تازہ ترینکالم

بچپن کی دوستی

کسی بھی زمانے میں دوستوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ،ہر دور کا انسان ایک مخلص اور سچا دوست چاہتا ہے ، آج کی تیز رفتار اور شوشل میڈیا کے دور میں وقت کی اہمیت بھی بڑھ چکی ہے، شوشل میڈیا نے دنیا کو ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے، ہم دور ہوکر بھی ایک دوسرے کے پاس ہوتے ہیں، انسان وقت نکال کر ایک دوسرے سے ملنے کی بجائے شوشل میڈیا پر وڈیو کال کرکے فون پر بات کرکے اپنا مقصد پورا کر لیتے ہیں ، دوستی انسان کے عزیز ترین رشتوں میں سے ایک ہے، دنیا میں انسان غریب وہی ہے جس کا کوئی مخلص دوست نہیں ، ہمارے معاشرے میں تعلیم کی کمی، تربیت کے فقدان اور والدین کی لا پرواہی کے باعث اچھے دوست اور بہترین دوستوں کا تعین قدرے مشکل ہو چکا ہے، انسانی زندگی میں کئی نشیب و فراز ہوتے ہیں لیکن انسان کی پوری زندگی میں سکول کے دوستوں کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے، بچپن کی دوستی زندگی پر ایسے نقوش چھورٹی ہے جو کبھی نہیں مٹتے ، زندگی کی اس دوڑ میں اگر ایسے دوست مل جائیں تو بچپن واپس لوٹ آتا ہے، ایسا ہی حال کچھ گورنمنٹ ہائی سکول مصطفی آباد سال 1982/83کے کلاس فیلوز کا ہے، جنہوں نے گزشتہ چند ماہ سے اپنے ان درینہ دوستوں کو اکھٹا کیا اور طے کیا کہ زندگی کی اس دوڑ میں ہم اپنے لئے بھی وقت نکالا کریں گے اور ان دوستوں نے ہر ماہ کسی نہ کسی دوست کے ہاں جمع ہوکر ہلہ گلہ کرنے کا آغاز کر دیا اور بچپن کی یادیں تازہ کرکے اپنے زندگی کو انجوائے کرنا شروع کر دیا، ان دوستوں میں تاجروں، صحافیوں، سیاستدانوں، محنت کشوںاور سرکاری ملازمین شامل ہیں، جو ملک بھر میں اپنی اپنی زندگی کی مصروفت میں مصروف عمل ہیں ،انہیں دوستوں میں سے چند روز قبل گورنمنٹ ہائی سکول کے 1982کے طالب علم مصطفی آبادسے تعلق رکھنے والے منظور شاہین روپال نے پاکستان کی طرف سے ناینتھ ورلڈ سٹرینتھ لفٹنگ چیمپین شپ میں حصہ لیکر گولڈ میڈل اور سیلور میڈل جیت لیا،وطن واپسی پر ان کلاس فیلوز نے منظور شاہین کا شاندار استقبال کیا، گولڈ میڈل اور سیلور میڈل جیتنے پر پریس کلب مصطفی آباد للیانی رجسٹرڈ کی طرف سے ان کے اعزاز میں شاندار تقریب کا اہتمام کیا گیا، تقریب میں منظور شاہین کے 1982کے کلاس فیلوز نے بھر پور شرکت کی، مالا پہنا کراور پھولوں کے گلدستے پیش کرکے مبارکباد پیش کی، منظور شاہین روپال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں انٹرنیشنل سطح پرکرغزستان میں ناینتھ ورلڈ سٹرینتھ لفٹنگ چیمپین شپ کا اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان کی طرف سے میں نے شرکت کی ،ماسٹر ٹو میں پاکستان سمیت سات ممالک نے حصہ لیا، اس میں پاکستان کے علاوہ سعودی عرب، بنگلادیش، کرغزستان ، سری لنکااور انڈیا شامل تھے ، فائنل میں پاکستان، انڈیا اور کرغزستان کے درمیان مقابلہ ہوا اور تین راﺅنڈ کھیلے گئے ،فائنل راﺅنڈ جیت کر میں نے گولڈ میڈل اپنے نام کرلیاجبکہ بینچ لفٹنگ میںدوسری پوزیشن حاصل کرکے سلور میڈل اپنے نام کر لیا،انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے نجات دلا کر کھیلوں کے میدانوں کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں،کھیلوں کے میدان آباد کرکے ہی ہم اپنی آنے والی نسلوں کو منفی سرگرمیوں سے بچا سکتے ہیں ، پنجاب سپورٹس بورڈ کے تعاون سے سپورٹس کے پروگرام ہر ضلع میں منعقد کروانے جا رہے ہیں ، حکومت کو ہر شہر میں نوجوان نسل کو سپورٹس کے مواقع فراہم کرنا چاہئے ، مصطفی آباد میں زیر تعمیر ندیم سیٹھی سپورٹس کمپلیکس کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، اس موقع پر شیخ زاہد ، محمد جمیل سندھو ،عبدالحمید تبسم،جمیل مغل سمیت 1982کے کلاس فیلوز کی بڑی تعداد بھی ان کے ہمراہ موجود تھی، پریس کلب مصطفی آباد للیانی رجسٹرڈ کی طرف سے صدر محمد عمران سلفی نے منظور شاہین کومصطفی آباد کا نام روشن کرنے پر اعزازی شیلڈ دینے کا اعلان کیا، تقریب میں شریک محمد جمیل نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میںکلاس فیلوز کو یکجا کرنے پر منظور شاہین ، عبدالحمید تبسم ، شیخ زاہد سمیت دیگر دوستوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، منظور شاہین نے انٹرنیشنل سطح پر میڈل جیت کر ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ہے، آج ہم ان کی خوشی کو انجوائے کرنے کےلئے یہاں جمع ہوئے ہیں ، گورنمنٹ ہائی سکول مصطفی آباد تاریخی اہمیت کا حامل ہے، اس سکول سے بڑے بڑے نامور لوگ تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کی خدمت کر چکے اور کر رہے ہیں ، 1965کی جنگ میں اہم کردار ادا کرنے والے میجر جزل شہزادہ شیر محمد جان ، میاں محمد شریف برگیڈئیر ریٹائرڈ ہوئے ان کا تعلق بھی اسی سکول سے ہے، نامور ڈاکٹر شامل ہیں ، بارڈر کے قریب ہونے کے باوجود اس علاقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان تعلیم یافتہ ہیں ، 1965کی جنگ کے حوالے سے بھی مصطفی آباد شہر اہمیت کا حامل ہے ، جو پاکستان کا واحد مقام ہے جہاں پر 55شہدا دفن ہیں، آئندہ سال ان شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کےلئے بھی اپنا کردار ادا کریں گے کیونکہ ان شہدا میں میرا ماموں بھی شامل ہے، ہمارے کلاس فیلوز دوستوں نے وائٹ سائپ گروپ بھی بنا رکھے ہیں جس میں کلاس فیلوز گروپ، جگری گروپ اور فلاحی ایجنڈا گروپ بنا کر دوستوں کو الگ الگ پلیٹ فارم مہیا کر رکھا ہے، جس میں ہم ایک دوسرے کے دست و بازو بنتے ہیں اور ایک دوسرے کو دعاﺅں سے نوازتے ہیں، آج ہم جو کچھ بھی ہیں اپنے بزرگوں اور اساتذہ کی وجہ سے ہیں، ہم اپنے وفات پانے والے ٹیچرز کی مغفرت کےلئے بھی دعا گو ہیں ، 1965کی جنگ میں بارڈر ایریا سے تعلق رکھنے والے افراد نے پاک فوج کے شابشانہ حصہ لیکر جرات و بہادری کی داستانیں رقم کی، ہمارے سکول دور میں شہریوں اور طلبہ کو اپنے دفاع اور افواج پاکستان کے دست و بازو بننے کےلئے ٹریننگ دی جاتی تھی، اس دور کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت ہے، آئندہ چھ ستمبر کو مصطفی آباد میں آرام فرما 55 شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں واضع تبدیلی نظر آئے گی، عبدالحمید تبسم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم چھ ستمبر کے 55 شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کےلئے اصلاحی ڈرامہ پیش کیا کرتے تھے ، عرس شہیدان وطن منایا جاتا تھا ، لیکن آج ہم ان شہدا کی قربانیوں کو بھولتے جا رہے ہیں، ہم انتظامیہ اور صحافیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی اہمیت کو اجاگر کریں ، ان شہدا کے بارے میں ہمارے سکولوں میں آگاہی نہیں دی جاتی، ہمارے اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ ان شہدا کے بارے میں طلبہ کو آگاہی دیں ان شہدا کی قربانیوں سے آگاہ کریں کہ کس طرح انہوں نے کھیم کرن کے محاذ پر دفاع وطن کی ذمہ داریاں ادا کی اور ان کی قربانیوں کی وجہ سے ہی آج ہم آزادی کا سانس لے رہے ہیں ، ہمارے اساتذہ بچوں میں 1965والے جذبے کو بیدار کریں ہمیں افواج پاکستان کی ملک و قوم کی خاطر دی جانے والے قربانیوں سے آگاہی دی جائے، اس موقع پر پروفیسر حسن ملک اور بابائے صحافت مصطفی آباد بابا علیم شکیل کی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت کےلئے خصوصی دعا کی۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button