امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

والدین بچوں کی تعلیم وتربیت پرتوجہ دیں

imtiaz shakirعلم دنیا کی سب سے بڑی اورخوبصورت دولت ہے ۔علم کے حصول کے لیے جتنی بھی محنت کی جائے کم ہے اورمیری نظر میں انسان جتنا بھی علم حاصل کرلے کم ہے ۔بچوں کے لیے علم کے حصول میں آسانیاں پیداکرنا ہمارا فرض بھی ہے اور اہم ترین ضرورت بھی ۔یہ بات تو میں پہلے دو مضمونوں میں بھی کہہ چکاہوں کہ بچے وقت مانگتے ۔آج میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بچے توجہ بھی مانگتے ہیں۔آج بات کروں گا بچوں کی تعلیم و تربیت کے موضوع پر تواگروالدین اور اساتذہ اکرام دوران تعلیم وتربیت بچوں کوتوجہ دیں تو بچوں کے لئے تعلیمی مشکلات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے ۔ سب سے پہلے دیکھنے کی بات یہ کہ کیا گھر کا ماحول تو ایسا نہیں جس کی وجہ سے بچے پریشان رہتے ہیں ۔کیا بچے والدین کے آپس میں غلط رویوں کی بھینٹ تو نہیں چڑھ رہے والدین کی بلاوجہ ڈانٹ ڈپٹ ،مار پیٹ یا ضرورت سے زیادہ سختی کی وجہ سے بچے خوف میں مبتلاتو نہیں ہورہے ۔اس طرح کے حالات میں بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے ۔اس طرح کے مسائل اکثر اساتذہ اور والدین کی سمجھ میں نہیں آتے اوراُلجھن اور زیادہ بڑھتی جاتی ہے ایسے میں والدین اور اُساتذہ کوآپس میں رابطہ رکھنا چاہئے تاکہ مل جل کر بچوں کی مشکلات کو سمجھا اور دور کیاجاسکے ورنہ غلط ماحول اور خوف بچوں کی فطری صلاحیتوں کو تباہ وبرباد کرکے خوداعتمادی کا فقدان پیداکردیتے ہیں۔اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بچہ کھیلتے وقت خوش و خرم (فریش) رہتا ہے لیکن جب پڑھنے کا وقت ہوتا تو وہ سردرد اور تھکاوٹ کی شکایات کرتا ہے ۔اگر ایسا ہو تو اساتذہ اور والدین کوبچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونماکا بغور جائزہ لینا چاہئے اور بچے کی مشکلات کو پیار سے حل کرنا چاہئے ۔ ناکہ بچے کی نیٹ پر شک کرکے مار پیٹ کرنی چاہیے۔یہ بات تہہ ہے کہ ہر گھر میں ایک جیسی سہولتیں موجودنہیں ہوتیں ٹھیک اسی طرح ہرگھر کی مشکلات بھی مختلف ہوتیں ہیں ۔غریب کے گھر میں دور جدید میں ایجادہونے والی مہنگی ترین چیزیں کم ہی ہوتی ہیں لیکن امیر آدمی کے گھر میں بہت سی ایسی چیزیں موجود ہوتی ہیں جنہیں اگر بچے حد سے زیادہ استعمال کریں تو بھی ان کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوسکتیں ہیں ۔ دور حاضر میں بچوں کو جدید ترین سہولتیں میسر ہیں جس کی وجہ سے اساتذہ اور والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے باعث بچوں کی توجہ تعلیم کی طرف سے ہٹ گئی ہے ۔ٹیلیویژن پروگرام ،ویڈیو گیم اورکمپیوٹرنے بچوں کی ساری توجہ اپنی طرف مبذول کرلی ہے ،یہ بات بڑی حد تک درست ہے لیکن سوفیصد درست نہیں ہے کیونکہ ویڈیو گیم اورکمپیوٹرکی ایجادات سے پہلے بھی والدین کو بچوں کی تعلیم میں عدم دلچسپی کی شکایات رہتی تھی ہرطبقے سے تعلق رکھنے والے والدین اور بچے مختلف انداز میں اپنی شکایات کا اظہار کرتے ہیں ۔بچوں اور والدین کی عمرمیں کم از کم بیس سے پچیس سال کا فرق ضرور ہوتا ہے جس کی وجہ سے بچوں اور والدین کی دلچسپی اور توجہ کے مراکز بھی مختلف ہوتے ہیں ۔بچوں کے ساتھ ان کے والدین کا برتاؤ ،لاڈ،پیاریامارپیٹ اور سمجھانے کے انداز بھی مختلف ہوتا ہے۔جیسا کہ اگر بچہ کوئی سوال کرے تو ہم عام طور پر جلدی سے اُسے جواب دے دیتے ہیں کہ آپ کو ابھی اس بات کا نہیں پتا۔اگر اہم بچوں کے سوالات کے جوابات نہیں دیں گے تو انہیں ساری زندگی کسی بات کا پتا نہیں چلے گا۔ہم نے کبھی یہ بات سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ سوال اُسی وقت کیا کیا جاتا جب کسی بات علم نہ ہو۔اب دیکھنے کی بات یہ کہ بچوں کے ساتھ والدین کا برتاؤتعلیمی معاملات میں آسانیا ں پیدا کررہا ہے یا مشکلات پیدا کررہا ہے۔اسی طرح اساتذہ کا طریقہ تدریس اور دوسرے عوامل بھی اس ضمن میں قابل غور ہیں ۔ہمیں یہ بھی ضرور دیکھنا لینا چاہئے کہ کیا بچوں کا رویہ کلاس روم میں اساتذہ کے لئے پریشان کن تو نہیں ہے اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ وہ کون سا رویہ یا مضمون ہے جس میں بچے کو مشکلات پیش آرہی ہیں ۔اور یہ بات بھی بہت زیادہ قابل غور ہے کہ مشکلات کی اصل وجوہات کیا ہیں ۔اگر بچہ کلاس روم میں خاموشی اختیا ر کئے رکھتا ہے اور کبھی کوئی سوال نہیں کرتا تو بچہ کلاس روم کے ماحول ناخوش اور تعلیمی سرگرمیوں میں بہت کمزور ہے۔ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کا خاص خیال رکھنا چاہئے کیونکہ بچے دنیا کا قیمتی ترین سرمایہ اور ہمارا آنے والا کل ہیں

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button