تازہ ترینذیشان انصاریکالم

بلدیاتی الیکشن

zeshan18 جولائی 2013کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے ایک فیصلے میں تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ 15 اگست2013 تک اپناا پنامقامی حکومتوں کا قانون منظور کریں اور 15 ستمبر2013تک مقامی حکومتوں کے انتخابات کروائیں۔ سپریم کورٹ کی مداخلت پر سندھ گورنمنٹ کا مقامی حکومتوں کا قانون 19 اگست2013 کو منظور کیا، پنجاب اسمبلی نے21 اگست، بلوچستان اسمبلی نے 30 اگست کو منظورکیا۔جبکہ ملک کے چوتھے صوبے خیبر پختونخواہ میں قانون کے مسودے پر کام جاری ہے۔ ملک کی تین صوبائی حکومتیں شروع دن سے جماعتی بنیادوں پربلدیاتی الیکشن کروانے کے حق میں ہے مگر پاکستان کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)جماعتی بلدیاتی انتخابات کی مخالفت کرتی آرہی ہے، جبکہ اسوقت مرکز اور صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے۔پنجاب گورنمنٹ نے اکثریت کی بنیاد پرپنجاب اسمبلی سے غیر جماعتی بلدیاتی انتخابات کا بل تو پاس کروالیا تھا مگر پاکستان تحریک انصاف نے قانونی جنگ لڑتے ہوئے پنجاب ہائیکورٹ میں جماعتی بلدیاتی الیکشن کی پٹیشن دائرہ کی ہوئی تھی۔ جس کا فیصلہ پاکستان تحریک انصاف کے حق میں آگیا ہے۔ اور میاں شہباز شریف اور کابینہ نے بلدیاتی الیکشن جماعتی بنیادوں پر کروانے کا بل بھی پاس کردیا ہے۔
پوری دنیا میں جمہوری ممالک جمہوری سسٹم کو تسلسل اور مضبوط کرنے کیلئے بلدیاتی نظام کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں، بلدیاتی نظام عام لوگوں کے مسائل سے تعلق رکھتا ہے۔ گلی۔۔محلے اوریونین کونسل کے مسائل مقامی سطع پر ہی حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جس سے گلی ۔۔محلے میں تعمیر و ترقی کا عمل شروع ہوجاتا ہے، عوامی نمائندے ووٹروں کی خوشی وغمی میں شامل ہوتے ہیں۔بد قسمتی سے شروع دن سے پاکستان میں بلدیاتی انتخابات کے عمل کوجمہوری دور حکومتوں میں ترقی دینے کیلئے کوشش نہیں کی گئی، مگر جب بھی فوجی آمریت پاکستان میں تسلط ہوئی تو انہوں نے بلدیاتی نظام کیلئے راہ ہموار کی۔
پاکستان میں سب سے پہلے جنرل ایوب خان نے بلدیاتی انتخاب کروائے، انہوں نے پورے ملک سے 80 ہزار نمائندوں کا انتخاب کروایا۔ جن میں سے 40ہزار مشرقی پاکستان سے تعلق رکھتے تھے اور 40ہزارمغربی پاکستان سے ۔ ایوب کے اس نظام سے پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں بھی تعمیرو ترقی کا عمل شروع ہوا۔ عوام میں اپنے حقوق کے حصول کیلئے شعور بیدار ہوا، عوام کا نمائندہ بھی اپنے ووٹروں کی خوشی غمی میں شریک ہوتا۔ مگر ایوب خان کا بلدیاتی نظام اس وقت کرپشن اور عدم استحکام کا شکار ہوا، جب ان کو ارکان اسمبلی کے انتخاب کے اختیارات سے نوازہ گیا۔ پھر عوام نے دیکھا کہ B-D ممبران نے 500اورہزار روپے میں اپنے ووٹ کو فروخت کیا۔اسی کرپشن کی بدولت مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کو جنرل ایوب سے صدارتی انتخاب میں شکست کا سامناکرنا پڑا۔
جنرل ایوب کے اقتدار کے بعدجنرل یحییٰ برسراقتدار آیا، مگر اس کا دورانیہ مختصر تھا اور پاکستان کی تقسیم پر اقتدار کا خاتمہ ہوا۔ جنرلیحییٰ جنگ و سیاسی عدم استحکام کی بدولت بلدیاتی انتخابات نہ کرواسکا۔
جنرلیحییٰ کے بعدپی پی پی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو اقتدار میں آیا ، مگر وہ بھی سابقہ جمہوری حکمرانوں کی طرح بلدیاتی انتخابات نہ کرواسکا، اوربعد میں آنے والی پی پی پی حکومتوں نے بھی اسی روایت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ جنرل ضیاء الحق نے الٹا اور برسر اقتدار آکر3 مرتبہ بلدیاتی انتخابات کروائے۔ تسلسل سے انتخابی عمل کی بدولت بلدیاتی ادارے مستحکم ہوئے اور عوام میں دوبار شعور کی لہربیدار ہوئی۔ضیاء الحق کے بلدیاتی عمل سے پاکستان کی سیاست میں نئی قیادت میسر آئی، جنہوں نے کونسلر کی سطع سے عوام کی خدمت کا سفر شروع کیا ، اور آج پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ڈاکٹرفاروق ستار رہنمامتحدہ قوقی موومنٹ ضیاء الحق دور میں میئر کراچی منتخب ہوئے، موجودہ اپوزیشن لیڈرسید خورشید علی شاہ نے بھی ڈپٹی میئر سکھر کے الیکشن میں حصہ لیاتھا، مگر بدقسمتی سے وہ اس وقت تو کامیاب نہیں ہوسکے،مگر اب وہ ایک کامیاب سیاست دان ہے۔ سابقہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وائس چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کا آغاز سیاست بھی بلدیاتی انتخابات سے ہوا، وہ1987میں چیئرمین ملتان ضلع کونسل بنے، بعد میں مشرف دور میں ضلع ناظم ملتان بھی رہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے موجودہ رکن قومی اسمبلی آفتاب شیخ نے اٹک میونسپل کمیٹی کی کامیاب ہیٹرک مکمل کی تھی۔ مگر7 نومبرکو انہیں لیڈروں نے ایک قرارداد کے ذرائع بلدیاتی عمل میں رکاوٹ پیدا کی۔ ان کے ساتھ طارق بشیر چیمہ۔۔محمود اچکزئی اور برجیس طاہر وغیرہ بھی شامل تھے ۔ ممکن ہے یہ قائدین نئی قیادت کی آمد کو پسند نہ کرتے ہو؟؟
جنرل ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے بعدپی پی پی اور پی ایم ایل (نواز) 2دودفعہ اقتدار میںآئے مگر انہوں نے کبھی بلدیاتی حکومتوں کے نظام میں دلچسپی نہیں لی۔
2001 میں ملک میں چوتھا آمر جنرل پرویز مشرف اقتدار میںآیا تو اس نے دوبارہ سے بلدیاتی انتخابی عمل کا آغاز کیا۔ اس نظام کے خالق لیفٹینٹ جنرل(ریٹائرڈ)تنویر نقوی تھے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کا خاتمہ کرکے ضلع سطع پر ضلع ناظم ، نائب ضلع ناظم اور ضلعی کونسل، تحصیل کی سطع چیئرمین و نائب چیئرمین کی جگہ پر تحصیل ناظم ، تحصیل نائب ناظم اور تحصیل کونسل ، یونین کونسل کی سطع پر ناظم ، نائب ناظم اور یونین کونسل بنائے۔سابقہ بلدیاتی انتخابات کی پیروی کرتے ہوئے مشرف نے بھی غیرجماعتی انتخابات کروائے۔ انتخابی عمل میں ٹرن آوٹ کے اضافہ کیلئے پہلی بار ووٹر کی عمر 21 سال سے کم کرکے 18سال کردی گئی۔اور عوام نے براہ راست ووٹوں کے ذریعے جنرل کونسلر، لیبر کونسلر، اقلیتی کونسلر، خواتین کونسلراور نائب ناظم اور ناظم کاانتخاب کیا۔ ہر یونین کونسل کی سطع پرایک سیکرٹریٹ بھی قائم کیا گیا تھا۔جو مقامی سطع پر پیدائش۔۔وفات۔۔نکاح کا اندراج کرتا، مقامی سطع پرواقع ہونے والے لڑائی جھگڑے کے معاملات کو مصالحتی کمیٹی کے ذرائع حل کرواتا۔
عوام کے منتخب نمائندے بعد میں تحصیل وضلع کونسل کے ارکان اورتحصیل و ضلع ناظم و نائب ناظم کا انتخاب عمل میں لاتے۔ناظم مقامی سطع پرٹیکسوں کے نفاذکے اختیارات رکھتے تھے۔ پرویز مشرف حکومت نے اگست اور اکتوبر2005 کے عرصہ میں دوسری مرتبہ بھی انتخابات کروائے، جنہوں نے اپنی مدت 2009میں مکمل کی۔
پرویز مشرف کے بلدیاتی سسٹم کی کامیابی سے عوام کے دلوں میں پرویز مشرف کیلئے محبت کی ایک لہر پیدا ہوگئی تھی۔کیونکہ پرویز مشرف نے اقتدار پارلیمنٹ سے نکال کرغریب عوام کو منتقل کردیا تھا۔ عوام ہر وقت اپنے نمائندوں کے رابطے میں رہتے اور اپنی خوشی غمی میں اپنے نمائندوں کو دعوت دیتے۔ ملک کے بیشتر ضلعوں نے تعمیراتی دنیا میں بیشمار ترقی کی۔ مصطفی کمال نے کراچی کوپارکوں اور روشنوں کا شہر بنادیا تھا۔ عوام کو صاف پانی کی فراہمی کیلئے انتظامات کیے۔
ایک اندازے کے مطابق آئندہ الیکشن میں پورے پاکستان سے تقریبا7 کروڑسے زیادہ ووٹر اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے۔ جن میں سے 34 لاکھ70 ہزار ووٹر صوبہ بلوچستان سے، ایک کروڑ90 لاکھ ووٹر صوبہ سندہ سے اور صوبہ پنجاب سے 4 کروڑ98 لاکھ ووٹر ہوں گے۔7 کڑورووٹر کیلئے تقریبا65 ہزار سے زیادہ پولنگ اسٹیشن اور22 لاکھ سے زیادہ سٹیمپ پیڈدرکار ہونگے۔
گذشتہ دنوں الیکشن کمیشن آف پاکستان کا اجلاس زیر صدارت قائم مقام چیف الیکشن کمشنر ہوا، جس میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے قانون میں سقم ہے ، جما عتی الیکشن کی وجہ سے سیاسی جما عتوں کے نشانات بھی انتخابی نشانات میں شامل کرنے پڑئے گے، پہلے صرف 100 غیر جماعتی نشانات ہی شامل تھے۔ مزیدپنجاب کے امیدواروں کے فارموں میں ختم نبوت کے متعلق حلف کا خانہ بھی شامل نہیں۔ یہ خانہ بھی شامل کرنا ضروری ہے۔ سندھ میں بھی تیاریاں مکمل نہیں، وہان بیلٹ پیپرز کی چھپائی کیلئے پیپر ہی میسر نہیں۔ مزید الیکشن کمیشن آف پاکستان نے امیدواروں کی رہنمائی کیلئے کوئی سسٹم نہیں بنایا، ناتجربہ کار سرکاری آفسران کی بدولت امیدواروں کی لمبی لمبی لائنیں لگی ہوئی تھی۔
ان تمام وجوہات کی وجہ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان، پارلیمنٹ میں موجود جماعتیں، چیئرمین نادرااور ایم ڈی پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان نے پنجاب میں 7 دسمبرکو بلدیاتی انتخابات منعقد نہ کرنے کے مطالبات کئے تھے۔جب ان کا موقف سنا گیا توسپریم کورٹ نے ان کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے معاملہ الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومتوں پر چھوڑ دیا۔قائم مقام چیف الیکشن کمیشن آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے چاروں صوبائی سیکرٹریوں ، چیئرمین نادرا، ایم ڈی پرنٹنگ کارپوریشن آف پاکستان اور دیگر متعلقہ اداروں کے احکام کا 19 نومبر کواجلاس منعقد کرکے بلدیاتی انتخابات کا واضع شیڈول جاری کردیا۔ صوبہ پنجاب میں انتخابات 30 جنوری، خیبر پختونخواہ ، اسلام آباد اور کنٹونمٹ بورڈزکے انتخابات فروری میں ہوں گے۔اب دو صوبوں کیلئے70 لاکھ نامزدگی فارم چھاپے جائیں گے، 10 لاکھ صوبہ سندہ کیلئے اور 60 لاکھ پنجاب کیلئے۔ اسی طرح دونوں صوبوں کیلئے مجموعی طور پر11 کروڑبیلٹ پیپر چھاپے جائیں گے ،صوبہ سندہ کیلئے مقناطیسی سیاہی کے10لاکھ پیڈ اور1لاکھ25 ہزارسیاہی کی بوتلیں اور صوبہ پنجاب کیلئے مقناطیسی سیاہی کے15لاکھ پیڈ اور3لاکھ سیاہی کی بوتلیں مہیا کی جائے گی۔
قارئین عوامی رائے کے مطابق صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں سیاسی استحکام کیلئے تسلسل کے ساتھ بلدیاتی انتخابی عمل جاری رکھیں، اور کامیاب امیدواروں کے اختیارات کی راہ میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔ ممبران اسمبلی کو صرف اور صرف قانون سازی کی حد تک استعمال کریں، ترقیاتی کام کی ذمہ داری بلدیاتی نمائندوں کے سپرد کریں، اور بلدیاتی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ میرٹ کی بنیاد پرسیاسی دشمنی سے بالا ہوکرعلاقہ کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں۔
امید ہے جماعتی بنیادوں پر منتخب ہونے والے کونسلر اور چیئرمین اپنا قیمتی ووٹ لاکھوں میں فروخت نہیں کریں گے۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button