کو بلا امتیازحکومت اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے خصوصی مراعات دے جو وسائل نہ ہونے کے باوجود بہتر کارگردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔یقینی طور پر موثر اقدامات سے شعبہ تعلیم پر مثبت اثرات پڑیں گے اور اس طرح آنے والی نسل خوشحال ہو سکے گی۔

یہ بھی پڑھیے :

2 Comments

  1. nice mamo ji
    education py aur lakhien,Mohsan of Hafizabad ko mubarak ho,Govt kahan hy? asy log azeem hien bt in ki Qadar nihien.,web site achi hy,i like very much
    Qaiser Mir 
    London

  2. very best coloum of u,this site is my favourit,Allah ap sab ko elmi dunya mien taraqi ata farmahy,ameen.
    Waseem Mir 
    Australia

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker