انور عباس انورتازہ ترینکالم

بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے

anwar abasسیاست ہو یا کھیل کا میدان۔۔۔یا پھر قانون کی عدالت ہو۔۔۔جیت اسی کا مقدر بنتی ہے ۔یا مقدر کا سکندروہیں ہوتا ہے جو اپنے مدمقابل کی طاقت کا صحیح ادراک رکھتا ہے۔لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ کئی مقدمات میں لوگ وکیل بھی ایسا کرتے ہیں جسکی قابلیت عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہوتی ہے ۔دلائل بھی وہ ایسے پیش کرتا ہے کہ دنیا کی نظروں میں کیس وہ وکیل جیتتا دکھائی دیتا ہے مگر جب فیصلہ سامنے آتا ہے وہ لوگوں کی سوچ اور رائے سے مختلف ہوتا ہے۔۔۔۔بعض اوقات ہماری عملی زندگی میں ایسا بھی ہوتا ہے۔اور اس کے لیے ججز کے پاس مختلف دلیلیں بھی ہوتی ہیں۔عدالت کہہ دیتی ہے کہ وکیل صاحب اپنی تمام تر قابلیت اور صلاحیت کے باوجودعدالت کو اپنے موقف کے حق میں قائل نہیں کر سکے۔اور وہ اپنا حق دعوی بھی ثابت نہیں کر سکے ۔اور نہ ہی وکیل صاحب اپنی نیک نیتی کے حق میں ٹھوس ثبوت فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔عدالت چاہے چھوٹی ہو یا بڑی اس کے حق سماعت اور اسکاحق فیصلہ کوکوئی نہیں چھین سکتا۔عدالت کو کوئی اس کے اس حق سے محروم نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی اسے زبردستی کسی کے حق میں فیصلہ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔اگرعدالت کسی فریق کو ریلیف دینا چاہے تو اسکے لیے کسی کی جانب سے آئینی درخواست دائر کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی ۔ عدالت اس مقصد کے لیے از خود نوٹس لے سکتی ہے اور عدالت اپنے رجسٹرار کے کسی خبر پر نوٹ کو بھی پٹیشن میں تبدیل کرکے متاثرہ اور غیر متاثرہ فریق کو انصاف فراہم کرنے کا حق رکھتی ہے۔کیونکہ عدالت اس فریق کو ریلیف دینے کا اصولی فیصلہ کر چکی ہوتی ہے۔لیکن اگر عدالت کسی کو ریلیف نہیں دینا چاہتی تو وہ لاکھ پٹیشنز دائر کرلیاسکی تمام درخواستیں رجسٹرار صاحب ہی اعتراض لگا کر واپس کرنے کے اختیار رکھتا ہے۔بعض سائیلین کی تو مثلیں بھی عدالت کے ریکارڈ سے ادھر ادھر ہو جاتی ہیں۔تلاش کرنے سے بھی انہیں دستیاب ہوتیں۔ایک عدالت میں چودہری اعتزاز احسن چیف جسٹس صاحب کے خؒ اف دائر ریفرنس کو جوڈیشل کونسل سے اٹھا کر عدالت عظمی کے روبرو لے جاتے ہیں۔اور عدالت میں اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کے انبار لگا دیتے ہیں ۔عدالت انکے دلائل سے مطمئن ہوتی ہے اور اپنے فیصلہ سناتی ہے اور ریفرنس کو اٹھاکر حوالہ آتش کر دیتی ہے۔اور معزز ججز اپنے چیف جسٹس کو پوری عزت اور احترام کے ساتھ انکے عہدے پر بحال کرتی ہے۔پھر کچھ عرصہ بعد وہیں اعتزاز احسن اپنی سمت تبدیل کرتا ہے اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے وکیل کی حثیت میں ایک بار پھر عدالت کے روبرو اپنی زہانت کے جوہر دکھاتا ہے۔مگر عدالت انکے دلائل پر کان نہیں دھرتی ویسی توجہ کے ساتھ انہیں نہیں سنا جاتا جیسی توجہ چیف جسٹس صاحب کی وقت دئیے گے دلائل کے دوران دی گئی تھی۔اندھروں کو بھی دکھائی دے رہا تھا کہ عدالت کیا سچ رکھتی ہے اور اسکا فیصلہ چودہری اعتزاز احسن کے خلاف ہوگا۔پھر ایک اور وقت آتا ہے کہایک غیر ملکی جس کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ۔اسکا ماضی پاکستان دشمنی سے لبریز ہے ۔۔۔داغدار ہے ۔۔۔پاکستان دشمنی اسکے رگ و پے میں رچی بسی ہوئی ہے۔۔۔وہ غیر ملکی اخبارات میں پاک فوج کے خلاف مضامین لکھنے میں بے مثال شہرت رکھتا ہے۔یک دم اسکے ایک آرتیکل کو بنیاد بنا کر صدر پاکستان اور امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کے خلاف عدالت عظمی کے روبرو اپنے میاں نواز شریف اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ درخواست دائر کرتے ہیں۔میری مراد منصور اعجاز کے مبینہ میمو سے ہے۔عدالت اس منصور اعجاز پر اس قدر مہربان ہوتی ہے کہ اسکا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے ایک کمیشن باقاعدہ لندن بھیجا جاتا ہے وڈیو لینک سے اسکا بیان ریکارڈ کیا جاتا ہے ۔یہ وہ منصور اعجاز ہے جس کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تک نہیں ہے۔لیکن اسکی بات انتہائی توجہ اور انہماک سے سنا گیا۔اور یہ عالمگیر شہرت کا حامل میمو کیس آجکل عدالت کے روبرو زیر سماعت ہے اور پاکستان کاپاسپورٹ رکھنے والے حسین حقانی کو پاکستان لانے کے لیے بہت کوششیں کی جا رہی ہیں۔پھر ایک اور موسم آتا ہے۔۔۔یہ موسم شیخ الاسلام حضرت علامہ طاہر القادری کی عدالت عظمی میں پیشی کا موسم ہے۔۔۔منظر ملاحظہ کیجئے شیخ الاسلام علامہ طاہر القادری کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کے لیے آئینی درخواست دائر کرتے ہیں۔۔۔عدالت کے روبرو پیش ہوتے ہیں۔۔۔لیکن عدالت انکی دوہری شہریت پر بحث کر تی ہے ۔ اسکی نیت پر شبہ کیا جاتا ہے اسے ایک سازشی قرار دیا جا تا ہے۔تین دن میں اسے یہ کہہ فارغ کر دیا غیا کہ وہ اپنا حق دعوی ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔عدالت کسی غیر ملکی کو نظام تلٹ پل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔قابل فہم بات یہ ہے کہ منصور اعجاز پیدائشی امریکن تھا اسکا پاکستان سے کسی قسم کا تعلق واسطہ بھی نہیں تھا ۔۔۔اسکی شہرت پاکستان کے بارے میں اچھی نہ تھی بلکہ اسکا دامن پاکستان دشمنی کے داغوں سے بھرا پڑا تھا۔ اسکے پاس امریکن پاسپورٹ تھا جبکہ شیخ الاسلام پیدائشی پاکستانی ہیں۔انکے پاس پاکستانی شہریت بھی ہے۔ان کا دامن پاکستان دشمنی جیسے ناپاک الزامات سے بھی پاک و منزہ ہے۔لیکن منصور اعجاز اپنی تمام تر پاکستان دشمنی کے باوجود ہماری عدالت عظمی کی آنکھ کا تاراٹھرتاہے۔۔۔اور پاکستان کا بیٹا جسکا لو لو پاکستان کی ترقی اور عظمت کا قائل ہے۔۔۔وہ مطعون اور ملعون قرار پاتا ہے۔ہماری عدالتوں کے ایسے ہی فیصلے محب وطن پاکستانیوں کو پاکستان کے باغی بنانے میں اپنا رنگ جماتے ہیں۔اور غیر ملکی پاکستان دشمنوں کو اپنا کھیل کھیلنے کے حوصلے بخشتے ہیں ۔ اعتزا ز احسن اور طاہر القادری کے ساتھ روا رکھے جانے والے عدالت سلوک کو دیکھتے ہوئے مجھے لاہور ہائی کورٹ کے وہ دن یاد آ گے ہیں جن دنوں مولوی مشتاق حسین کی عدالت میں بھٹو شہید کا مقدمہ سنا جا رہا تھا۔۔۔اس عدالت میں بھی بھٹو شہید کے وکلاء کے دلائل ایسے ہی نظر انداز کیے جاتے تھے اور بھٹو شہید کے مخالف وکلاء کو مدد اور تعاون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں انتہائی توجہ اور انہماک سے سنا جاتا تھا۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے بھٹو شہید کے روپ میں زندہ ہے اور متعصب ججز کا کوئی نام نہیں لیتا۔طاہر القادری اور اعتزاز احسن کو لوگ کل کس نام سے یاد کریں گے۔۔۔سب سامنے نوشتہ دیوار پر لکھا ہوا ہے۔عدالت عظمی میں منصور اعجاز اور شیخ الاسلام علامہ طاہر القادری کی پیشی کے موسم دیکھ کر ہی شاعر نے کہا ہوگا ۔۔۔بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے ۔۔۔علامہ طاہر القادری ایک بار پھر اپنے پاکستان سے کنیڈا روانہ ہوگے ہیں۔میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ شیخ الاسلام ہماری عدالتوں کے روئیے سے دل برداشتہ ہو گے ہیں۔لیکن مجھے اتنا ضرور دکھ ہوا ہے۔کہ ہماری عدالت نے ایک ملک اور پاک فوج کے ازلی دشمن منصور اعجاز کے مقابلہ میں شیخ الاسلام علامہ طاہر القادری کو اہمیت نہیں دی۔آنے والا مستقبل کا مورخ ہماری عدالتوں کے اس طرز عمل کو کیسے رقم کرتا ہے۔یہ فیصلہ تاریخ پر چھوڑتے ہیں۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button