تازہ ترینکالم

سانحہ بادامی باغ۔۔۔لاقانونیت کی انتہاء ؟

atiqہفتہ کے روز لاہور کے علاقے بادامی باغ میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا۔جس کو دیکھ کر ایک ذی شعور انسان کا ندامت و شرمندگی کے باعث سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ انسان اس قدر ظلم وبربریت کی حدیں پار کر سکتا ہے ۔ اسلام ہمیں کسی بھی حالت میں ہوش و ہواس کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کا درس نہیں دیتا۔نبی مکرم ﷺ کے زمانے میں بہت سے ایسے واقعات پیش آئے کہ مسلمان جذباتی ہو کر حملہ کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جاتے تھے چونکہ ان واقعات سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوجاتے تھے ۔مگر پھر بھی آپﷺ انہیں روک دیتے تھے جیسے ایک بدو کا مسجد میں قضائے حاجت کا واقعہ اس امر کا شاہد ہے کہ اس واقعہ پر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ۔ایسے واقعہ پیش آجانے پر حضورﷺ برائی اور غلطی کو روکنے اور ختم کرنے کے لیے نہ تو خود سلبی طریقہ اختیار فرماتے اور نہ ہی اپنی پیاری جماعت صحابہ کرام کو اس امر کی اجازت دیتے بلکہ ہمیشہ ایجابی طریقہ اختیار فرماتے تھے اورصحابہ کرامؓ کو اسی طریقہ کے اختیار کرنے کی تلقین فرماتے۔
سانحہ بادامی باغ کا پس منظر جو اب تک میڈیا کے ذریعہ معلوم ہوسکا ہے وہ یہ ہے کہ شاہد عمران اور اس کے دوست شفیق ایک دوکان پر اپنی ضرورت کی چیز خریدنے کھڑے تھے وہاں پر بعض وجوہات کے سبب ایک مسیح ساون نامی سے تلخ کلامی ہوئی جس کے نتیجے میں بات اس حد تک بگڑی کہ ساون مسیح نے نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کر کے اپنے دل کی بھڑاس ٹھنڈی کی بقول شاہد کے کہ میں نے اسے منع کرنے کی کوشش کی تو اس نے مجھ پر تشدد بھی کیا اور گستاخی بھی کرتا رہا۔جس کے بعد شاہد نے قریبی تھانے گیا اور رپورٹ درج کرادی۔پولیس نے رپورٹ درج ہونے کے سبب کارروائی کرتے ہوئے جمعہ کی شب ساون مسیح کو گرفتار کر لیامگر اس خبر کے علاقے میں پھیلتے ہی کہرام مچ گیا۔ہفتہ کے روز مشتعل مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے روڈ پر نکل آئے اور ساون مسیح کی حوالگی کا مطالبہ کرتے رہے کہ ہم اس گستاخ کو سر عام سزا دیں گے ۔اس کے بعد مظاہرین نے مسیحی آبادی کی طرف بڑھے اور انہوں نے مسیحیوں کے گھروں کو آگ لگانا شروع کردی۔ اس آگ کے نتیجے میں تقریباً170گھر و دوکانیں اور چرچ آگ کی نذر ہوگئے۔اورمشتعل مظاہرین نے بے قابو ہو کر پولیس اور امدادی ٹیموں اور ریسکیو اہلکاروں پر پتھراؤبھی کیا جس کے سبب 25افراد زخمی ہوئے۔مسیحی آبادی جو کہ واقعہ سے ایک دن خالی کردی گئی تھی جس کے سبب کسی مسیح کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔اس واقعہ کو پولیس کنٹرول کرنے سے عاجز آگئی تو اس نے علماء سے مدد طلب کی بادشاہی مسجد کے امام مولانا ابوالخبیر آزاد سمیت متعدد علماء نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو پرامن کیا جس کے بعد مظاہرین علماء کے حوصلہ اور پولیس کی یقین دہانی پر منتشر ہوگے۔یہ واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی کئی ایسے واقعات وقوع پذیر ہوچکے ہیں۔
اس سارے منظر نامے کو سامنے رکھنے کا مقصد یہ ہے کہ صورتِ مسئلہ واضح ہوسکے۔یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستانی عوام میں انتہاپسندی و لاقانونیت انتہاء کی حد تک راسخ ہوچکی ہے ۔جہاں پر آپس کے ذاتی و نزعی مسئلہ پر گستاخانہ کلمات کہنے میں عار و شرم محسوس نہیں کی جاتی وہیں پر ایسی صورت حال پیدا ہوجانے کے بعد اس کو قانونی طور پر حل کرنے کی بجائے قانون کے اپنے ہاتھ میں لے لیا جاتا ہے۔اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ہر دو امر انتہاپسندی و بے حمیتی کی بدترین مثال ہیں۔اس واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
اس واقعہ کے رونماہونے سے جہاں پر ظلم و بربریت کی بدترین مثال قائم ہوئی و ہیں پر اب بہت سے سوالات بھی پیدا ہوگئے ہیں کہ شاہد عمران اور ساون مسیح کے مابین کوئی ذاتی جھگڑا تو نہیں تھا؟کیا شاہد اور ساون دونوں نشہ کی حالت میں تھے؟ واقعہ کی رپورٹ درج ہونے اور ملزم کی گرفتار ہوجانے کے بعد احتجاج کرنا کوئی سوچی سمجھی سازش تو نہ تھی؟مسیحی برادری اپنی آبادی کیوں خالی کرگئے کیا انہیں پہلے سے باخبر کردیاگیاتھایاپھر کوئی سیاسی سازش نہ تھی؟گستاخی کے واقعہ کے علم ہونے کے باوجود پولیس اور انتظامیہ خواب غفلت میں کیوں ڈوبی رہی ؟اور اس نے مسیحی آبادی کی حفاظت کا انتظام کیوں نہ کیا؟کیا اس سانحہ بادامی باغ کے واقعہ کی آڑ میں اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے اورہدف تنقید بنانے کی سازش تو نہیں؟گستاخی ایک نے کی اس کی سزا بے گناہ مسیح لوگوں کے گھروں کو جلانے کی صورت میں کیوں دی گئی؟
یہ مندرجہ بالا چند ایک سوالات ہیں ان کے جوابات کا پوری قوم کو شدت سے انتظار رہے گا۔بہر حال اب یہ واقعہ پیش آچکا ہے اور اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ آئندہ ایسے واقعات کے رونماہونے سے قبل ایسی منصوبہ بندی کی جائے کہ دوبارہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہ ہوسکے ۔اگر بادل ناخواستہ گستاخی کا ناخوشگوار واقعہ پیش آ بھی جاتاہے یا اس طرح کے واقعات کو وقوع پذیر ہونے سے بچانے کے لیے ، حکومت ،میڈیا اور علماء سے وابستہ افراد کو اپناکردار اداکرنا چاہیے۔حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ توہین رسالت ﷺ کے قانون پر عمل درآمد کو ممکن بنائیں اور جب بھی کوئی ایسا ناخوشگوار واقعہ پیش آئے تو فی الفور کارروائی کریں۔ میڈیا کو چاہیے کہ عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے اپنی خدمات پیش کریں اور اپنے دائرہ اختیار میں قانون کی اہمیت اور لاقانونیت کے نقصانات کی نشاندہی کریں ۔اگر کسی مقام پر ایسا ناخوشگوار واقعہ پیش آجاتا ہے تو اس کو بریکنگ نیوز بنانے کی بجائے مسئلہ کو حل کرانے کی کوشش کریں اور ہر سنسنی پھیلانے سے احتراز کرتے ہوئے اس بات پر لازم توجہ دیں کہ ایسی خبر کے جاری ہونے سے اسلام اور ملک پاکستان کی جگ ہنسائی تو نہیں ہوگی ۔علماء کرام کو چاہیے کہ عوام الناس کو اپنے بیانات میں قانون شکنی کے نقائص سے آگاہ کریں اور اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں ایسے نازک حالات کو قابو پانے کے طریقہ کار سے آگاہ کریں۔اور اقلیتوں کے حقوق سے بھی عوام میں آگہی پیدا کریں تا کہ نادیدہ قوتیں اسلام و پاکستان کے خلاف اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہوسکیں۔اور سانحہ بادامی باغ جیسے انتہاپسندی اور لاقانونیت پر مبنی واقعات کے واقعہ ہونے سے ملک کو محفوظ بنایا جاسکے۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button