رپورٹس

گذشتہ سال بدین ضلع میں آنے والے سیلاب میں جہاں لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے تھے

بدین﴿نامہ نگار﴾ گذشتہ سال بدین ضلع میں آنے والے سیلاب میںجہاں لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے تھے وہاں پانی کے سیلاب نے لاکھوں ایکڑ زرعی زمینوں کو اپنی لپیٹ میں لیکر زمینوں پر کھڑی خریف کی زرعی فصلوں کومکمل طور پر ختم کر دیا جس سے بدین ضلع کے خاص طور پر تحصیل بدین، ٹنڈوباگو،گولارچی کے چھوٹے بڑے ہزاروں کاشتکاروں کو معاشی طور پر تباہ کر دیا تھا وہاں پر ان زمینوں پر کام کر نے والے ہزاروں کسان خاندانوں کی جمع پونجھی زرعی فصل جس پر پورا سال ان کے گھروں کے چولہے جلتے تھے،سیلاب نے ان سے منہ کا نولا بھی چھین لیا تھا اور کاشکاروں سمیت ہزاروں کسان بھی دربدر ہو گئے تھے جیسے ہی سیلابی پانی کھیتوں سے نکاس ہوا کھیت کاشت کے لائق ہوئے تو دوبارہ خریف کے فصل کی کاشت جس میں چاول کا فصل سب سے زیادہ کاشت کیا جاتا ہے کی کاشت کرنا شروع کر دی ہر سال خریف کی فصل کے لئے بدین ضلع کی مذکورہ تینوں تحصیلوں کو فصل کی کاشت کے لئے15 اپریل سے پھلیلی کئنال سے زرعی پانی فراہم کیا جاتا ہے،90 دن کے اندر چاول کی کاشت مکمل کی جاتی ہے ستمبر تک فصل پک جاتی ہے اور اکتوبر میں فصل اُترتی ہے ، لیکن سیلاب متاثرہ تباہ حال کاشتکاروں ،کسانوں کے لئے اسی سال خشک سالی کا طوفان آیا ہوا ہے ،15 اپریل سے مہیا کیا جانے والا زرعی پانی تین ماہ گذرنے اور خریف کی فصل کی کاشتکاری کا مقرر وقت گذر جانے کو ہے ، محکمہ انہار کی جانب سے بدین کو زرعی پانی مہیا نہیں کیا گیا ہے جس کے باعث کاشتکاروں کی جانب سے اپنی زمینوں کو کھیتی لائق بنانے کیلئے کیئے گئے لاکھوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے 15 اپریل سے پہلے نہروں اور شاخوں میں کھڑے پانی سے جن کاشتکاروں نے کھیتوں میں بھیج بو یئے تھے اس کو وقت پر پانی نہ ملنے اور تیز طوفانی ہوائوں اور مٹی کے باعث وہ بھیج بھی جل گئے ہیں،اس وقت نہروں اور شاخوں میں پانی کی جگہ ریت اُڑ رہی ہے ، پانی کی قلت کے باعث کاشتکاری اپنی جگہ پر بدین ضلع کی تینوں تحصیلوں بدین، گولارچی ، ٹنڈوباگو کے ہزاروں گائوں گوٹھوں کے لاکھوں لوگ پینے کے پانی کیلئے بھی ترس گئے ہیں چند ایک این جی اوز کی جانب سے بدین کی ساحلی پٹی میں پانی اسٹور کرنے کے لئے کچھ چھوٹے تالاب بنائے گئے تھے ان تالابوں سے پینے کا پانی حاصل کرنے لئے گائوں کے عورتیں کئی میل پیدل چل کر پانی بھرنے آتی ہیں ،ان تالابوں میں بھی پانی چند دنوں کا رہ گیا ہے،ایک ہفتہ پہلے بدین سے منتخب قومی اسیمبلی کی اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے دربار ھال بدین میں محکمہ انہار کے سیکریٹری سمیت محکمہ کے افسران اور سیڈا کے زمہ داران سے بھرپور میٹنگ کی جس میں انہوں نے بدین کو زرعی پانی کی سپلائی نہ ہونے اور بدین کے حصے کا پانی سکھر بئراج کے با اثر زمینداروں کو چوری سپلائی کرنے پر چیف انجنیئرسکھر بئراج کو طلب کرنے کے باوجود ان کی میٹنگ میں عدم شرکت کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری کو جواب طلبی کا نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا تھا اور تین دن کے اندر بدین کو پانی فراہم کرنے کی تنبیہہ کی سیکریٹری محکمہ انہار کی یقین دہانی کے باوجود قومی اسیمبلی کی اسپیکر کے حکم پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ہے نہ ہی بدین کو زرعی پانی فراہم کیا گیا۔ وفاقی اور سندہ کی حکومت سندہ میں امکانی بارشوں اور سیلاب سے نمٹنے کے لئے پہلے سے تیاری کے سلسلے میں اجلاسوں ، دئوروں پر لاکھوں روپے خرچ کر رہی ہے اور ڈزاسٹر مئنیجمینٹ کے افسر شاہی اربوں روپے کے فنڈز کی فراہمی حکومت سے طلب کر رہی ہے ۔لیکن بدین ضلع میں اس وقت پانی کی شدید قلت کے باعث شروع ہونے والے خشک سالی کے طوفان اور سیلاب سے جو آئندہ دنوں میں آنے والے قحط اور معاشی تباہی پر قابوپانے اور لاکھوں لوگوں کو بھوک ، پیاس اور بیروزگاری سے بچانے کے لئے کوئی اقدام کرنے سے کیوں قاصر ہے، یہ ایک سوالیہ نشان ہے؟
دوسری طرف بدین کے آبادگاروں کی نمائندہ تنظیم آبادگار ایسوسی ایشن نے بدین کے حصے کا پانی فراہم نہ کرنے اور اس سے ہونے والے معاشی بحران کا ذمہ دار پھلیلی کئنال اور سکھر بئراج کے چیف انجینیئرز ،سیڈا بدین کے چیئرمین اور منتخب نمائندوں کو قرار دیا ہے ، آبادگار ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ اور سندہ ہائے کورٹ کے چیف جسٹس کو ازخود نوٹس لیکر عدالتی کمیشن بنا کر اس معامرے کی تحیقات کرا کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کی اپیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker