تازہ ترینکالم

’’بچہ تو غیر سیاسی تھا‘‘

shahzad rajaپاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں دہشت گردوں ، انتہائی خطر ناگ مجرموں کو سزا دینے کے لئے قانون سازی کے لئے آل پارٹیز کانفرنس بلانا پڑتی ہے جبکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے تو یہاں قانون سازی کے لئے اسلام کا بنا بنایا آئین قرآن و حدیث کی شکل میں سامنے ہے تو پھر دہشت گردوں اور خطر ناک مجرموں کو سزا دینے کے لئے قانون سازی کرنے کے واسطے آل پارٹیز کانفرنس کیوں بلانا پڑتی ہے ؟ پشاور سکول سانحہ کے بعد سے اب تک حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس ٹورنامنٹ کا آغاز کر رکھا ہے اور ہر دوسرے تیسرے روز آل پارٹیز کانفرنس کا میچ منعقد ہوتا ہے اور پھر اس کے ساتھ اسمبلی اجلاس کا کھیل بھی شروع ہو گیا ہے ۔ اتنے حولناک دہشت گردی کے واقعات رونما ہونے کے بعد بھی دہشت گردی پھیلانے والوں کو سزا دینے کی بجائے بیان کردہ کھیل کیوں کھیلنے کی ضرورت پڑ رہی رہے ؟ شاید ہمارے ملک میں بسنے والے سیاستدان ملک کے مفاد کی خاطر سیاست نہیں کرتے بلکہ اپنے مفادات کے لئے اپنی طاقت بنانے کے لئے خود اپنی ریاست کے وزیر اعظم بننے کے لئے سیاست کرتے ہیں شاید اپنے مفادات پورے کرنے کے لئے یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں ان کے اپنے حلقے کی ایک ریاست بن جائے اور وہ اس ریاست کے خود وزیر اعظم ہوں ۔ حالیہ جاری آل پارٹیز کانفرنسوں میں ایک کانفرنس میں ایک بچہ بھی آگیا جس نے خواہش ظاہر کی کہ وہ کانفرنس میں شریک تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ ایک تصویر بنوانا چاہتا ہے ۔ اُس بچے نے اس بات کو بالائے طاق رکھا کہ عمران خان میرے بڑے دادا اور چھوٹے دادا کا سیاسی حریف ہے ۔ ایک سیاسی بیک گراؤنڈ ارکھنے والے خاندان سے جڑا ہوا بچہ اپنے خاندان کے سیاسی حریف کے ساتھ تصویر بنوانا کیوں چاہتا تھا ؟ کیوں کہ وہ بچہ اپنے خاندان کی طرح سیاسی مفاد نہیں رکھتا تھا کیوں کہ ’’بچے تو غیر سیاسی ہوتے ہیں ‘‘ خدا را ہمارے سیاستدان اپنے مفادات کو ایک طرف رکھ کر ایک ہو جائیں تو پھر حکومتِ وقت ان دہشت گردوں ، خطر ناک مجرموں کوسزا دینے کے لئے نہ تو کانفرنس کا کھیل کھیلنے کی ضرورت آئے گی اور نہ ہی اجلاس اجلاس کھیلنا پڑے گا۔
صاحبو ! ان سیاستدانوں کے اپنے مفادات ہونے کی وجہ سے حکومتِ وقت کوہر نئے آنے والے چیلنج سے نمٹنے کے لئے آل پارٹیز کانفرنسیں اور اسمبلی کیاجلاس بلانے پڑتے ہیں اور پھر ان کانفرنوں اور اجلاسوں میں جو اخراجات پیش آتے ہیں وہ قومی خزانے سے ادا ہوتے ہیں جو کہ ہم نادان عوام سے خون پسینہ بہانے کے بعد حاصل ہونے والی آمدنی میں سے ٹیکس کی مد میں جمع ہوتے ہیں ۔ایک یہ ہمارے حکمران اور سیاستدان ہیں جو آل پارٹیز کانفرنس اور اسمبلی اجلاسوں میں ریفریشمنٹ کے نام سے قومی خزانے پر بھاری ثابت ہوتے ہیں اور ایک ہمارے بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ تھے ، پاکستان کی پہلی کابینہ کا اجلاس جاری تھا اس اجلاس میں قائدِ اعظمؒ بھی موجود تھے اے ڈی سی گُل حسین نے قائدِ اعظمؒ نے سے پوچھا ’’سر، اجلاس میں چائے پیش کی جائے یا کافی ؟‘‘قائدِ اعظم ؒ نے چونک کر سر اٹھا یا اور فرمایا ’’یہ لوگ گھروں سے چائے کافی پی کر نہیں آئے ؟‘‘اے ڈی سی گھبرا گیا ۔۔۔۔ قائدِ اعظم ؒ نے فرمایا ’’ جس وزیر نے چائے کافی پینی ہے وہ گھر سے پی کے آئے یا پھر گھر واپس جا کر پیئے ۔قوم کا پیسہ قوم کے لئے ہے وزیروں کے لئے نہیں ‘‘
صاحبو! ہمارے وقت کے حکمرانوں کو کسی بھی در پیش سنگین قومی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ، کسی بھی ضرورت کے قانون سازی کے لئے یہ آل پارٹیز کانفرنس یا بڑے بڑے اجلاس کیوں بلوانا پڑتے ہیں جب ہم نادان عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے ان حکمرانوں کو ایوانوں میں پہنچایا ہے اس لئے کہ یہ لوگ حکومت میں آ کر ملک کے اہم مسائل اور عوام کی تکالیف کو دور کریں اس کے لئے اگر ان کو اپنی قانون کی کتاب میں کوئی تبدیلی عوام اور ملک کی خاطر اسلامی اصولوں کے مطابق کرنی پڑتی ہے تو کر کے عوام کو خوش رکھیں اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کریں مگر یہ کیا کہ عوام کی ووٹ حاصل کر کے اتنا مینڈیٹ بھی لیا اور قانون سازی کے لئے پھر کانفرنسوں کے کھیک کا ٹورنامنٹ اوراجلاس اجلاس کا کھیل کیوں ؟ مجھے تو ان سب کی وجوہات جو سمجھ میں آتی ہیں وہ اس لطیفے سے آتی ہے جو کہ میرے ایک عزیز نے بذریعہ موبائل میسج کے مجھ سے شیئر کیا آپ صاحبان بھی اس لطیفہ کا مزہ لیں اور حکومت کے آل پارٹیز کانفرنس ٹورنا منٹ اور اسمبلی اجلاس کے کھیل کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔’’ایک استاد نے اپنی کلاس کے بچوں سے سوال کیا کان سا پرندہ سب سے تیز اڑتا ہے ؟ ایک بچے نے جواب دیا ’’ہاتھی‘‘ استاد نے کہا نالائق ، کل اپنے باپ کو ساتھ لے کر آنا ، کیا کام کرتا ہے تمہارا باپ ؟ بچے نے جواب میں کہا کہ میرے ابو ایک طاقتور سیاسی جماعت کے اپنے علاقہ میں اہم ذمہ داری نبھاتے ہیں ، استاد نے بوکھلاتے ہوئے کہا ہاں ہاں شاباش بیٹا ہاتھی ہی سب سے تیز اڑتا ہے ، ابھی کل ہی ہمارے گھر کی دیوار پر تین ہاتھی اڑتے ہوئے آکر بیٹھے تھے ‘‘ صاحبو ! سمجھ تو آہی گئی ہو گی آپ لوگوں کو کہ حکومتِ قت کیوں مجبور ہے اوپر بیان کردہ کاموں کے لئے ، اگر نہیں سمجھ آئی تو پھر کبھی اپنے اگلے کالم میں ضرور سمجھانے کی کوشش کروں گا ۔

یہ بھی پڑھیں  اپوزیشن لیڈر کا سپیکر قومی اسمبلی کو خط

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker