پاکستان

سپریم کورٹ نے بابر اعوان کی فرد جرم کے مقدمے میں التوائ کی درخواست منظور کرلی

اسلام آباد﴿بیورو رپورٹ﴾ سپریم کورٹ نے بابر اعوان کے خلاف توہین عدالت مقدمہ کی سماعت دو اپریل تک ملتوی کردی ہے منگل کے روز بابر اعوان پر عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کی جانی تھی مقدمہ کی سماعت جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس محمد اطہر سعید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی. کیس کی سماعت کے شروع ہونے پر بابر اعوان نے روسٹروم پر آکر عدالت سے درخواست کی کہ ان کے وکیل لاہور میں ہیں ، اور ان کو چند دنوں کے لئے بیرون ملک جانا ہے، جس کی وجہ سے مقدمہ کی سماعت ملتوی کی جائے، جس پر عدالت نے ان کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ کی سماعت 2 اپریل تک ملتوی کردی۔ منگل کے روز سپریم کورٹ کے جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس اطہر سعید پر مشتمل دو رکنی بنچ نے مقدمے کی کارروائی شروع کی تو بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ میرا وکیل ایس ایم ظفر مصروف ہیں لہذا کارروائی ملتوی کی جائے  واضح رہے کہ یکم دسمبر دو ہزار گیارہ کو سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ کے میمو گیٹ پردیے گئے ابتدائی حکم کے بعد بابر اعوان نے تین وفاقی وزرا کے ہمراہ پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس کی جس پرانہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا۔ تیرہ جنوری کو طلبی پر بابراعوان پیش نہ ہوئے تو کیس کی سماعت کرنے والے دو رکنی بینچ نے انہیں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا، اس روز بھی بابر اعوان نے سپریم کورٹ کے احاطے میں گفتگو کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "نوٹس ملیا ککھ نہ ہلیا”، عدالت عظمی نے اس کا بھی نوٹس لے لیا اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں ایک دوسرے بینچ نے ابتدائی سماعت کے بعد ان کی وکالت کا لائسنس معطل کر دیا۔ اس کیس کی کارروائی بھی ابھی زیر التوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  آرمی چیف راحیل شریف کا خیبرپختونخواہ میں زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا فضائی دورہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker