تازہ ترینصابرمغلکالم

بچے مر رہے ہیں کفن ہی بھیج دیں

sabir mughalروشینوں کے شہر کراچی سے 278کلومیٹر دورہندوستانی بارڈرسے ملحقہ صحرائی علاقہ تھرپارکر میں گذشتہ پانچ سال سے قحط کے عفریت نے پنچے گاڑ رکھے ہیں،2014میں معصوم کم سن بچوں سمیت سینکڑوں افراد ،ہزاروں جانور موت کی وادی میں اتر گئے،اموات کی انہی پروازوں کے دوران بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کے تاریخی مقام مونجودڑو پر ثقافتی ۔شو۔کا کامیاب انعقاد کیا تھا،ایک طرف موت کا رقص اور دوسری جانب میوزیکل رقص پر عوامی احتجاج سامنے آیا تو سندھ حکومت کا دھیان اس جانب آیا تب ضلع تھرپارکر کے صدرمقام مٹھی میں ۔ہوٹرز۔کی گونج کئی دن تک جاری رہی پروٹوکول کی دھول بے رونق،نا امید ،حسرت زدہ ،ڈھانچہ نما نیم مردہ چہروں کو مزید پریشان حال کرتی رہی البتہ یہ ضرور ہوا کہ اشرافیہ کی آمد پر ہونے والی ضیافتوں سے بچے کھانے نے یہاں کے بد حال اور خوراک کو ترستے لوگوں کی بھوک کسی حد تک ضرور مٹائی،وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بھی خیال آیا کہ ۔تھرپارکر۔پاکستان کا حصہ ہے جہاں موت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں،کئی منصوبوں کے اعلانات ہوئے،یہاں کے باسیوں کی تقدیر بدلنے کے دعوے سامنے آئے،ذمہ داران کے خلاف کاروائی کا اعلان ہوا،(مگر ایک ذمہ دار کے خلاف بھی کاروائی آج تک نہیں ہوئی)مٹھی کے اکلوتے سرکاری ہسپتال میں نئی تعیناتیاں کی گئیں ،ادویات کا ڈھیر بھیجا گیا،صاف پانی کے پلانٹس کی تنصیب کی گئی مگر وہ سب وقتی تھا، مٹھی کے ماتم کدوں پر جا کر رونے والی شکلیں بنانے والے وہاں سے جاتے ہی سب کچھ فراموش کر گئے،ہسپتالوں میں اب بھی عملہ نہ ہونے کے برابر اور جو ہے وہ اکثر غیر حاضر رہتا ہے ،ایمبولینسز مہیا کی گئیں مگر غرباء کو میسر نہیں،صاف پانی کے لئے جو چند پلانٹس لگائے گئے سب کچھ ناکارہ اور بے کار،اسی ریتلے علاقہ سے ارباب غلام رحیم مشرف دور میں سندھ کے وزیر اعلیٰ بنے مگر وہ بھی اس حوالے سے پتھر دل ثابت ہوئے، پیپلز پارٹی نے وفاق میں پورے پانچ سال نکالے( جس پر انہیں بہت فخر ہے)،8سال سے سندھ میں بھی انہی کی حکومت ہے سائیں سرکار کی۔حکمرانی خراٹے۔بھی تواترسے جاری ہیں،یہ دو بڑی پارٹیوں میں شامل بر سر اقتدار طبقہ کو ذرہ شرم نہ آئی کہ ایک زرعی اور دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی قوت میں ۔قحط۔کتنا گھمبیر اور ہولناک مسئلہ ہے،انتہائی مہارت سے بجٹ ہضم کر جانے والے اس اعلیٰ طبقہ نے تھرپارکر کے باسیوں کے لئے کوئی واضح اور جامع پالیسی بنانا گوارا نہ کی،2016میں بھی تھرپاکر میں غذائی قلت ،وبائی امراض اور طبی سہولیات نہ ہونے پر اموات کا سلسلہ جاری ہے،10روز کے دوران45معصوم بچوں کی ہلاکت ہو چکی ہے،تھرپارکر دنیا کا سب سے بڑا Fertiliseصحرا ہے تھرپارکر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر۔مٹھی۔کو تھرپارکر کا دل کہا جاتا ہے،مٹھی پاکستان کے ان چند چھوٹے شہروں میں سب Town ہے جس میں ہندو کمیونٹی سب سے زیادہ ہے یہاں کی ٹوٹل آبادی کا80فیصد ہندو ہیں قیام پاکستان سے لے کر آج تک یہاں کی مسلم اور ہندو کمیونٹی میں کوئی تنازعہ سامنے نہیں آیا،تھرپارکر کے اس دل میں تعلیم ،صحت جیسی سہولیات کسی ڈراؤنے خواب کی شکل اختیار کر چکی ہیں،سندھ کے وزیر خوراک ناصر شاہ میڈیا کے سامنے کہہ رہے تھے سندھ حکومت پوری طرح کام کر رہی ہے ،ان بچوں کی اموات کو میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے،کیا ہی اچھا ہوتا وزیر موصوف ان معصوم لخت جگروں کی اموات کا ذمہ دار بھی صحافیوں کو ہی ٹھہرا دیتے جو وہاں جا کر ان کے گلے گھونٹ رہے ہیں؟جو کام سندھ حکومت کر رہی ہے اس سے قوم کا ہر فرد بخوبی آگاہ ہے،ابھی تو حکومتی سیاہ کاریوں کے چشمے ہر سرکاری ادارے سے رواں ہیں،اندرون سندھ کی حالت بدتر ہے ،سندھ کے دیہی علاقہ میں صوبہ کی کل آبادی کا52فیصد آباد ہے،ٹھٹھہ،بدین،عمر کوٹ،میر پور خاص،دادو اور سانگھڑ میں بھی صاف پانی کی شدید قلت ہے،دیہی سندھ میں وڈیرہ راج ہے ان کی اپنی عدالتیں، جیلیں اپنی ا ور نظام اپنا ہے جس کے آگے نہ وفاقی حکومت کی رٹ ہے اور نہ ہی صوبائی حکومت کی ،یہ وڈیرے یہ جاگیر داربے تاج بادشاہ ہیں ۔غیر سرکاری تنظیم ۔سپارک۔کی رپورٹ کے مطابق انہیں نے صرف2015میں سندھ میں 18ہزار سے زائد کسانوں ،مزدوروں اور ہاریوں کو جبری مشقت سے نجات دلائی، عمر کوٹ کی مقامی عدالت کے حکم پر گیارہ ہزار سے زائد کسانوں کو رہائی مل چکی ہے،عمر کوٹ کے رہائشی ۔جئے کمار ۔کے مطابق وہ سکول میں زیر تعلیم تھا جب اس کے والد کا انتقال ہو گیاجس کے ذمہ10 ہزار روپے کا قرض تھا وڈیرے نے جئے کمار کو حکم دیا کہ سکول جاناچھوڑ کر کام کرے تا کہ رقم کی واپسی ممکن ہو،جئے کمار کے مطابق اس نے60ہزار روپے واپس کر دئے قرضہ پھر بھی ختم نہ ہوا تب وہ وہاں سے بھاگ نکلا،عمر کوٹ شہر کے قریب جبری مشقت سے نجات پانے والوں کا باقاعدہ کیمپ ہے جہاں پانی،بجلی اور سکول جیسی سہولت کا نام و نشان تک نہیں جب ان لوگوں کو ان سندھی فرعونوں سے نجات نصیب ہوئی تو یہ چند برتن،بستر اور چارپائی لے کر اس کیمپ میں آ گئے،عوام دوست پیپلز پارٹی اور بڑے سائیں سرکار کے صوبہ سندھ میں ایسے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ، ایک رپورٹ کے مطابق سندھ میں 71فیصد لوگ غذائی قلت کا شکار ہیں،تھرپارکر میں اوسطاً سالانہ400بچے غذائی قلت اور وبائی امراض کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں,ان جان لیوا وجوہات کا حل کس نے نکالنا ہے اور کب نکالنا ہے؟یہ ارباب اقتدار کی مجرمانہ غفلت ہے ،ایک طرف تھرپارکر کی عوام ماتم کناں ہے اور دوسری جانب حکومت گہری نیند میں مدہوش ہے،ان اموات پر وفاقی حکومت کی خاموشی بھی شرمناک ہے،وزیر اعظم کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف عرف خادم اعلیٰ کی حکومتی نگری میں واقع سرگودھا ،وہاڑی اورفیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال میں بھی سینکڑوں بچوں کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئیں،خادم اعلیٰ کے حکم پرتحقیقاتی کمیٹیاں قائم ہوئیں مگر آج تک کسی ایک بھی ذمہ دار کو ۔کچھ۔نہیں ہوا،دسمبر میں لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں بھی روزانہ کی بنیاد پر بچوں کی اموات ہوئیں مگر ایسی کوتاہیوں،غفلتوں کا کوئی ذمہ دار نہیں کیونکہ یہ جو بچے مرے ہیں یا مر رہے ہیں ان کا تعلق اس طبقہ سے ہے جو صرف غلامی کے لئے پیدا ہوا ہے ۔اقتدار کی راہداریوں میں رہنے والے انہیں خوراک،غذایا طبی سہولیات تو نہیں فراہم کر سکتے انہیں وافر مقدرار میں ۔کفن۔ہی فراہم کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں  شوگر انکوائری کمیشن کی فرانزک رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker