ایڈیٹر کے قلم سےتازہ ترینکالم

باپ اولاد کا قیمتی سرمایہ ہے

AQEEL LOGOآج تک میں نے دیکھا اور سنا ہے کہ زیادہ تر لوگ ماں کو ہی اہمیت دیتے ہیں اور باپ کا کوئی نام نہیں لیتا جہاں ماں کے قدموں تلے اللہ نے جنت رکھی ہے وہاں باپ کو جنت کا دروازہ بھی بنایا ہے اور آپ سب جانتے ہیں جب تک دروازہ نہ کھلے آپ گھر میں بھی داخل نہیں ہو سکتے۔ جہاں ماں کی اہمیت ہے وہاں ’’باپ کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کہ ماں کا‘‘ باپ کا سب سے بڑا حق جو ہم آپ کوئی بھی کبھی بھی نہیں چکا سکتے وہ یہ کہ جب ہم آپ چھوٹے بچے ہوا کرتے تھے تب وہ دھوپ گرمی میں ہمارے لئے روزی کما کر لاتا اور ہم جو چیز مانگتے وہ پورا کرتا۔
ہماری روز با روزنو جوان نسل خراب ہو رہی ہے آپ نے دیکھا ہوگا کہ کئی جوان ایسے ہوتے ہیں جو شادی کے بعد ماں باپ کو ایک بوجھ سمجھتے ہیں وہ اپنی بیوی کے حکم پر ماں اور باپ دنوں کو گھر سے نکلنے پر مجبور کردیتے ہیں۔ایس لوگ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اس اکیلے باپ نے ان سب کو پال پوس کر بڑا کیا حتیٰ کہ ان کی شادی کی ۔ کیا یہ شادی اس دن کے لیے کی تھی کہ جب بہو گھر میں آئے گی تو ان کو (ساس سسر) گھر سے نکال کر باہر کھڑا کردے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک باپ چاربچوں کو پال سکتا ہے مگر چار بچے ایک ماں باپ کو پال نہیں سکتے ۔ایسے لوگوں کوسوچنا چاہیے کہ آج ہم اپنے والدین کے ساتھ جو سلوک کر رہے ہیں وہ کل کو ہمارے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔
یاد رکھیں اگرہمارے والدین ہم سے ناراض ہوکر اس دنیا سے کوچ کرگئے توہم دنیا میں تو ذلیل ہونگے ہی مگر آخرت بھی نہیں ملیگی .اس لئے اپنے والدین کی قدر کریں .بیویاں دوست سب کچھ مل جاتے ہیں لیکن والدین دوبارہ نہیں ملیگے ۔
انگریز ویسے تو کوئی نہ کوئی دن کسی نہ کسی نام سے مناتے رہتے ہیں،کبھی محبت کا عالمی دن توکبھی درختوں کا عالمی دن، کبھی دریاؤں کا اور کبھی سمندروں کا ۔ابھی پچھلے دنوں ماں کا عالمی دن منایا گیا اور اب 21جون کو باپ کا عالمی دن منایا جارہا ہے ۔ انگریزوں کے لیے یا غیر مسلموں کے لیے یہ دن منانا شاید اچھا ہوکیونکہ اس دن کے بہانے وہ لوگ ایک دن کے لیے اپنے ماں باپ سے دومیٹھے الفاظ بول لیتے ہیں اور انکے ساتھ ایک دن گزار لیتے ہیں۔ ویسے تو یہ لوگ والدین کو اپنے ساتھ نہیں رکھتے ان کے لیے علیحدہ اولڈ ہاؤس بنائے ہوتے ہیں جہاں پر بوڑھے لوگوں کو رکھا جاتا ہے مگر مسلمان کیا سوچ کر یہ دن مناتے ہیں؟اسلام نے تو ماں باپ کے بارے میں جو حکم دیا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ قرآن پاک میں حکم دیا گیا ہے۔
وقضی ربکالاتعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا ۔
’’تیرے پروردگار کا فیصلہ یہ ہے کہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو‘‘۔
ایک جگہ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔اناشکرلی ولوالدیک الی المصیر۔
"میرا اور اپنے والدین کا شکر بجالاؤ تمہاری بازگشت میری طرف ہے”۔
اسلام تو بوڑھے والدین کو گھر نکالنا تو دور ان سے اُف تک نہ بولنے کا حکم دیتا ہے۔ پھر ہمارے لیے تو ہردن ماں باپ سے محبت کا دن ہوتا ہے۔
ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم انگریزوں کی نقل بہت جلد کرتے ہیں۔ان کا منایا جانے والاد ن بغیر سوچے سمجھے ہم بھی منانا شروع کردیتے ہیں۔ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس کا اسلام پر کیا اثر پڑے گا؟ماں یا باپ کا عالمی دن کوئی حدیث یا قرآن سے ثابت نہیں ہو ا بلکہ یہ انگریزوں کی ایجاد ہے۔
امریکہ میں بیسویں صدی کے اوائل میں ماؤں کے عالمی دن کی کامیابی کے بعد والد کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اس یوم کو منانے کا سلسلہ شروع ہوا تاہم اس کو عالمی سطح پر مقبولیت 1966ء میں اس وقت ملنا شروع ہوئی جب امریکی صدر لنڈن جونسن نے جون کے تیسرے اتوار کو فارد ڈے قرار دیا جبکہ 1972ء میں اسے امریکی قومی تعطیل قرار دیا گیا جس کے بعد سے ہر برس جون کا تیسرا اتوار دنیا کے اٹھاون ممالک میں فادرز ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔
اگرچہ اس موقع پر والد کے ساتھ الفت ومحبت اور ان کی خدمت کے جذبے کو بڑھانے کے عزم کو بھی دہرایا جاتا ہے۔ لیکن جتنے جوش و خروش سے دنیا بھر میں مدرز ڈے منایا جاتا ہے،اور جس شدت سے بچے ماں کے دن کا انتظار کرتے ہیں اور جیسے تحائف اس دن اولاد کی جانب سے والدہ کو ملتے ہیں وہ انتظار ، ویسا جوش و خروش اور اًس طرح کے تحائف بہت کم باپوں کے حصے میں آتے ہیں، اس میں بھی بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیاں زیادہ محبت کا اظہار کرکے اس دن کو مناتی ہیں۔
ماں ہو یا باپ اسلام میں دونوں کا درجہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ایک الگ فطرت ہے کہ بیٹیاں باپ کو اور بیٹے ماں کو زیادہ پیار کرتے ہیں۔ انسان اپنے والد اور والدہ کی جتنی عزت کرتا ہے اْسی نسبت سے وہ عزت اْس کے خالق کی عزت بھی شمار ہوتی ہے۔ جوشخص اْن کی عزت نہیں کرتا وہ گویااللہ(جل جلالہ‘) کی بھی عزت اور احترام نہیں کرتا۔جو لوگ والدین کی قدر سے آگاہ ہیں اور اْنہیں حق تعالیٰ کی رحمت تک پہنچنے کا وسیلہ سمجھتے ہیں وہ اس دنیا میں بھی اورآخرت میں بھی سب سے زیادہ خوش قسمت انسانوں میں شمار ہوتے ہیں۔اور جو لوگ اْن کی دل آزاری کر کے اْن کی زندگیوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں وہ ایسے بدبخت انسان ہیں جنہیں دربدر اور ذلیل ہونے کے لئیے نامزد کیا جا چکا ہے۔
دعا ہے کہ ہم سب کو اللہ تعالیٰ ماں باپ کی خدمت کرنے کی توفیق دے اور جن لوگوں کے ماں باپ دنیا سے رخصت ہوگئے اللہ ان کے درجات بلندکرے اور ان کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ آمین

 

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!